دردانہ فرید

میری آنکھ کھلی تو میری ماں میرے بستر پر میرے پیروں کے پاس بیٹھی خالی آنکھوں سے خلا میں دیکھ رہی تھی۔ اس کے ہاتھ میں پکڑی تسبیح کے دانے ایک ایک کر کے ایک دوسرے پر گر رہے تھے اور ان کی آواز میں میری ماں کے کرب اور مایوسی کی چیخیں گونج رہی تھیں۔ میرا دل میری بے بسی کی مٹھی میں بھینچا ہوا یہ بے ضرر مگر ہولناک منظر برداشت کرنے کی ناکام کوشش میں لگا تھا۔ لاکھ چاہنے کے باوجود میری زبان سے تسلی کا ایک بھی کھوکھلا لفظ نہیں نکلا۔ میں کیا کہتا؟ کہ ماں تو فکر نا کر تیرا دو سال سے لا پتا بیٹا آ جائے گا؟ میں یہ جھوٹ کتنی بار بول سکتا تھا؟

حسن بھائی ایک شاندار آدمی تھا۔ ہمارے گھر کا بڑا بیٹا۔ ہر لحاظ سے کامیاب انسان۔ ڈبل ماسٹرز کر کے اپنے کاروبار میں کامیاب ماں باپ کی عزت کرنے والا بہن بھائیوں کا مان رکھنے والا۔ ہر انسان سے اخلاق اور لحاظ سے ملنے والا باوقار باعزت آدمی۔ پھر پتہ نہیں کیا ہوا اور وہ راتوں کو گھر سے باہر رہنے لگا۔ کسی سے سننے میں آیا کہ کسی سیاسی جماعت کے لوگوں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے لگا ہے۔ ایک روز میں نے اپنی گھڑی ڈھونڈنے کے لئے بھائی کا دراز کھولا تو اس میں پستول دیکھ کر میری عقل دنگ رہ گئی کہ میرا بھائی جو کسی سے اونچی آواز میں بات نہیں کرتا اس کے دراز میں اسلحہ کی کیا منطق۔

میں نے ادھر ادھر سے باز پرس کی تو پتا چلا کہ بھائی ایم کیو ایم والوں کے ساتھ دیکھا گیا ہے۔ میں بے یقینی کی کیفیت میں تھا اور سوچ رہا تھا کہ بھائی سے اس موضوع پر بات کروں ۔ میں بھائی کے ساتھ ناشنے کی میز پر بیٹھا تھا تو میں نے ہمت کر کے بات شروع کی۔ اس نے میری طرف تنبیہی نظر سے دیکھا اور بولا شام کو بات ہو گی۔ یہ کہہ کر وہ گھر سے نکل گیا اور اس شام وہ واپس نہیں آیا۔ میں نے اور میرے والد صاحب نے اس کی تلاش میں کراچی کی کوئی گلی کوئی سرکاری دفتر کوی جیل کوئی ہسپتال نہیں چھوڑا۔ مگر وہ ایسا غائب ہوا کہ لگتا تھا کہ اس کے نام کا کوئی انسان کبھی تھا ہی نہیں ۔ ایک دو مرتبہ ہمارے گھر پر کچھ مشکوک لوگ آکر حسن بھائی کے بارے میں پوچھ کر گئے تو مجھے یہ احساس ضرور ہوا کہ وہ زندہ تو ہے

میری ماں کی خاموشی میرے کمرے میں دھاڑیں مار مار کر رو رہی تھی اور میں بے بس کمبل میں دبکا لیٹا تھا کہ آذان کی آواز پر اماں اٹھ کر چلی گئی ۔۔

اسی شام مجھے بھائی کے بچپن کے دوست کا فون آیا۔ اس نے مجھے رات کو ہمارے محلے کی نکڑ پر چائے والے ہوٹل پر ملنے کو بولا۔ حیرت ہوئی مجھے کیونکہ ان سب لوگوں نے ہمارے گھر کا بائکاٹ کیا ہوا تھا ۔ ہم سمجھتے تھے کہ یہ لوگ اپنے آپ کو مصیبت سے بچانا چاہتے ہیں تبھی آنکھیں پھیر لی ہیں۔ ان کے فون کے بعد میرے دل میں امید جاگی کہ شائد بھائی کا پتہ چل جائے۔ میں وقت پر ہوٹل پہنچا تو وہ ہوٹل میں ایک کونے میں بیٹھے میرا انتظار کر رہے تھے اور بہت کشمکش میں مبتلا تھے۔ مجھے دیکھتے ہی کھڑے ہوئے مجھ سے ہاتھ ملایا اور کچھ کہے بغیر چلے گئے۔ میں ہکا بکا ان کہ پیچھے ہوٹل سے نکلا کہ وہ اپنی گاڑی می بیٹھ کے جا چکے تھے۔ میں نے موٹر سائکل اسٹارٹ کیا تو ایک رینجرز یونیفارم میں ملبوس شخص نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور مجھ سے میرا لائسنس پوچھا ۔میں تذبذب کا شکار اپنا لائسنس اس کے ہاتھ میں دیا تو اس نے سر سے مجھے گاڑی میں بیٹھنے کو اشارہ کیا۔ اس سے پہلے کہ میری سمجھ میں کچھ آتا میں گاڑی میں بیٹھ چکا تھا ۔ میرے سر پر کالا کپڑا پہنایا اور میرے یاتھ باندھ دئیے گئے تھے ۔ میں سوال کرنے کے لئے جب بھی منہ کھولتا تو مجھے تھپڑ مار کر خاموش کرا دیا جاتا ۔ تقریبا سوا ایک گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد گاڑی رکی اور مجھے نکال کے ایک اندھیرے کمرے میں پھینک کے چلی گئی ۔ میں زمیں پر اندھے منہ لیٹا یہ سوچ ہی تھا تھا کہ یہ ہوا کیا ہے اور اٹھنے کی کوشش کرنے لگا تو میری ٹانگوں پر ایک لوہے کی سلاخ کی ضرب پڑی اور میرا دماغ سن ہو گیا۔ مجھے کہیں دور سے آواز آئی بتا تیرا بھائی کہاں ہے۔ اور دوسری ضرب پر میری آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔

آج چودہ مہینے بعد میں جیل کے فرش پر پڑا ہوں۔ میرے کھلے ہوئے منہ سے نا آواز نکلتی ہے نا کانوں میں کوئی آواز جاتی ہے ۔ میرے تشدد شدہ زخم خوردہ جسم کے اندر ہلنے کی یا زندہ رہنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں ہے ۔ میرے دماغ کے کسی حصے میں کبھی کوئی آواز گونجتی ہے مجھ سے غرا کے پوچھتی ہے ۔ بتا حسن کہاں ہے ورنا۔

میں فرش پر پڑا ہوں اور کہیں سے میری ماں کے ہاتھ میں تسبیح کے دانوں کے ٹکرانے کی مدھم آواز آہستہ آہستہ گونج رہی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here