ولید بابر ایڈووکیٹ

روز مرہ کے ٹی وی شوز، عام گفتگو ،افراد کے نام ، سماجی تفریق وغیرہ سے کنفیوز ہو کر بچہ اپنے والد سے مکالمہ کرتا ہے۔
بچہ: ابو یہ خاندان اور قبیلہ کیا ہوتا ہے؟

والد: بیٹا خونی رشتوں کے حامل افراد ایک کنبہ ہوتے ہیں۔ مثلاً ہم ایک گھر میں رہائش پذیر ہیں آپ ‘ میں’ آپ کی امی’دادا’دادی’بہن ‘بھائی’چچا اور پھوپھی وغیرہ ایک کنبہ ہیں۔اسی طرح جب آپ لوگوں کی شادیاں ہو جائیں گئی تو آپ کے دادا پردادا سے منسلک جتنے افراد ہونگے وہ ایک خاندان ہوں گئے۔جب کہ بہت سارے خاندانوں کے باہمی امتزاج سے قبیلہ جنم لیتا ہے۔

بچہ:ابو برادری کیا ہوتی ہے؟

والد: جب بہت سے خاندان آپس میں باہم ملتے ہیں تو وہ ایک برادری بنتی ہے۔ جیسا کہ مختلف خاندان ایک ہی حدود ہیں رہتے ہیں۔ انھیں اپنی خوشی غمی اور روز مرہ ضروریات زندگی کے لیے ایک دوسرے کی ضرورت ہوتی ہے اس لیے وہ ایک ساتھ ملکر رہتے ہیں۔ ایک علاقہ میں مقیم مختلف خاندانوں کے مجموعہ کو ایک برادری کہا جاتا ہے۔

بچہ:تو خاندان اور برادری کا وجود کیسے عمل میں آیا؟

والد: انسان پہلے پہل جتھوں کی صورت آباد تھے۔ ان کا گزر بسر شکار پر تھا۔اس لیے مرد اور عورت کو ایک ساتھ کام کرنا پڑتا تھا۔ شکار میں کمی، موسمی حالات اور دیگر نامسائد حالات کے پش نظر انھیں زراعت کی طرف رجوع کرنا پڑا۔اب مرد شکار کی طرف جاتے اور خواتیں گھر پر زراعت کا کام اور بچوں کی پرورش کرتی۔اس دور میں نجی ملکیت کا کوئی روائج نہ تھا حتی کہ بچے تک مشترکہ ملکیت ہوتے تھے۔اس دور کو مدرسری دور کہا جاتا ہے۔ زراعت میں اضافے اور شکار میں کمی کے باعث انسان کا گزر بسر زراعت پر ہونے لگا مگر وافر مقدار کے باعث زراعت کے ایک حصہ پر چند افراد قابض ہو گئے اور یوں سماج طبقات میں بٹ گیا۔

بچہ :تو کیا زراعت کے باعث قبیلہ پیدا ہوا؟

والد: زراعت کی پیداوار میں مزید اضافہ کے لیے قابض گروہ نے اکثریت کو اپنا غلام بنا لیا۔یوں سماج غلام داری عہد میں داخل ہو گیا مگر اس عہد میں بھی چونکہ غلاموں کی عزت’مال اور جان کی کوئی حفاظت نہ تھی اور نہ ہی ان کے پاس کوئی ملکیت ہوتی تھی اس لیے قبیلہ کی ابتداء غلام دار عہد تک نہ ہوئی تھی۔

بچہ:تو قبیلے کب بنے پھر؟

والد: غلاموں پر ہونے والے بے پناہ ظلم و جبر نے انھیں بغاوت پر اکسایا اور ہزاروں سالوں کی بغاوتوں ‘زراعت میں نئے اوزار (جانورں کے ذریعے کام)’اور پیداوار کو مزید بڑھنے کے لیے سماج ایک قدم آگے بڑھا اور جاگیرداری سماج کی ابتداء ہوئی جہاں مزراعوں کو تھوڑی بہت نجی ملکیت’ بیوی بچوں کی آزادی اور وراثت کے حقوق دیے گے اور یہاں سے ہی موجودہ قباہل کی بنیاد پڑی۔

بچہ:تو کیا جاگیرداری کے خاتمے اور سرمایہ داری کے آغاز پر قبیلہ ختم ہو جائے گا؟

والد:قبیلہ کی ابتداء جیسا کے نجی ملکیت کے آغاز کے ساتھ ہوئی اور نجی ملکیت کی معراج سرمایہ داری ہوتی ہے اس لیے قبیلہ کا وجود سرمایہ داری میں بھی برقرار ہے اور وراثت کے قانون کے تحت نجی ملکیت اگلی نسلوں کو منتقل ہوتی ہے۔ ایک ہی فیکٹری میں کام کرنے کے باعث مختلف لوگوں کو باہم ملکر رہنا پڑتا ہے اور جنسی اختلاط سے ایک مشترکہ گروہ وجود میں آتا ہے اس لیے ہمیں سرمایہ دار ممالک میں لوگوں کے پرانے نام تو نظر آتے ہیں لیکن ان ناموں کے باعث کوئی سماجی برتری یا تفریق نہیں نظر آتی۔ کیونکہ سرمائے کی افرا تفری’ بے انتہا کام’ شعوری بیداری’زاتی زندگی کو بہتر انداز میں گزارنے جیسے دیگر عوامل کے باعث جاگیرداری کی نسبت اس عہد میں رسم و روائج اور اخلاقیات میں بہت فرق آیا ہے۔

بچہ:تو کیا خاندان ختم ہو جائے گا؟

والد: انسان نے ارتقاء کے ساتھ بہت کچھ سیکھا ہے۔انسانی فطرت مل جل کر رہنے اور ایک ساتھ کام کرنے کی ہے۔خاندان کا وجود انسانی معاشرتی زندگی کا عکاس ہے اور جدید معاشروں میں بھی خاندان کا وجود کسی حد تک برقرار ہے اس لیے محدود خاندان لمبے دورانیے تک باقی رہے گا مگر اس کے مستقبل کا فیصلہ آنے والا سماج اور فرد ہی کریں گے۔

بچہ: لوگ اپنے نام کے ساتھ قبیلے کے نام مثلاً راجہ’ چوہدری’بٹ’لون’ سردار’ کاکڑ’آرائیں’ مغل’کھورڑہ’مخدوم’بگٹی’مینگل وغیرہ استعمال کرتے ہیں اس کی کیا وجہ ہے؟

والد: شروع میں قبیلائی ناموں کا زیادہ رواج نہ تھا بلکہ صاحب ثروت’حاکم’طاقتور افراد اپنے ناموں کہ ساتھ خاندانی نام استعمال کرتے تھے جو کے ان کے روب و دبدبے کی علامت سمجھا جاتا تھا مگر بر صغیر پر انگریزوں کے قبضہ نے قبیلہ پرستی کو فروغ دیا۔انگریزوں نے ہی 1860 سے 1920 تک باضابطہ طور پر گروپ بندی کی اور اپنے خاص’وفادار’حاشیہ بردار کارندوں میں جاگیرویں تقسیم کیں’ انتظامی امور سونپے اور سماجی رتبہ عطا کیا تب سے ناموں کے ساتھ قبیلائی القابات کا رواج عام ہوا جو موجودہ دور تک برقرار ہے اور لوگ خاندانی ناموس’ برتری اور سماجی رتبہ کا تعین نام کے ساتھ لگے قبیلائی القاب سے کرتے ہیں۔

بچہ:کیا کوئی مخصوص پیشہ بھی کسی قبیلے کی بنیاد ہے؟

والد: انسانی تاریخ کی ابتداء میں تمام کام تمام افراد مل جل کر سر انجام دیتے تھے اس لیے کوئی کام بدتر و اعلی نہ سمجھا جاتا تھا مگر وقت کے ساتھ ساتھ کم تر’حقیر اور چھوٹے کام کرنے والوں سے نفرت کی جانے لگی، ان کے ساتھ سماجی امتیاز برتا جاتا،اور انھیں سماجی برابری بھی عطا نہ ہو پائی۔ انسانی تاریخ میں مختلف کام مختلف ادوار میں شروع ہوئے اور بدلتے سماجوں کے ساتھ پیشہ کی اہمیت میں بھی کمی بیشی ہوتی رہی ایک پیشہ جو ایک سماج میں افضل سمجھا جاتا تھا اگلے سماج میں حقیر اور جو پیشہ پہلے سماج میں حقیر سمجھا جاتا تھا اگلے سماج میں عظمت کی علامت بن گیا۔ مثلاً جوتے بنانے کا آغاز غلام داری میں ہوا اس وقت اس ہنر کے مالک لوگوں کی بہت اہمیت تھی مگر جاگیرداری میں اس کو کُمی کہا گیا اور آج سرمایہ داری میں جوتے کی فکیٹری کے مالک سے ہر کوئی رشتہ داری فخر سے کرنا چاہے گا۔

بچہ:کیا قبیلوں’برادریوں سے بلند تر ہو کر انسانی سماج کی بنیاد ممکن ہے؟

والد: انسان بنیادی طور پر ‘امن پرست’پرخلوص’دینانتدار’ہمدرد’محنتی’ محبت کرنے والا اور سماجی طور پر مل جل کر رہنے والا ہے۔ اس خصوصیت سے خوف زدہ ہو کر سماج/حکومت(پسماندہ ممالک ) پر قابض طبقہ نے انسان کو قبیلوں’برادریوں’فرقوں وغیرہ میں تقسیم کیا ہے تا کہ وہ باہم ملکر اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرتے ہوئے اقتدار اپنے کنٹرول میں لے کر ایک منصفانہ سماج تشکیل نہ دے سکیں جہاں تمام انساں برابر ہوں اور انسان اپنے شعور’ کام اور صلاحیت کے بل بوتے پر پہچانا جائے اس لیے ہمیں ان تصبات کو بے نقاب کرتے ہوئے عوام میں شعوری بیداری کے ذریعے نئے منصفانہ سماج کیلیے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

بچہ:ایسا سماج کتنا خوبصورت’پرامن اورمنصفانہ ہوگا۔میں اس لے لیے ضرور کوشش کروں گا۔

والد:بہت دیر ہو گئی ہے اب آپ سو جاؤ۔شب بخیر

بچہ:شب بخیر