مہناز اختر

اس مضمون کے کلیدی الفاظ ’’فتح دیبل‘‘، ’’غزوہ ہند‘‘، ’’محمد بن قاسم‘‘ اور ’’آصفہ‘‘ ہیں۔ یقیناً آپ یہی سوچ رہے ہونگے کہ ابتدائی تین الفاظ کا ’’آصفہ‘‘ سے کیا ربط ہے۔ بعض اوقات معلومات کے موضوعات مختلف ہونے کےباوجود بھی بے ربط نہیں ہوتے بلکہ ایک بڑے Jigsaw puzzle کے چھوٹے چھوٹے حصّوں کی مانند ہوتے ہیں اور کبھی اچانک ہی جڑ کر آپ کو ایک بڑی تصویر کے ذریعے ایسی حقیقت دکھاتے ہیں جو آپ کے معاشرے کی جزوی یا کلّی سوچ کی عکاس ہو۔

کشمیر میں بہیمانہ طریقے سے جنسی زیادتی کے بعد قتل کردی جانے والی معصوم آصفہ سے متعلق چلنے والی خبریں گزشتہ کئی ہفتوں سے گردش میں ہیں مگر سوشل میڈیا پر آصفہ سے ہٹ کردوسرا مواد بھی میری نظروں کے سامنے سے گزرا جن کی مدد سے مجھے ایک بڑی تصویر پر غور کرنے کا موقع ملا۔ سب سے پہلے تو میں اس مواد کو اُسی ترتیب سے نقل کردیتی ہوں جس ترتیب سے میں نے انہیں پڑھا۔

13 اپریل ، رجّب طیّب ایردوان-اردو کی پوسٹ ، ” ترکی فتحِ استنبول پر سرکاری جشن مناتا ہے، کیا آپ (پاکستانی) فتحِ دیبل مناتے ہیں؟ تاریخ صرف ماضی کی کہانی ہی نہیں،مستقبل کا قطب نما ہوتی ہے”

16 اپریل ، سیّد زید حامد آفیشل کی پوسٹ ، “ممبرز ہمارے پاس غزوہ ہند کے بیجز اور میری کتاب “شاد باد منزلِ مراد” کے اسٹاک محدود ہیں۔ لہذا یہ کتاب اور غزوہ ہند کا بیج مبلغ ایک ہزار روپے کے آرڈر پر جلد از جلد منگوالیں اور اس بیج کو فخر سے پہنیں کیونکہ یہ ایک حلف ہے کہ ہم غزوہ ہند کے لیئے تیار ہیں”

اسی طرح آصفہ کی تصویر کے ساتھ سوشل میڈیا پر پھیلایا جانے والا یہ پیغام ” اے محمد بن قاسم کے بچوں ، اے پاک افواج تم نے محمد بن قاسم سے کیا سیکھا ،کیا تم اس سر زمین کو آزاد نہیں کراؤں گے جہاں مسلمان بچیوں کی عصمت دری کرکے انہیں قتل کردیا جاتا ہے ؟ اٹھو اور پھر سے خلافت قائم کرو”

ہمارے پاس غزوہ ہند سے متعلق پانچ روایتیں موجود ہیں یوں تو “علم اصول حدیث” کے تحت مذ کورہ احادیث کی صحت و ضعف پر بھی بحث کی جاسکتی ہے لیکن فی الحال یہ میرا موضوع نہیں ہے تو ہم اسکے دوسرے پہلو پر نظر ڈالتے ہیں۔ عام طور پر غزوہ ہند سے متعلق تین آراء پائی جاتی ہیں۔

(پہلی رائے) غزوہ ہند کا فیصلہ کن معرکہ ہوچکا ہے اسکی ابتدا محمد بن قاسم نے کی اور اسکا منتہیٰ قیام پاکستان ہے۔ کیونکہ مذکورہ روایت میں ہند کے ساتھ سندھ کا تذکرہ بھی ہے تو اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ معرکہ اختتام پزیر ہوچکا ہے اور اب اس سرزمین پر اسلامی حکومت قائم ہے ۔ یہی تاثر ہمیں ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان کے پیغام سے بھی ملتا ہے۔
(دوسری رائے) غزوہ ہند کی احادیث میں اخیر زمانے( قرب قیامت) کے حالات واقعات کا بھی ذکر ہے تو فی الحال دور دور تک اس معرکہ یا جنگ کا کوئی امکان نہیں۔

(تیسری رائے ) غزوہ ہند عنقریب پاکستان اور ہندوستان کے درمیان لڑی جانے والی جنگ ہے جسمیں مجاہدین پاک افوج کا ساتھ دیں گے اور ہند کلی طور پر فتح ہوجائے گا ۔ یہی وہ نظریہ ہے جسکا پرچار زید حامد سمیت حزب المجاہدین اور لشکر طیبہ جیسی تنظیمیں بھی کرتی ہیں۔

بحیثیت قوم ہماری سوچ تعمیری دھاروں پر بہنے کے بجائے جنگ زدہ اور تخریبی ہوچکی ہے۔ ہم نے امن و صلح، تعمیر وترقی ،علم و اخلاق اور انسانیت سے متعلق تمام احادیث کو پس پشت ڈال دیا ہے اور ہمیں صرف اور صرف جنگ و قتال سے متعلق روایتیں یاد کروائی جارہی ہیں۔ مخصوص بیانیوں کے ذریعے اس قسم کی ذہن سازی کی جارہی ہے کہ ہم اختلاف رائے رکھتے ہوئے چند بنیادی سوال اٹھانے کی ہمت بھی نہیں رکھتے۔ جیسے کہ آپ کو یہ پڑھایا جاتا ہے ” محمد بن قاسم نے 17 سال کی عمر میں سندھ فتح کرکے ہندوستان میں اسلام کو متعارف کرایا۔ ان کو اس عظیم فتح کے باعث ہندوستان و پاکستان کے مسلمانوں میں ایک ہیرو کا اعزاز حاصل ہے اور اسی لیے سندھ کو “باب الاسلام” کہا جاتا ہے کیونکہ ہندوستان پر اسلام کا دروازہ یہیں سے کھلا” (وکی پیڈیا)۔

لیکن آپ کو یہ نہیں پڑھایا جاتا کہ ہند دھرتی ہمیشہ سے دین ابراہیمی کے پیروکاروں اور عربوں پر مہربان رہی ہے ۔اقوام ہند نے ہمیشہ باہر والوں کو اپنی زمین پر پناہ دی ہے اور مثالی تجارتی تعلقات قائم کیئے ہیں ۔ سب سے پہلے عہد سلیمانی میں یہودی تاجروں (ہمارے عقیدے کے مطابق اس دور کے مسلمان) نے جنوبی ہند سے تجارتی تعلقات قائم کیئے اور جنوبی ہند کی ریاست کیرالہ کے شہر کوچین میں آباد ہوئے ۔ ہندوستان میں یہودیوں کی اس قدیم ترین نسل کو کوچین/مالاباری یہودی کہتے ہیں جو آج تک وہاں آباد ہیں اور دوسرے یہودیوں کے مقابلے میں ایک منفرد شناخت رکھتے ہیں۔ ارضِ شام سے تعلق رکھنے والے مسیحی مبلغ سینٹ تھامس پہلی صدی عیسوی کے وسط میں تجارتی وفد کے ساتھ جنوبی ہند کی ریاست کیرالہ تشریف لائے اور دعوت و تبلیغ کا آغاز کیا۔آپ کے ہاتھوں مسیحیت قبول کرنے والوں کو آج وہاں نصرانی یا نصرانی کرسچن کہا جاتا ہے۔رسول اللہ کے دور سے ہی دوسرے عرب تاجروں کی طرح مسلمان عرب تاجر بھی جنوبی ہند میں تجارت کے لیئے آتے تھے۔ جنوبی ہند میں پہلی بار سن 629 عیسوی میں وہاں کے راجہ “چیرامن پیرومل” کی اجازت سے ایک مسلمان مبلغ مالک بن دینار نے ” چیرامن جامع مسجد” تعمیر کروائی اور دعوت و تبلیغ کا آغاز کیا ۔ یعنی کہ ہند میں پہلی مسجد قائم ہونے کے 83 سال بعد محمد بن قاسم نے 712 عیسوی میں دیبل کو فتح کیا۔

معاملہ یہ ہے کہ آپ کو تاریخ کے ان پہلوؤں سے صرف اس لیئے انجان رکھا جاتا ہے کہ کہیں آپ جنگ و قتال کو بھول کر امن اور صلح کی طرف راغب نہ ہوجائیں ۔ کہیں آپ یقین نا کربیٹھیں کہ اسلام کا بول بالا امن و آشتی سے بھی کیا جاسکتا ہے اور مسلمانوں کو جہاد کے بجائے حصول علم کی طرف توجہ دینی چاہیے ۔ آپ کو ہمیشہ اقوام ہند ، یہاں کے مذاہب اور علوم سے نفرت سکھائی جاتی ہے تاکہ ایک نئے جہادی منصوبے کی تیاری کی جائے اور مذہبی شدت پسندی کو چند احادیث کی آڑ میں جواز دیا جاسکے۔

جب سے آصفہ کا واقعہ ہوا ہے PTV اور دیگر چینلز و اخبارات سے یہ دکھانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ہندوستان اور خصوصاً کشمیر میں مسلمانوں کی جان ومال اور آبرو محفوظ نہیں ہے تو اب کشمیر کو پاکستان کا حصّہ بن جانا چاہیے۔ یہاں میرا سوال بہادر غیرت مند مسلمان پاکستانیوں سے ہے کہ کیا پاکستان میں آئے دن کسی نا کسی معصوم کی کچلی ہوئی لاش کچرے کے ڈھیر سے نہیں ملتی ؟ کیا ہماری مسجدوں میں “دین دار” افراد بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ نہیں بناتے؟ کیا ہماری پنچایتوں اور جرگوں کے حکم پر حوا کی بیٹی بے لباس نہیں کی جاتی ؟ کیا ہمارے ملک میں لڑکیاں ونّی اور کاری نہیں کی جاتیں ؟ اور کیا ہمارے یہاں جرگہ کے حکم پر مرد خواتین کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ نہیں بناتے ؟ کیا اسلامی جمہوریہ پاکستان میں حوّا کی بیٹی محفوظ ہے؟

تو پھر پاکستان کی یہ بیٹیاں مدد کے لیے ان میں سے (امریکا، روس، طالبان ،حزب المجاہدین) کسے پکاریں؟ کیونکہ ہمارے حکمران کرپشن اورفوج سیاست میں مصروف ہے۔

2 COMMENTS

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here