عاطف توقیر

گزشتہ روز پاکستانی فوجی ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے ایک تفصیلی پریس کانفرنس کی گئی۔ تاہم ایک میجر جنرل عہدے کے شخص سے بہ طور ادارہ بات کرتے ہوئے کئی اس انداز کی باتیں کی گئیں، جو نہ صرف فوج کے تشخص کو داغ دار کرنے کے مترادف تھیں بلکہ پاکستانی دستور، شہری آزادیوں، آزادی اظہار رائے اور دستوری ضمانتوں کے لیے بھی شدید نوعیت کا دھچکا تھیں۔

پہلی بات یہ ہے کہ فوج ایک ادارہ ہے اور ہر پاکستانی شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ملک کے کسی بھی ادارے بہ شمول فوج پر جہاں ضروری سمجھے تنقید کرے، تاہم فوجی ترجمان آصف غفور صاحب کا فوجی پالیسیوں پر تنقید کو ریاست پر تنقید اور فوجی جرنیلوں کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات کی مخالفت کو وطن دشمنی قرار دینا یا انہیں آپس میں جوڑنا ایک نہایت خوف ناک اور بھیانک اقدام تھا اور اس پر تفصیلی گفت گو کی ضرورت ہے۔

اس پریس کانفرنس میں کچھ ایسی باتیں ہیں، جن پر بہ طور پاکستانی نہ صرف ہمیں گفت گو کرنا چاہیے بلکہ ان کے اثرات اور ملک، دستور اور جمہوریت پر اس کے مضمرات کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔

اس پریس کانفرنس میں آصف غفور صاحب نے فرمایا کہ پشتون تحفظ موومنٹ کے تمام مطالبات مان لیے گئے تھے، کیوں کہ وہ دستورِ پاکستان کے دائرے میں تھے۔ تاہم انہوں نے سوال اٹھایا کہ مطالبات مان لیے جانے اور فوجی سربراہ قمر باجوہ کی جانب سے واضح ہدایات کہ اس تحریک یا اس کے کسی رہنما کے خلاف طاقت کا استعمال نہیں کیا جائے گا، کے باوجود یہ تحریک کیوں فوج مخالف نعرے لگاتی رہی اور اسے غیرملکی حمایت کیوں حاصل رہی؟

آئیے پہلے اس معاملے کو دیکھتے ہیں۔ جنوری میں اسلام آباد پریس کلب کے سامنے احتجاج شروع ہوا، تو اس وقت نہ فوج مخالف نعرے بلند ہو رہے تھے اور نہ ہی سخت جملے سننے کو مل رہے تھے۔ تاہم اسلام آباد میں موجود یہ سینکڑوں پشتون کئی روز تک وہاں بیٹھے رہے مگر کسی میڈیا ہاؤس نے ان کی بابت ایک منٹ کی خبر چلانا یا ان کی رائے عوام تک پہنچانا مناسب نہ سمجھی۔ جنرل صاحب نے فرمایا کہ منظور پشتین اور محسن داوڈ کے ساتھ بات چیت میں مطالبات سنے گئے، ’جو تمام دستور کے دائرے کے اندر‘ تھے اور اسی لیے انہیں تسلیم کیا گیا اور ان دونوں افراد کو دیگر افسران سے رابطہ کرنے کا کہا گیا۔ مگر زمینی حقائق یہ ہیں کہ اسلام آباد دھرنا ختم ہوتے ہیں، اس تحریک کے خلاف ایک منظم مہم شروع کر دی گئی اور اس کے لیے میڈیا کو استعمال کیا گیا۔ دوسری طرف ان افراد کا میڈیا بلیک آؤٹ جاری رہا اور خود آصف غفور صاحب نے اپنی سابقہ پریس کانفرنس میں یہ تک کہا کہ اس تحریک نے فاٹا میں سکیورٹی چیک پوسٹس کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔ حالاں کہ مطالبہ چیک پوسٹوں کے خاتمے کا نہیں بلکہ ان چیک پوسٹوں پر مقامی افراد سے نرمی کے سلوک اور کسی ناخوش گوار واقعے کے بعد سخت کرفیو کے نفاذ سے اجتناب برتنے کا تھا۔

اس تحریک کا بنیادی مطالبہ نقیب محسود اور دیگر ماورائے عدالت ہلاک کیے جانے والے پشتونوں کی بابت تحقیقات اور راؤ انوار سمیت دیگر اہلکاروں (اگر کوئی غیرقانونی یا جعلی مقابلے میں ملوث ہو) سزا دینے کا تھا۔ راؤ انوار پر چلنے والے مقدمے کی رفتار بھی ہمارے سامنے ہے اور اس کو دی جانے والی رعایتیں بھی، دیگر ماورائے عدالت ہلاکتوں کی بابت نہ کوئی کمیشن بنایا گیا نہ اس پر کوئی بات ہوئی۔

دوسری جانب اس تحریک کی جانب سے پشاور میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا تو،  فوجی سربراہ کی جانب سے طاقت کا استعمال نہ کرنے کی ہدایات کے باوجود مختلف افراد خصوصاﹰ طلبہ کو ٹیلی فون کالز کے ذریعے اس جلسے میں شرکت سے روکا گیا اور دھمکایا گیا۔ اس تحریک کے رہنماؤں پر بھی بالواسطہ دباؤ بڑھایا گیا، حتیٰ کہ اس کے مقابلے میں ’پاکستان تحفظ موومنٹ‘ جیسی تحریک شروع کروا دی گئی اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی، جیسے پشتون تحفظ موومنٹ پاکستان مخالف تنظیم یا تحریک ہے۔ یہ بات اسُ لیے نادرست ہے کیوں کہ کوئی بھی تحریک جو دستور کے اندر رہتے ہوئے کوئی مطالبہ کرے اس ملک مخالف قرار دینا نہایت غلط عمل ہے۔ دوسری جانب ایسے میں فوجی سربراہ قمر باجوہ کا یہ بیان بھی آ گیا کہ اس تحریک کو ’غیرملکی معاونت‘ حاصل ہے۔ اگرُ یہ باتُ درست ہے، تو ایسی صورت مین اس تحریک یا اس کے رہنماؤں کے خلاف قانونی کارروائی کا جانا چاہیے تھی یا کم از کم وہ حقائق اور ثبوت عوام کے سامنے لائے جانا چاہیے تھے۔ اس سلسلے میں الزامات تو عائد کیے جاتے رہے، سوشل میڈیا، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا اور بینرز کی صورت میں مہم تو جاری رہی مگر حقائق سامنے نہ لائے گئے اور ن ہی کسی پر کوئی مقدمہ درج کیا گیا۔

اس کے بعد اس تحریک کے جلسوں کو روکنے کے لیے کئی ایسے اقدامات کیے گئے، جو غیردستوری، غیر قانونی اور غیرضروری تھے۔ انٹرنیٹ کی بندش، جلسوں کے مقامات پر گندا پانی چھوڑنا، رہنماؤں کو ہراساں کرنا، احتجاج کرنے والوں کو لاپتا کرنا، منظور پشتین کو ہوائی سفر کر کے کراچی پہنچنے سے روکنا اور اس جیسے کئی اقدامات ہیں، جن کی وجہ سے ایک طرف تو بداعتمادی بڑھی دوسری جانب غصے اور اختلافات میں بھی شدت آئی۔

یہ انتہائی سادہ سا معاملہ تھا کہ اگر کوئی شہری کوئی مطالبہ کرتا ہے، تو ریاست یہ دیکھے کہ وہ مطالبہ دستوری ہے یا نہیں، دستوری ہے تو تسلیم کرے اور عمل کرے، غیردستوری ہے تو صاف صاف رد کر دے۔

ریاستی ادارے کیسے کسی سیاسی یا سماجی تحریک کے خلاف میڈیا مہم چلا سکتے ہیں۔ ریاستی ادارے کیسے میڈیا کو کسی تحریک کی کوریج سے روک سکتے ہیں؟ ریاستی ادارے کیسے انٹرنیٹ بند کر سکتے ہیں؟ کیوں کہ یہ تمام اقدامات دستور پاکستان کی جانب سے شہریوں کی دی جانے والی آزادی کی ضمانتوں کے برخلاف اور قانون شکنی کے زمرے مین آتے ہیں۔

میجر جنرل صاحب نے اس پریس کانفرنس میں وانا واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں دو گروہوں کے درمیان تصادم ہوا جب کہ فوج نے اس تصادم کو ختم کرایا اور ان لوگوں کو لڑنے سے منع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلحہ رکھنا ’قبائلیوں کی ثقافت‘ ہے۔

حالاں کہ حقائق یہ ہے کہ ان دو گروپوں میں سے ایک کے پاس اسلحہ تھا اور دوسری جانب نہتے لوگ تھے، جو ان مسلح افراد کو علی وزیر تک پہنچنے سے روکنے کے لیے اینٹیں اور پتھر پھینک رہے تھے۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ جس مقام پر یہ واقعہ پیش آیا، وہاں سے چند سو گز دور فوجی اڈہ موجود ہے اور یہ تمام علاقہ ایک طرح سے فوجی حصار میں ہے، ایسے میں اتنے طویل دورانیے تک ایک گروہ عام افراد پر فائرنگ میں کامیاب کیسے ہوا؟ یہاں یہ بھی نہ بتایا گیا کہ اگر اسلحہ رکھنا ثقافت ہے تو پھر تمام افراد کے پاس اسلحہ کیوں نہیں تھا؟ اور مقامی افراد کی جانب سے “امن کمیٹی” کے مسلح حملہ آوروں پر فائرنگ کیوں نہ ہوئی؟ اور عوام نے ان کے دفتر اور گاڑیوں کو نذر آتش کر کے اپنا غصہ کیوں نکالا؟

ڈی جی صاحب نے اپنی اس پریس کانفرنس میں ایک اور بات کی، جو ایک ادارے کے ترجمان کے منہ سے نکلنا انتہائی تعجب انگیز بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ چند ہی روز میں دوسرے ممالک میں ہزاروں سوشل میڈیا اکاؤنٹس بن گئے جب کہ غیرملک سے ’پشتین ٹوپی‘ تیار ہو ہو کر پاکستان آنے لگی۔

اگر ایک گروہ دستوری مطالبات کر رہا ہے، اس میں شامل شہری پاکستانی ہیں اور ان کا کوئی مطالبہ دستور کے دائرے سے باہر نہیں، تو اس سے پاکستان یا فوج کو کیا فرق پڑنا چاہیے کہ دوسرے ممالک میں موجود افراد اس کی حمایت کر رہے ہیں یا نہیں؟ اس کی مثال یہ ہے کہ میں پاکستان میں دستور کی بالادستی کی بات کروں اور بھارت میں بیٹھا کوئی شخص یہ کہے کہ آپ درست بات کر رہے ہیں، تو کیا آپ ملک میں دستور کی بالادستی کے نعرے کو ’غیرقانونی‘ یا ’ملک دشمن‘ قرار دیں گے؟ یہ بات نہایت افسوس ناک ہے کہ فوجی ترجمان کی نگاہ میں لوگوں کی جانب سے سرخ رنگ کی ٹوپی اتنی اہم تھی کہ اس پر بھی بات کرنا پڑی۔

اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اگر یہ تحریک یا اس کے رہنما کسی غیرقانونی، غیر دستوری یا ملک دشمن سرگرمی میں ملوث ہیں، تو ان کے خلاف پاکستانی قانون کے مطابق کارروائی کی بجائے میڈیا مہم چلانے کا کیا جواز یا منطق ہے؟

اس پریس کانفرنس میں ایک اور نہایت خطرناک روایت یہ ڈالی گئی کہ پاکستانی میڈیا کو مکمل طور پر فتح کر لینے والے ’ادارے‘ کو سوشل میڈیا پر لوگوں کے بات چیت کرنے یا اپنے خیالات کا اظہار کرنے پر نہایت عدم اطمینان دکھائی دیا۔ سوال یہ ہے کہ اگر لوگ سوشل میڈیا پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں، بہ شمول فوج یا جرنیلوں پر تنقید کے، تو وہ کس دستوری خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہیں؟ اور اگر ہو رہے ہیں، تو انہیں قانون کے مطابق سزا کیوں نہیں دی جا سکتی؟

اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ متعدد مقامات سے لوگ لاپتا ہیں، اس وقت سندھ کے متعدد مقامات پر لوگ اپنے پیاروں کی گم شدگی پر احتجاج کر رہے ہیں اور کئی جگہوں پر بھوک ہڑتال جاری ہے، نہ ان کی رپورٹ تھانے میں درج ہوتی ہے، نہ عدلیہ ان کی شکایت سنتی ہے، نہ میڈیا ان کی بات عوام تک پہنچا سکتا ہے، تو ایسے میں یہ افراد دکھ یا جذبات میں بہہ کر نعرے نہین لگائیں گے تو کیا کریں گے؟ ایسے میں اس معاملے کو حل کرنا، جرم میں ملوث افراد کو عدالت میں پیش کر کے قانون کے مطابق سزا دلوانا اور معصوم افراد کو رہا کرنا اور پاکستان یا اداروں سے شکوہ کرنے والے ان شہریوں سے بات چیت کر کے ان کا ریاست پر اعتماد بحال کرنا اہم ہے؟ یا ان کے خلاف میڈیا مہم شروع کرنا اور ان کے خلاف طاقت کا استعمال کرنا؟  کیا اس معاملے میں بھی فوج مخالف نعروں کا انتظار کیا جا رہا ہے؟

اس پریس کانفرنس میں ایک اور خوف ناک بات یہ ہوئی کہ جنرل صاحب نے باقاعدہ تصویروں کی مدد سے ان صحافیوں اور سوشل میڈیا صارفین کی تصاویر دکھائیں، جو ان کے مطابق ’ملک دشمن ٹوئٹس کو ری ٹوئٹس‘ کرنے میں مصروف ہیں۔

یہ کام اس لیے انتہائی خوف ناک ہے کیوں کہ اس طرح تصاویر دکھا کر ان افراد کی نشان دہی کرنے سے ان صحافیوں اور دیگر سوشل میڈیا صارفین کی زندگیوں کو خطرے سے دوچار کر دیا گیا ہے۔ فوجی ترجمان کا یہ بیان ’نیشنل ایکشن پلان‘ کی خلاف ورزی اور ’نفرت انگیزی‘ کے زمرے میں آتا ہے اور ان جنرل صاحب کو اس معاملے میں گرفتار کر کے ان کے خلاف مقدمہ چلایا جانا چاہیے، کیوں کہ اس طرح تصاویر دکھا کر آصف غفور صاحب نے ان افراد کی زندگیوں کو خطرات کا شکار بنا دیا ہے اور اب اگر ان میں سے کسی شخص کے ساتھ کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش آتا ہے، تو اس کا الزام سیدھا سیدھا فوج پر عائد کیا جانے لگے گا اور عالمی سطح پر اس سے ملکی تشخص اور اہم ملکی ادارے کی تعظیم پر کئی طرح کے سوالات پیدا ہوں گے۔

مزے کی بات یہ ہے کہ صحافیوں اور سوشل میڈیا صارفین کے ’وطن دشمن نیٹ ورک‘ کی نشان دہی کرتے ہوئے ’سیاسی شخصیات‘ کے نام یا تصاویر جان بوجھ کر چھپا دی گئیں، اس سے یہ اندازہ بھی ہوتا ہے کہ جنرل صاحب نے یہ کرتب کسی خاص جماعت یا کسی خاص سیاسی شخصیت پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیا اور یہ بات خود پاکستانی دستور کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہے۔ یعنی ایسے مواقع پر آپ سیاست دانوں کو تو پھر چھپا لیں مگر عام صحافیوں اور شہریوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال دیں یا حلف کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سیاست میں بالواسطہ مداخلت کریں۔

جنرل صاحب کو یہ بات واضح انداز سے سمجھ میں آ جانا چاہیے، فوجی جرنیلوں کی بنائی ہوئی پالسیوں پر تنقید ملک یا ریاست پر تنقید ہر گز نہیں۔ یہ ملک صرف فوج کا نہیں بلکہ 20 کروڑ پاکستانی شہریوں کو ہے اور کسی فرد یا ادارے کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ دیگر شہریوں کی حب الوطنی پر شک کرے اور ان کی بابت اسناد جاری کرتا پھرے۔ یہ کام افراد کریں، تو جرم ہے اور کوئی ادارہ کرے تو جرم کے ساتھ ساتھ دستور کی توہین، حلف کی خلاف ورزی بلکہ ملکی دستور کے تحت غداری کے زمرے میں آتا ہے۔