شیزا نذیر

جب میں بی۔ اے کی تیاری کے لیے ایک کوچنگ سینٹر میں جا رہی تھی تو ہمارے انگلش لٹریچر کے استاد نے ایل ایل بی میں داخلہ لے لیا اور ہم سب کی بھی حوصلہ افزائی کی کہ ہم بھی بی اے کرنے کے بعد ایل ایل بی ہی کریں۔ میں تو آسانی سے ہی مان گئی کیونکہ پرائمری میں ہی یہ خواب سجا لیا تھا، لیکن میرے چند دوست بڑی کشمکش میں آ گئے۔ کیونکہ اِس سے پہلے استادِ محترم یہی کہا کرتے تھے کہ ”مقابلے کا امتخان دو اور سرکار جوائن کرو۔ قوم کے خادم کے کیا ہی وارے نیارے ہوتے ہیں۔‘‘

ہم نے قوم کا خادم بنے کی ساری تیاری (ذہنی طور پر) کر رکھی تھی۔ یہ اعلیٰ گاڑی، گھر، لیٹ آفس جانا، فون کر کے چھٹی کر لینا، کبھی بھی شارٹ چھٹی لے لینا، مزید ڈگریاں حاصل کر کے مزید ترقی اور گریڈ، مزید مراعات اور غریب عوام پر مفت کا رعب کہ بھئی آخر ہم قوم کے خادم جو ٹھہرے۔

جب میرے دوست ایل ایل بی کے لیے نہیں مان رہے تھے کیونکہ اُن کے نزدیک قوم کا خادم بننا ہی بہتر تھا تو ہمارے استاد نے ہمیں مزید سمجھایا کہ دیکھو آج کل عام آدمی کا کوئی حال نہیں اور آئندہ دَور اِس سے بھی برا آنے والا ہے کہ ہر گھر میں ڈاکٹر ہو نہ ہو وکیل ضرور ہونا چاہیے۔

قانونی پیچیدگیاں ایسی کہ عام آدم کے لیے قانون کے ساتھ رابطہ ہونا بہت ضروری ہے۔ اپنا وکیل ہو تو بہت سی آسانیاں ہو جاتی ہیں۔ میں نے بھی سمجھایا۔ خیر کلاس فیلو کو استاد کی اور میری یہ دلیلیں بھی پسند نہ آئیں اور اب سوچتی ہوں کہ اُنہوں نے اچھا ہی کیا جو قوم کے خادم بننے کا سوچا ورنہ آج جو حال ہائی کورٹ کے وکیل جبران ناصر کا ہوا ہے وہی ہوتا۔

ہوا کچھ یوں کہ جج صاحب کا پروٹوکول جا رہا تھا کہ سیکورٹی نے ایڈووکیٹ جبران ناصر کو اپنی گاڑی ہٹانے کے لیے کہا۔ جب وہ اپنی گاڑی رش کی وجہ سے کسی طرف بھی نہ لے جا سکے تو سکیورٹی افسر نے اُن کو گاڑی سے نکالا، تھپڑ مارے، کپڑے پھاڑے، بال نوچے (اب یہ تو ہو نہیں سکتا کہ گالیاں نہ دی ہوں) اور اپنی گاڑی میں بٹھا لیا۔ نا جانے اُن کو کہاں لے جایا جا رہا تھا کہ اُنہوں نے اپنا تعارف کروا دیا۔ جج صاحب کو جب پتا چلا تو اُنہوں نے کہا کہ جانے دیو کیونکہ وہ جبران ناصر کو جانتے ہیں اور سکیورٹی نے اُن کو جانے کا کہا۔

سلام کرتی ہوں میں اُس شخص کو جو پاکستان کے لوگوں کے لیے کھڑا ہو گیا کہ نہیں جہاں آپ مجھے لے کر جا رہے تھے وہاں لے کر جائیے اور میرا جرم ثابت کریں کہ کس جرم میں میرے ساتھ ایسا سلوک کیا جا رہا ہے۔ اِس کے پیچھے اُن کی سوچ یہ ہے کہ اگر وہ ایڈووکیٹ نہ ہوتے تو کیا ہوتا۔ اُنہوں نے جج کے خلاف اپیل کی ہے۔ سوچتی ہوں کہ اگر کوئی اَور ہوتا تو اِس بات پر ہی خوش ہو جاتا کہ دیکھو جج صاحب کو جب پتا چلا کہ میں کون ہوں تو فوراً مجھے جانے دیا ورنہ تو بہت بُرا حال ہوتا۔

یہ لمحہ فکریہ ہے اور ہم سب کو سوچنا ہو گا کہ اگر میں جبران ناصر کی جگہ ہوتی یا ہوتا تو کیا ہوتا؟ کیونکہ نہ تو مجھے جج جانتا ہوتا اور اگر جانتا بھی ہوتا اور مجھے اِس بنا پر جانے بھی دیتا تو میں اِس بات پر خوش ہو کر آ جاتی کہ جج اپنا جاننے والا نکلا۔
جبران صاحب نے اپنی لائیو ویڈیو میں بتایا کہ اُن کا نام چند تنظیموں کی ہٹ لسٹ میں ہے جو اُن کو نقصان پہنچانا چاہتی ہیں لیکن پھر بھی وہ حکومت کے خرچ پر کسی قسم کی سیکورٹی نہیں لے رہے۔ اِس بات پر مجھے گیارہ سمتبر یاد آ گیا جب امریکی ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملہ ہوا تھا۔ ایک خبر پڑھی تھی کہ جب حکومتی انتظامیہ کو بتایا گیا کہ صدر صاحب کی بیٹیاں محفوظ مقام پر ہیں تو عوامی لیڈرز نے وائٹ ہاؤس کے ترجمان کو منہ توڑ جواب دیا کہ ہمیں یہ بتاؤ کہ امریکی عوام محفوظ ہیں کہ نہیں۔

جبران ناصر ایک شخص کا نام نہیں جو ایڈووکیٹ ہے بلکہ یہ ایک ترقی پسند سوچ کا نام ہے کہ قوم کے خادمین کا وی آئی پی پروٹوکول کلچر نامنظور۔ اگر یہ سوچ پروان چڑھ جاتی ہے تو وہ دن دُور نہیں جب قوم کا خادم واقعی قوم کی خدمت کرنے پر مجبور ہو جائے گا۔ اِس سوچ کو اپنائیں، پھیلائیں اور اِس پر عمل کریں کیونکہ اِسی میں ہماری نسلوں کی بقا ہے۔