عاطف توقیر

اچانک جیسے ایوان اقتدار میں زلزلہ آ گیا۔ پوری پارلیمان جمع ہو گئی۔ عمران خان، جو پچھلے پانچ برس میں آٹھ مرتبہ اسمبلی گئے تھے، وہ بھی فاٹا کی قسمت کا فیصلہ کرنے وہاں پہنچ گئے۔ فاٹا سے تعلق رکھنے والے عوامی نمائندوں کی بڑی تعداد پارلیمان سے غائب تھی، مگر اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ فاٹا کے عوام کی رائے نہ لینے سے کیا ہو جائے گا؟ فیصلہ وہی ہوتا ہے، جو سنا دیا جاتا ہے۔ عوام وہی ہوتے ہیں، جو ان حاکموں کے کسی بھی فیصلے پر سر جھکا لیتے ہیں۔

بنیادی سوال یہ ہیں کہ پاکستان کی تخلیق کے بعد ایف سی آر (فرنٹئیر کرائمز ریگولیشن) جیسے قبیح قانون کو ختم ہونے میں ستر سال کیوں لگے؟ اس قانون کو پہلے ہی روز ختم کیوں نہیں کیا گیا؟

پشتون تحفظ موومنٹ شروع ہوئی اور ملک بھر میں دستوری حقوق کے حوالے سے عوامی آگہی میں تیزی سے اضافہ ہوا، تو اس ملک کی عسکری اشرافیہ کے فوراﹰ کان کھٹکے۔ چیک پوسٹوں پر عام شہریوں سے مزاروں کی طرح برتاؤ کرنے والے بچوں میں ٹافیوں اور بڑوں میں شربت بانٹے ہوئے بھی نظر آ گئے اور اچانک حکم رانوں کو یہ خیال بھی آ گیا کہ فاٹا میں تو ایف سی آر جیسا گندہ قانون لاگو ہے۔

سوال یہ ہے کہ اس سلسلے میں اتنی جلد بازی کی ضرورت کیا تھی کہ وہاں کے رہنے والوں سے مرضی تک نہ پوچھی جاتی؟ تمام قانون سازوں کو اسمبلی میں لایا جاتا ہے اور عمران خان جیسے افراد جو پچھلے پانچ سال میں کبھی ایوان نہیں آئے، وہ بھی فوراﹰ پہنچ گئے۔ اسی اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہو کر وہ ’اسمبلی کے اس شان دار‘ کارنامے کی تعریف کرنے لگے، جس اسمبلی کو وہ خود ’لعنتی‘ پکار چکے ہیں، مگر جس ’لعنتی‘ اسمبلی کی تنخواہ انہوں نے کبھی نہیں ٹھکرائی۔

اس جلد بازی اور عوامی مرضی جانے بغیر ہبڑ تبڑ میں اس فیصلے کا بنیادی مقصد ذرا غور سے کرنے پر دکھائی دیتا ہے۔ پچھلے ستر برسوں میں ملک کے اصل حکم ران طبقے یعنی جرنیلوں کو بنیادی مسئلہ یہ رہا ہے کہ انہیں اس ملک میں ایسا کوئی شخص یا رہنما نہیں چاہیئے جسے عوامی حمایت حاصل ہو۔ جب بھی کسی عام شہری کو عوامی حمایت حاصل ہو، کوئی نہ کوئی چکر ایسا ضرور چلایا جاتا ہے کہ عوام اس چکر میں پھنس جائیں، گفت گو کسی اور طرف نکل جائے اور ایسا رہنما اکیلا رہ جائے۔

منظور پشتین کی شکل میں ایک طویل عرصے کے بعد کوئی ایسا شخص سامنے آیا، جو متوسط گھرانے کا ایک پڑھا لکھا نوجوان ہے اور جس نے نہایت پرامن اور دستوری انداز سے اس ملک کے حکم ران طبقے کے خلاف آواز بلند کی اور پشتون جوک در جوک اس کے قافلے میں شامل ہونے لگے۔ اس دوران ریاستی اداروں نے میڈیا کا استعمال بھی کیا، رہنماؤں کو گرفتار بھی کیا، کارکنوں کو ہراساں بھی کیا، نوجوانوں کو دھمکیاں بھی دی گئیں، کئی افراد ماورائے قانون قتل بھی ہوئے گئے، متعدد لاپتا ہو گئے اور ان افراد بلکہ اس پوری تحریک کی سرگرمیوں کو ہر ہر انداز سے محدود بنانے کے لیے سرتوڑ کوشش کر لی گئی۔

فاٹا کا خیبرپختونخوا میں انضمام بھی ایسی ہی کوششوں میں سے ایک ہے۔ جس کے ذریعے عوام کو پیغام یہ دیا گیا ہے کہ منظورپشتین نہیں بلکہ ریاست ہی ان کے مسائل حل کر سکتی ہے اور انہیں ایف سی آر سے چھٹکارا دے سکتی ہے۔ اس سے قبل ایک باقاعدہ مہم کے تحت عوامی سطح پر بھرپور پروپیگنڈا کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ منظور پشتین بلکہ پوری پشتون تحفظ موومنٹ ہی غداروں اور ملک دشمنوں سے عبارت ہے۔

کسی علاقے کی آئینی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے انتہائی ضروری ہوتا ہے کہ اس علاقے کے رہائشیوں سے اس بابت رائے لی جائے۔ گزشتہ انتخابات میں کسی انتخابی مہم میں یہ معاملہ نہیں تھا جس کا مطلب یہ ہے کہ عوامی نمائندوں کو مقامی آبادی سے اس معاملے سے متعلق مینڈیٹ نہیں دیا تھا کہ وہ خود ہی کوئی فیصلہ کر لیں۔ دوسری بات خیبرپختونخوا اسمبلی جسے آئین کے تحت اس انضمام کی منظوری دینا ہے، وہ اپنی آئینی مدت کی تکمیل سے چند روز کی دوری پر ہے، ایسے میں ایسی کسی اسمبلی سے اتنا بڑا فیصلہ کروانا، کتنا آئینی ہو سکتا ہے، یہ آئینی ماہرین بہتر بتا سکیں گے۔ تاہم اخلاقی طور پر یہ بات کسی صورت قبول نہیں کی جا سکتی کہ فاٹا کے لوگوں سے پوچھے بغیر یا ان کی مرضی جانے بغیر ان پر چند افراد اپنا فیصلہ مسلط کر دیں۔

وہاں کے لوگوں کی اکثریت کیا چاہتی ہے؟ یہ صرف اور صرف صاف اور شفاف ریفرنڈم کی صورت میں دیکھا جانا چاہیے تھا۔ اس سلسلے میں شفافیت کو قائم رکھنے کے لیے ملکی سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی اور دیگر طبقات کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی مبصرین کو بھی مدعو کیا جانا چاہیے تھا کہ ریاسی کی صاف نیت کا اظہار ہو اور واضح ہوتا ہو کہ وہ فاٹا کے لوگوں کی مرضی جاننے میں نہ صرف سنجیدہ ہے بلکہ اس مرضی اور منشا کی عزت بھی کرتی ہے۔

ماضی میں جرنیلوں نے فیصلے کیے اور قوم نے بھگتے اب پھر چند افراد نے فیصلہ کر دیا ہے اور اسے فاٹا کے لوگوں کو بھگتنا ہو گا۔ اس حوالے سے بھی ایک تحریک شروع کرنے کی ضرورت ہے، جس میں انضمام درست ہے یا غلط، یا علیحدہ صوبہ ہونا چاہیے یا نہیں کی بحث کی بجائے اس بات پر توجہ مرکوز رکھی جائے اور اس میں فاٹا کے تمام افراد (وہ بھی جو صوبے کے خیبرپختونخوا میں انضمام کے حق میں ہیں) باہر نکلیں اور حکم رانوں سے کہیں کہ وہ فاٹا کے عوام کی مرضی جانیں اور پھر اکثریتی رائے کے مطابق فیصلہ کیا جائے۔

دوسری صورت میں شکوک و شبہات بھی رہیں گے اور یہ بحث بھی کبھی ہماری جان نہیں چھوڑے گی کیوں کہ اگر کوئی علاقہ اس پر بسنے والے لوگوں کا ہوتا ہے، تو اس علاقے کی قسمت اور مستقبل کے فیصلے کا واحد اختیار بھی اسے علاقے کے لوگوں ہی کو حاصل ہے۔