عفاف اظہر

کیا کبھی ہم نےیہ سوچا، اس بہ ظاھر چھوٹا مگر دہشت سے بھرپور لفظ قدرت یعنی  اس ان دیکھی طاقت نے کس طرح صدیوں سے نسل در نسل انسانی ذہن کو یرغمال بنا رکھا ہے ؟ حالانکہ اس لفظ کی حقیقت فقط اتنی سی ہے کہ ہر وہ چیز ہر وہ پہلو اور ہر وہ مو ضوع جو انسان کے شعور کی پہنچ اور علمی سطح سے باہر ہو تو وہ اسی لفظ قدرت  یعنی غیر مرئی طاقت سے ہی منسوب رہا ہے اور جیسے ہی وہ انسان کے علم کی دسترس میں آیا، تو وہیں  قدرت کے اس لفظ کی یہ آہنی گرفت بھی خود بخود ڈھیلی پڑ گئی۔ جیسے یہ قدرتی آفات۔ آخر کیا ہیں یہ قدرتی آفات ؟  یہ زلزلہ، سیلاب، طوفان، موسمی و زمینی تغیر و تبدل کے سبب آتی یہ سبھی تباہیاں۔

آج اکیسویں صدی میں جب کہ ان سبھی قدرتی آفات کی ایک ایک چیز اور حقیقت کھل کر ہمارے سامنے آ چکی ہے تو اب یہاں بھی لفظ قدرت نے اپنے ہاتھ ان آفات سے اٹھا لیے ہیں۔

آج ہمیں علم ہے یہ زلزلے کیوں اور کہاں آتے ہیں؟ سیلاب کی وجوہات کیا ہیں؟ اس کی تباہی کے اسباب کون سے ہیں؟ طوفان کسے کہتے ہیں؟ اور یہ سونامی کس بلا کا نام ہے؟ الغرض اب زمینی حقائق بھی کسی پہیلی کی مانند ڈھکے چھپے نہیں رہے۔ یہ ہمارا سیارہ جسے زمین کہتے ہیں اس پر بھی باقی سب سیاروں کے مانند تغیر و تبدل ہونا ایک لازمی امر اور اس کے فطری عوامل میں سے ایک  ہے۔ یہ زلزلے  ہرگز کوئی انہونی نہیں،  بلکہ یہ تو سورج پر بھی آتے ہیں،  چاند پر بھی ایسی ہی تباہیاں لاتے ہیں۔ مریخ کو بھی تہس نہس کرتے رہتے ہیں اور باقی سبھی سیاروں پر بھی یونہی  قیامتیں برپا کرتے رہتے ہیں ہاں مگر اب تک یہ کسی طرح بھی معلوم نہیں ہو سکا، آخر سورج پر کون سی فحاشی کا راج ہے، وہاں کون سی مخلوق جینز پہن کر نکلتی ہے؟  چاند کو کس کی بد اعمالیوں کی سزا ملتی چلی آ رہی ہے؟ مریخ پر آخر کون سی مخلوق ہے، جو بے پردگی و زنا کی مرتکب ہو رہی ہے اور خوشبوئیں لگا کر نکلتی ہے؟ اور آخر کون سے عقیدے کی صداقت کی پیش گوئیوں کے تحت باقی سبھی سیاروں پر زلزلے آ کر  یہ قیامتیں ڈھاتے  رہتے ہیں؟

 

یہ فقط انسان کی اپنی لا علمی و جہالت ہے، جس کے سبب اسے طرح طرح کے ایسے نفسیاتی ہتھکنڈوں سے خوف زدہ کر کے صدیوں اس کی سوچ سے کھیلا جاتا رہا ہے اور قدرت کا یہ لفظ بھی اسی انسانی خوف اور دہشت بھری ذہنیت کا ایجاد کردہ ہے، جب تک انسان خود ان حقائق سے لا علم رہا اور تباہی پر اس کا کوئی بس نہ چلتا تھا،  تو اس کے لیے آسان ترین حل کیا تھا، سوائے اس کے کہ کسی ایسی ان دیکھی ہستی پر یہ تمام مسائل ڈال کر خود مظلوم کٹھ پتلی بن جائے۔ اور پھر جن تباہیوں کو عذاب قرار دے کر انسان کو صدیوں خوفزدہ رکھا جاتا رہا، تو وہ اس کی عاجزانہ دعاؤں انتھک عبادتوں اور طویل سجدوں سے بھی نہ ٹل سکے۔ ہاں مگر اگر قابو آ سکے  تو فقط علم اور اس کی اپنی ہی سوچ کی بدولت۔

آج بھی اگر ان سبھی انسانی عقیدوں کے پٹارے اٹھا لیں تو ہر دوسرا عقیدہ اپنی صداقت کا دارومدار انہی عذابوں کی پیش گوئیوں کی صورت میں کرتا، اپنے  عقیدت مندوں کو نفسیاتی طور پر ان تباہیوں اور اموات کے خوف سے یرغمال بناتا نظر آئے گا مگر حیرت انگیز امر تو یہ ہے کہ یہاں کوئی بھی ایسا نہیں، جو یہ سوال اٹھائے کہ کیا مخالف کی موت بھی کسی کی صداقت کا معیار ہوئی ہے ؟کیا کبھی کوئی انسانی تباہی کسی انسانی عقیدے کی جیت ثابت کر سکتی ہے؟ کیا کبھی کسی کو برباد کر کے کوئی فاتح  بھی ثابت ہو سکتا ہے ؟ تو پھر  اب تک  ہم پر یہ بے جا خوف و دہشت آخر کیوں اور کن مفادات کے تحت لاگو کی جاتی رہی ہے؟

کل تک کی قدرتی آفات تو آج قدرتی ہی  نہیں رہیں۔ اب آج کا انسان ان کی تباہیوں پر بہت حد تک قابو پا چکا ہے، جاپان کی مثال سامنے ہے، جہاں دنیا میں سب سے زیادہ زلزلے آتے ہیں۔ جاپان میں ایک دن میں جتنے زلزلے آتے ہیں اگر پاکستان یا کوئی دوسرا تیسری دنیا کا ملک ہوتا تو اب تک اس کا اس زمین سے نام و نشان مٹ چکا ہوتا۔، لیکن وہاں علم اور ٹیکنالوجی کی مدد سے جاپان میں رہائشی علاقوں اور تعمیر کی گئی عمارتوں کی نوعیت اس طرز کی ہے، جو زمین کے ہلنے سے بھی زمین بوس نہیں ہو سکتیں، جس کے سبب وہاں پر جانی اور مالی نقصان پر قابو پا لیا گیا ہے۔ اب یہاں پر ہم کیا کہیں گے کیا یہ قدرتی آفت ہی نہیں تھی جو جاپانیوں نے آج اکیسویں صدی میں اپنی دسترس میں کر لی ؟

یورپ اور امریکا میں بھی قدرتی آفات اب تباہیوں اور بڑے پیمانے پر اموات کا پیش خیمہ نہیں رہیں اور پھر وہ قدرت ہی کیسی ہوئی جو خود اس انسان ہی کے قابو میں آ گئی؟

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here