ولید بابر ایڈووکیٹ

قوم کیا ہے اور اس کے اجزائے ترکیبی کیا ہیں ؟ یہ ایک عام مگر بے حد پیچیدہ سوال ہے جس پر مختلف الخیال افراد میں اختلاف موجود ہے۔ قوم کی سادہ اور عام فہم تعریف جسے اقوام متحدہ میں تسلیم کیا گیا ہے حسب ذیل ہے “لوگوں کا ایسا گروہ جو کسی مخصوص خطہ زمین پر آباد ہو، سانجی زبان بولتے ہوں،الگ ثقافت ہو، منفرد زہینی ساخت کے حامل ہوں اور کسی خاص معاشی سرگرمی میں زندگی بسر کر رہے ہوں، قوم کہلاتے ہیں” کئی اقوام میں ایک سے زائد اجزاء مشترکہ طور پر پائے جاتے ہیں مثلاً اگر زبان کو ہی دیکھا جائے تو صرف خلیج فارس پر سات ممالک واقع ہیں جن میں ایران کو چھوڑ کر چھ ممالک کی زبان عربی ہے،۔ اسی طرح فرانس (پیرس) سے آٹھنے والا کلچر (ثقافت ) دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے کے باوجود ایک سے زائد اقوام میں بٹا ہوا ہے۔ رقبہ اور آبادی پر بھی اختلاف پایا جاتا ہے روس جیسے وسیع و عریض ملک کے مقابلہ میں 110ایکڑ رقبہ والا ولیکٹن سٹی بھی دنیا کے نقشہ پر ایک آزاد ملک ہے جبکہ ڈیڑھ ارب آبادی والی چینی قوم وقت کے لیے 65000 والے گرین لینڈ کی مرہون منت ہے۔ماہرین لسانیات کے مطابق درجہ بالا اجزاء میں سے ایک جزو کی عدم موجودگی میں بھی کسی گروہ کو قوم کا سٹیٹس (رتبہ) نہیں دیا جا سکتا بلکہ اسے قومیت کا درجہ حاصل ہو گا جو ارتقائی منازل طے کر کے ایک قوم کے مقام تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ دوسری جانب ایک سے زائد مشترکہ اجزاء کی موجودگی میں ایک سے زائد اقوام وجود رکھ سکتی ہیں۔
کیا قوم کی تشکیل میں مذہب بنیادی جزو کی حثیت رکھتا ہے؟ یہ ایک اہم موضوع ہے جس پر بے شمار احباب اخلاط/ابہام (confusion ) کا شکار ہیں۔ اس ابہام کی دیگر کئی وجوہات میں سے ایک مطالعہ کی کمی اور حد درجہ دینی لگاؤ بھی ہے جس بابت اکثریت اجتماعی طور پر ایک مذہب کے پیروکاروں کو ایک قوم تصور کرتے ہوئے دلیل کے طور پر اقبال کا یہ شعر پیش کیے دیتی ہے

قوم مذہب سے ہے’مذہب جو نہیں’تم بھی نہیں
جذبِ باہم جو نہیں،محفلِ انجم بھی نہیں

اس اخلاط کو سمجھنے کے لیے ہمیں پہلے مذہب کی تعریف اور پھر دنیا میں رائج مذاہب پر ایک نظر ڈالنا ہو گئی۔مذہب کا مطلب راستہ، طریقہ وغیرہ کے ہیں جب کے انگریزی لفظ religion لاطینی لفظ religioسے ماخوذ ہے جس کے معنی اخلاقی پابندی اور نفسی آگاہی یا شناسائی کے ہیں۔
آکسفورڈ ڈکشنری کے مطابق مذہب سے مراد “اعتقادات،احساسات،اعمال،شعائر،اصول وغیرہ کا مجموعہ ہے جو انسان اور الہیاتی/خدائی تعلق کا تعین/اظہار کرتی ہے” قوم کی مروجہ تعریف اور ساخت میں مذہب بنیادی جزو کی حثیت نہیں رکھتا اور یہی وجہ ہے کہ جہاں ایک مذہب کی کئی درجن اقوام دنیا میں آباد ہیں (عرب،لاطینی امریکہ ،یورپ )وہی ایک سے زائد مذہبی اعتقادات کے باوجود ایک قوم بھی دنیا میں موجود ہے(ہندوستان جہاں 2011 کی مردم شماری کے مطابق دنیا کے 9 مذاہب کی بنیاد ہے اور ایک ہزار سے زائد مذاہب ہیں،امریکہ جہاں عیسائی ،یہودی، مسلمان ،بدھ مت ایک امریکی قوم ہیں) ۔
اقبال کے شعر کے پہلے مصرعہ” قوم مذہب سے ہے۔۔۔۔۔”کا تجزیہ کرتے ہوئے دنیا کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو ایک اندازے کے مطابق اس وقت دنیا میں 4200 سے زائد مذاہب پائے جاتے ہیں۔ جبکہ آؤ آی سی (تنظیم برائے اسلامی تعاون) کے 57 اسلامی ممالک میں ایک مذہب اسلام ہونے کے باوجود ایرانی،مصری،سعودی،کویتی،ترکی وغیرہ جداگانہ تشخص رکھتی ہیں اور ایک قوم نہیں بلکہ اکثر باہمی تشکر وگریباں ہیں اور ایک قوم کے مفادات دوسری سے متضاد ہونے کے باعث عملی جنگ چشم فلک کے عیاں ہے۔اسی طرح عیسائی مذہب جس کی پیروکاروں کی تعداد سب سے زیادہ ہے عرب و عجم اور مشرق تا مغرب مختلف اقوام، ممالک و شناخت میں تقسیم ہیں۔قوم کی تشکیل ایک خاص سماجی معاشی تشکیل یعنی سرمایہ دارانہ عہد کے دوران وجود میں آتی ہے۔فرد سے افراد ،افراد سے خاندان ،خاندان سے برادری ،مختلف برادریوں کے امتناج سے قومیت اور مختلف قومیتوں کے باہمی ملاپ سے قوم تشکیل پاتی ہے۔منڈی کی معیشت میں وقت اور وسائل کی بچت کے پیش نظر مختلف قومیتوں کے بیج جنسیاتی اختلاط سے وجود میں آنے والے مجموعہ افراد ایک قوم کہلائی۔ہر قوم کے اپنے ہیروز،اہداف اور مفادات ہوتے ہیں مثلاً ایران اور عراق ہم مذہب ہونے کے باوجود طویل عرصہ سے دست و گریباں دشمن قوتیں ہیں اسی طرح پاکستان کے بغل میں آباد ہم مذہب افغان قوم سے تعلقات کشیدہ جبکہ ایک غیرمذہب قوم چین کے ساتھ قریبی ،دوستانہ اور برادرانہ تلقات ہیں۔قوم اور قومی ریاست پر بحث اگلے مضمون میں کی جائے گئی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here