مہناز اختر

پاکستان میں لبرلز اور مذہبی روایت پسند گروہوں کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج میں فرد کی انفرادیت اورفکری آزادی کو شدید  خطرات لاحق ہیں۔ ہمارا معاشرہ ہیجان اور افراتفری کے ماحول میں نظریاتی انارکی کا شکار ہے۔ امسال ماہ فروری میں لبرلز اور مذہبی گروہوں کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج نے پاکستانی قوم کو دو گروہوں میں تقسیم کردیا۔ یوں تو دونوں ہی قابل تنقید ہیں اور دونوں کو اصلاح اور اصطلاحات کی ضرورت ہے البتہ مذہبی روایت پسند گروہ زیادہ متشدّد اور انتہاپسندی کی جانب مائل ہیں۔

ماہ فروری کے آغاز کے ساتھ ہی  مختلف مذہبی تنظیموں کی جانب سے الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے ویلنٹائن ڈے کی مخالفت میں ایک مہم شروع کی گئی  اور النوراکیڈمی کی محترمہ نگہت ہاشمی کی جانب سے  ’’ول یو بی مائی ویلنٹائن‘‘ کا ترجمہ ’’کیا آپ میری زانی/زانیہ بنیں گے/گی؟‘‘ کیا گیا اور اس کے منانے والوں اور حمایت کرنے والوں کو بے حیا، لبرل، زانی، زانیہ اور لادین کہا جانے لگا۔ جماعت اسلامی  تو گزشتہ چند سالوں سے باقاعدگی کے ساتھ ویلنٹائن ڈے پر یوم حیا منا رہی ہے گویا یہ طے ہوچکا ہے کہ پاکستانی قوم بے حیا ہوچکی ہے۔ حیا انسانی اقدار کا اعلیٰ ترین وصف ہے اور اس کی ترویج اچھی بات ہے مگر اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے غلط بیانی کا سہارا لینا، ویلنٹائن ڈے کی حقیقی تاریخ کو توڑ موڑ کر پیش کرنا کسی طور درست عمل نہیں۔ مذہبی روایت پسند گروہ اسلام کی تبلیغ و ترویج کے لیے اکثر تاریخی  و سائنسی حقائق کو مسخ کر کے پیش کرتے ہیں۔ ایسا طرز عمل مسلمانوں کے کمال کا نہیں زوال کا سبب ہے۔

ماہ رواں میں چار سو  بے حیا، زانی، زانیہ، لبرل، لادین اور حلال مغلظات کا شور بپا تھا کہ محترمہ عاصمہ جہانگیر کی ناگہانی وفات پر غدّاری کے سرٹیفیکٹ اور لادینیت کے طعنوں نے ماحول کو مزید متعفن کردیا اور طے پایا کے ہر وہ شخص جو روایات اور نظریات سے اختلاف رکھتا ہو، بے حیا، زانی،زانیہ، لبرل، لادین، غدّار، بے غیرت اور فاسق وفاجر قرار پائے گا۔ محترمہ عاصمہ جہانگیر کی وفات پر جشن منانے اور نفرت انگیز گفتگو کرنے کا  جواز فراہم کرنے کے لیے ایک جانب احادیث و روایات پیش کی گئیں تو دوسری جانب غدّاری اور کفر کے سرٹیفیکٹ تقسیم کیے گئے۔ بالکل ایسے ہی اظہاریے اور بیانیے محترمہ بے نظیر بھٹو، سلمان تاثیر، جنید جمشید اور عبدالستّار ایدھی کے اس دنیا سے رخصت ہونے کے بعد بھی دیکھنے کو ملے تھے۔

ایک عدالتی حکم کے بعد سرکاری سطح پر تنبیہ جاری کی گئی کہ میڈیا کے   ذریعے ویلنٹائن ڈے کی پروموشن پر پابندی عائد کر دی گئی  ہے کیونکہ اس سے معاشرے میں فحاشی و عریانی کو فروغ ملتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ  سرخ کپڑے زیب تن کرنے، سرخ گلاب کے لین دین اور سرخ دل والے تحائف میں  فحاشی و عریانی کا پہلو کہاں سے نکلتا ہے ؟ مانا کہ ویلنٹائن ڈے مغربی تہوار ہے مگر ہیر رانجھا، سونی مہیوال اور سسّی پنہوں کی لازوال داستان عشق و وفا تو ہماری  ہی ثقافت کا حصّہ ہیں کیا ان کے لیے کوئی ثقاقتی گنجائش نکالی جاسکتی ہے یا محبت اور اظہار محبت ہی کوجرم ٹہرا دیا گیا ہے۔

سوال یہ بھی ہے کہ سفلی جذبات سے مغلوب ہوکر گناہ کرنے والے ویلنٹائن ڈے کا انتظار کب کرتے ہیں؟  کون سی مسجدوں اور مدرسوں میں مخرّب اخلاق ٹی وی پروگرامز دکھائے جاتے ہیں جن سے مولویوں کا ایمان خطرے میں پڑ جاتا ہے اور وہ معصوم بچوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بناتے ہیں۔ ہم  یہ بات سمجھنے سے قاصر کیوں ہیں کہ انسانی جذبات کے اظہار سے تعلق رکھنے والے ثقاقتی تہواروں پر پابندی لگا کر ہم اسلامی معاشروں کی گھٹن میں اضاقہ کر رہے ہیں۔ آج کا لبرل مسلمان اسلام سے نہیں بلکہ  مذہبی روایت پسند گروہوں کے رویّوں سے خائف ہے۔ اس کے علاوہ  مذہبی روایت پسند گروہوں کے رویّوں میں ایک تضاد یہ بھی پایا جاتا ہے کہ یہ اپنی صفوں میں موجود کالی بھیڑوں سے کبھی بھی سختی سے نپٹتے  دکھائی نہیں  دیے لیکن عوام الناس کی جانب سے ہونے والی لغزشوں پر انہیں  واجب القتل اور خارج ازاسلام قرار دے دیتے ہیں۔

گزشتہ دنوں محترمہ عاصمہ جہانگیر کی نماز جنازہ  کے موقع پر مردوں اور خواتین کے جم غفیر کودیکھ کر خوشی محسوس ہوئی مگر دوران نماز صفوں میں شرکاء کی الجھن اور بے ترتیبی نے تنقید کرنے والوں کو ایک اور موقع دے دیا ۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ خواتین رضا کارانہ طور پر پچھلی صفوں میں قیام کرتیں کیونکہ یہ موقع صنف نازک کی برتری یا برابری ثابت کرنے کا نہیں تھا بلکہ ایک فرض کفایہ کے ادا کرنے اور مرحومہ  کے حق میں دعائے خیر کرنے کا تھا۔ لبرلز معمولی سے نظم وضبط اور معاملہ فہمی کا مظاہرہ کرکے اپنے بیانیوں اور اظہاریوں کومزید تقویت دے سکتے تھے مگر اب اس مخلوط اور غیرمنظم  نماز جنازہ  نے ایک نئی جنگ کا آغاز کردیا ہے مسئلہ یہ ہے کہ دونوں طبقات اپنی ضد اور انا میں ایک دوسرے کے خیالات اور بنیادی نظریات  کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرنا چاہتے اور انکے درمیان غلط فہمی اور نفرت کی خلیج گہری ہوتی جارہی ہے ۔ لبرلز اور مذہبی روایت پسند گروہوں کی فکری جنگ کی آندھی نے ماحول کو آلودہ کردیا ہے ۔ خیر فکری انفرادیت رکھنے والے افراد تو ایسے ماحول میں خود کو جدا رکھتے ہوئے آزاد تجزیہ کار کی حیثیت سے معاملات کا مشاہدہ کرتے ہیں  مگر عوام کی خاموش اکثریت جو ان دونوں گروہوں کی تقلید کرتی ہے ایسے مواقعوں پر بند گلی میں داخل ہو کر فکری انحطاط اور جمود کا شکار ہو کر انتہا پسندی کی طرف مائل ہوجاتی ہے۔ انسانی تاریخ میں ہمیشہ سے ہی جدّت پسند اور روایت پسند گروہوں کے درمیان نظریاتی کشمکش کا سلسلہ جاری رہا ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ سرخ گلابوں کا راستہ روکنے والی قوموں کے تخت سرخ انقلابوں نے الٹے ہیں ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس نظریاتی جنگ کا اختتام کہاں جا کر ہوتا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here