صہیب حسن

ایک دفعہ ایک بادشاه نے ایک کمہار کے گدھوں کو ایک قطار میں چلتے دیکھا، کمہار کو بلایا اور پوچھا یہ کس طرح سیدھے چلتے ہیں۔ کمہار نے کہا جو لائن توڑتا ہے اس کو سزا دیتا ہوں بادشاہ بولا میرے ملک میں امن و امان ٹھیک کر سکتے ہو۔ کمہار نے حامی بھر لی اور بادشاہ کےساتھ چل پڑا۔

دارالحکومت پہنچتے ہی عدالت لگا لی چور کا مقدمہ آیا تو چور کو ہاتھ کاٹنے کی سزا دی گئی جلاد نے وزیراعظم کی طرف اشارہ کیا کہ چور کو انکی سرپرستی حاصل ہے۔ کمہار نے پھر حکم دیا چور کا ہاتھ کاٹا جائے، وزیراعظم سمجھا شاید جج کو پیغام کی صحیح سمجھ نہیں آئی، وہ آگے بڑھا اور کمہار کے کان میں کہا کہ یہ اپنا آدمی ہے۔ کمہار نے بطور جج فیصلے کا اعلان کیا کہ چور کا ہاتھ کاٹا جائے اور وزیراعظم کی زبان کاٹ دی جائے بادشاہ نے فیصلہ پر عمل کرایا۔ آگ و خون کی لپیٹ میں آئے ہوئے ملک میں ایک فیصلہ سے ہی مکمل امن قائم ہو گیا۔

موجودہ حالات میں مندرجہ بالا کہانی محض کہانی کی حد تک ہی سچ لگتی ہے۔ “انصاف”، دنیا میں ہر جگہ ایک منفرد مقام و مرتبہ رکھتا ہے، اور ہر دور اور ہر ملک میں یہ انصاف ہی ہے جو قوموں کو ترقی کی راہ پہ گامزن کرتا ہے، اور جہاں انصاف کو دوسرا درجہ دیا جاتا ہے وہاں دہشتگرد عناصر کو روکنے اور سزائیں دینے کا ایک فرسودہ نظام قائم ہوجاتا ہے اور بلآخر یہ ذمہ داری بھی عوام اپنے سر لے لیتی ہے۔ یہ اصولِ انصاف ہی ہے جس سے قومیں لازوال بھی بن جاتی ہیں اور زوال پذیر بھی ہوجاتی ہیں پھر چاہیں وہ مسلم ہوں یا غیرمسلم۔

ملکِ خداد پاکستان کا قیام اسلام کے نام پہ ہوا اور یہاں کا قانون قرآن کے مطابق تشکیل پایہ۔ اور انصاف کو پہلا درجہ دیا گیا کہ بلا تعصب، رنگ و نسل، امیر و غریب، حاکم و محکوم، آقا و غلام، سردار و گدا، سب کے لئے ایک قانون “قانونِ پاکستان”، تشکیل پایا اس امید اور اس عزم کے ساتھ کہ عدالت سے رجوع کرنے والا ہر مظلوم کبھی خالی ہاتھ نہ جائیگا، اور ظالم کے لیے ہر دور میں یہ نشانِ عبرت رہے گا، پھر چاہے ظالم کتنا طاقتور، اثر و رسوخ والا ہی کیوں نہ ہو قانون کی نظر اور انصاف کے کٹہرے میں وہ مجرم کی حیثیت سے ہی دیکھا جائیگا۔

لیکن میرے ملک کی بدنصیبی ایسی کہ یہاں انصاف کے نام پہ ظالم کو موقعے فراہم کیے جاتے ہیں، انصاف ہے لیکن صرف چوروں، لٹیروں، وزیروں، سفیروں اور ڈکیتوں کے لیے اور سزائیں بھی ہیں وہ مظلوم، غریب، ہاری، کسان کے لیے۔ افسوس کہ یہاں قاضی جیسے معتبر شعبے پہ بھی اثر و رسوخ ہیں۔ میں نے اسی اثر و رسوخ کا جائزہ لینے کے لیے اپنی تاریخ کے کچھ ورق موڑیں تو کہیں باپ عدالتوں کے چکّر کاٹتا نظر آیا، کہیں ماں مجرم کو صرف اس بنا پہ معاف کرتی نظر آئی کہ اس کی دو جوان بیٹیاں بھی ہیں، کہیں کوئی انصاف سے اس وجہ سے محروم رہا کہ ظالم بہت طاقتور تھا اور کہیں تو غریب کا مقدمہ سننے سے ہی انکار کردیا گیا۔

ماڈل ٹاؤن کیس جس میں وزیرِ قانون پنجاب رانا ثنا اللہ 14 لوگوں کے قتل میں نامزد ہیں آج تک اس کا فیصلہ نہیں ہو سکا، شاہزیب قتل کیس کے ملزم نے بھی وکٹری کا نشان بنا کے ظاہر کردیا کہ اس ملک میں قانون کی کیا حیثیت ہے، آیان علی منی لانڈرنگ میں ملوث پائیں لیکن قانون خاموش تماشائی بنا رہا، مشعال خان قتل کیس جس میں تحریکِ انصاف کے کونصلر ملوث ہیں آج تک اس کے گھر والے عدالتوں کا چکّر کاٹ رہے ہیں، ڈاکٹر عاسم جن پہ 400 عرب سے زائد کی بدعنوانی کا الزام تھا انھیں عدالت سزا دینے میں ناکام رہی اسی طرح شرجیل میمن بھی بدعنوانی میں ملوث تھے ان کے خلاف بھی کوئی فیصلہ نہ ہو سکا، زینب قتل کیس جس میں ملزم کو سزاِ موت تو سنا دی گئی ہے لیکن افسوس اس سزا پہ عمل درآمد نہ ہو سکا اب تک، اسی طرح کلبوشن یادو کی بھی سزا پہ عمل درآمد تاحال نہ ہو سکا، لطف کی بات یہ ہے کہ پچھلے 60 سے زائد سال میں ملک کے پہلے وزیرِ اعظم کے قتل کا معمہ حل نہ ہو سکا، لہذا جہاں اتنے بڑے عہدے رکھنے والوں کو انصاف نہ مل سکا وہاں عام عوام کس گنتی میں آتی ہے۔

انصاف کا حال یہ ہے کہ ملک میں تقریباً 18 لاکھ کیسز اپنے فیصلے کے منتظر ہیں، جس میں 38,500 سے زائد مقدمے سپریم کورٹ کی الماریوں میں پڑیں ہیں، 1,47,500 سے زائد کیسز لاہور ہائی کورٹ میں اپنے فیصلے کے محتاج ہیں، 93,000 کیسز سندھ ہائی کورٹ میں، 16,000 اسلام آباد ہائی کورٹ میں، 6,000 بلوچستان ہائی کورٹ میں اور 30,500 سے زائد پشاور ہائی کورٹ میں اپنی تاریخوں کے منتظر ہیں۔ (ڈسٹرکٹ کورٹس میں کیسز کی الگ اور ایک کثیر تعداد ہے) افسوس کے ساتھ جب تک کوئی شخص چیف جسٹس صاحب کی گاڑی کے سامنے لیٹ نہ جائے اسے انصاف تو دور کی بات اس کے کیس کی سنوائی بھی ممکن نہیں، اور اگر یہ بھی نہ کر سکے تو مجبوراً اس نظامِ انصاف سے وہ اس قدر مایوس ہو جاتا کہ خودکشی کے علاوہ کوئی حل نظر نہیں آتا۔ افسوس کے ساتھ پاکستان کا شمار 113 ملکوں میں سے 106 پہ ہوتا ہے جہاں انصاف کی فراہمی یقینی ہے اور ہم سے نیچے افغانستان، اِتھوپیا، زمبابوے جیسے ممالک ہیں۔

لہذا کہانی سے ایک بات تو ثابت ہے کہ اگر گنہگار کی سفارش اور اپنوں کی سرپرستی کرنے والے کی زبان کاٹ دی جائے تو امن قائم ہونے میں کوئی رکاوٹ نہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ یہاں ایسا ہوگا یا نہیں اور اگر ہوگا تو کون کرے گا؟