عاطف توقیر

چند برس قبل جرمنی کے مشرقی حصوں میں اچانک شدید بارشیں شروع ہو گئیں اور کئی دریا اپنے پشتوں سے باہر آ گئے۔ ڈریسڈن شہر سمیت کئی علاقوں میں سیلابی پانی چڑھ آیا اور مقامی انتظامیہ نے مدد کے لیے فوج طلب کر لی۔ جرمنی میں دستور کے مطابق چوں کہ فوج کو اسلحے کے ساتھ شہری علاقے میں داخلے کی اجازت نہیں، اس لیے یہ فوجی وہاں مکمل وردیوں میں ہاتھوں میں بیلچوں، کدالوں اور ریت کی بوریوں کے ساتھ پہنچے، ان کے ہم راہ فوجی گاڑیاں، کرینیں اور بھاری سازوسامان تھا اور انہوں نے ایک طرف مقامی آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے اپنی جان ماری اور ساتھ ہی دریاؤں کے پشتوں کو مضبوط کیا۔

اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ یہاں ہر طرف ان فوجیوں کی عظمت کے گیت گائے جاتے اور شکریہ ’بنڈس ویر‘ (جرمن فوج) کے نعرے لگتے یا فوجی سربراہ کی تصاویر کے بینر ہر سڑک پر آویزاں کر کے قوم سرنگوں ہو جاتی، مگر فوج کی یہ ساری محنت ٹی وی کی ایک چھوٹی سی خبر سے زیادہ جگہ نہ پا سکی۔

ایک کافی شاپ میں چند جرمن دوستوں کے ساتھ گزشتہ روز اسی موضوع پر بات ہو رہی تھی کہ لاہور شہر میں اچانک اور غیرمعمولی بارشوں کی وجہ سے کئی علاقے زیرآب آ گئے اور وہاں فوج کی خدمات حاصل کرنا پڑ گئیں۔ مگر ساتھ ہی سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر عظیم دانشور یہ تصاویر دکھا دکھا کر قوم کو بتانے لگے کہ قدرتی آفت میں چوں کہ فوج ہی مدد کرتی ہے اور سویلین حکومت یا انتظامیہ بے بس ہوتی ہے، اس لیے فوج کو نہ صرف سلام کیجیے بلکہ اسے ملکی سیاست میں مداخلت حتیٰ کے دستور تک توڑنے کا اختیار بھی حاصل ہو جانا چاہیے۔ اس دوست سے میں نے اچانک پوچھا، ’یہاں کے فوجی سربراہ کا نام کیا ہے۔‘ وہ بڑی بے اعتنائی سے بولا، مجھے نہیں معلوم، کیوں کہ یہ ضروری نہیں ہے۔

برطانیہ کے علاقے کمبریا میں بھی شدید بارشوں کے بعد سیلابی صورت حال پیدا ہو جانے پر فوج طلب کی گئی، امریکا میں بھی ایسی صورت حال میں فوج سے مدد لی جاتی ہے حتیٰ کے بھارت تک میں قدرتی آفات، شدید بارشوں یا سیلاب کی صورت میں فوج کو تعینات کیا جاتا ہے، مگر نہ تصاویر وائرل ہوتی ہیں، نہ شکریہ کے بورڈ لگتے ہیں، نہ عوام انہیں دستور توڑنے کی اجازت دیتے نظر آتے ہیں نہ کہیں یہ سننے کو ملتا ہے کہ اب آپ سیاست میں مداخلت کر لیجیے۔

میں ابھی چند روز قبل برطانیہ گیا، تو معلوم ہوا کہ وہاں کی پارلیمانی کمیٹی نے دو اہم ملکی خفیہ اداروں ایم آئی فائیو اور ایم آئی سِکس کے سربراہوں کو ایک سماعت میں نچوڑ کر رکھ دیا اور ان کی کارکردگی پر سخت برہمی ظاہر کی۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ نہ اس سماعت کی مکمل کارروائی تک عوام سے بانٹی گئی اور کسی نے یہ شکایت نہ کی کہ برطانیہ کی ان خیفہ ایجنسیوں کے سربراہوں کے ساتھ سویلین رہنماؤں کا یہ رویہ قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ نہ ہی فوج نے یہ بیان دیا کہ ہمارے ساتھ اس سلوک پر اب ہم میڈیا مہم شروع کریں گے۔ یہ تک سننے کو نہیں ملا کہ اگر برطانوی فوج نہ ہوتی، تو برطانیہ عراق یا شام بن چکا ہوتا۔

ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ایک طرف تو فوجی جرنیلوں نے سیاست میں مداخلت کر کر کے اپنی پسند کے رہنما اس قوم پر مسلط کیے اور دوسری جانب پالیسیوں بنانے اور ملکی اقتدار و اختیار کو اپنے ہاتھ سے نہ جانے دینے کے لیے میڈیا عدالتوں اور تمام ریاستی اداروں کو بھی کم زور کر کے رکھ دیا۔

اب حالت یہ ہے کہ فوجی جرنیلوں کی پالیسیوں پر تنقید کی جائے، تو انہیں پالیسیوں کی وجہ سے مرنے والے فوجی جوانوں کی لاشیں دکھا کر کہا جاتا ہے کہ ہم قربانیاں دے رہے ہیں۔ جرنیلوں کی سیاست میں مداخلت پر بات کی جائے، تو انہیں جرنیلوں کے لائے ہوئے کرپٹ سیاست دانوں کی شکلیں دکھا کر کہا جاتا ہے کہ سیاست دان ٹھیک کام کرتے تو فوج کو سیاست میں مداخلت نہ کرنا پڑتی۔
اصل حالت دیکھیں، تو بالکل مختلف ہے، یعنی پالیسیاں ٹھیک ہوتیں تو ہمارے شہری اور فوجی جوان مارے نہ جاتے اور سیاست میں فوج مداخلت نہ کرتی، تو آج پاکستان میں جمہوریت میچور ہوتی اور جمہوریت کی چھنی کرپٹ اور مفادپرستوں کو خود ہی چھان کر اچھی قیادت پیدا کر چکی ہوتی۔

اس سے بھی زیادہ بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ فوج نے میڈیا، اداروں اور وسائل پر اس حد تک قبضہ کر لیا ہے کہ معلومات کی ترسیل عام افراد تک ممکن ہی نہیں رہی۔ اس پرقوم کی جانب سے تحفظ کے لیے اپنا پیٹ کاٹ کر اور اپنے بچوں کے مستقبل پر سمجھوتہ کر کے رقم ان فوجی جرنیلوں کو دی جاتی ہے اور یہ رقم تحفظ کی بجائے قوم کی شہری آزادیوں اور جمہوری اداروں اور حتیٰ کہ ملکی دستور کی تباہی کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ قومی سلامتی کے نام پر کہیں گڈ طالبان پر یہ رقم خرچ ہوتی ہے اور کبھی ہمارے ہی ملک میں فرقہ واریت کی بنیاد پر زندگیوں کے چراغ گل کرنے والے اسی رقم سے موج کرتے ملتے ہیں۔

ایسے میں کوئی سوال کرے، تو لفافہ زدہ میڈیا اور اثر زدہ ادارے تک ’غدار غدار‘ اور ’ایجنٹ ایجنٹ‘ کے نعرے اتنے زور سے لگاتے ہیں کہ دوسری کوئی آواز ہی پیدا نہیں ہو سکتی۔

پھر ایسے میں کہیں سے کوئی سرگوشی کرتا ملتا ہے۔ آپ تنقید کرتے ہیں مگر حل بھی تو بتایا کریں۔ حالاں کہ تنقید ہی میں حل بھی موجود ہے یعنی اگر یہ ریاست واقعی ہمیں عزیز ہے، تو اس کی بقا کے لیے اس کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں کہ تمام ادارے اپنی اپنی حدود میں رہ کر کام کریں اور ملکی اقتدار کا فیصلہ اس ملک میں بسنے والی قوم کو کرنے دیا جائے اور اسے بار بار کی غلطیوں سے سیکھنے دیا جائے۔ دوسری صورت میں ہم ستر سال سے جس تباہی کا شکار ہیں، وہ تباہی مزید بربادی کا سبب بنے گی۔