عاطف توقیر

دنیا بھر کے تمام معاشروں ہی میں شدت پسندی بڑھ رہی ہے اور اقلتیوں کے خلاف تشدد اور حملوں کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ دوسری جانب فقط اقلیتیں ہی نہیں بلکہ وہ افراد بھی شدت پسندوں کے حملوں، طعنوں، گالیوں اور القابات کا شکار ہیں، جو امن، بھائی چارے اور دیگر افراد کے حقوق کی خاطر آواز اٹھاتے ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چھ مسلم ممالک کے شہریوں پر امریکا میں داخلے پر پابندی عائد کی، تو ایک طرف وہ سخت گیر نظریات کے حامل افراد تھے، جو مسلمانوں اور اسلام سے نفرت کی بنیاد پر ٹرمپ کے اس فیصلے پر جشن منا رہے تھے اور دوسری جانب وہ ’لبرل اور سیکولر‘ افراد جو مختلف ریاستوں کی سڑکوں پر صدر ٹرمپ کے اس فیصلے کے خلاف سراپا احتجاج تھے اور مسلمانوں سے یک جہتی کے اظہار کے لیے ہوائی اڈوں پر گھنٹوں کھڑے ہو کر ملک میں پہنچنے والے مسلمانوں کو گلے لگا رہے تھے۔

لندن میں کچھ عرصے قبل مسلمانوں پر تیزاب حملوں کے واقعات شروع ہوئے، تو یہی فسادی لبرل اس شہر کی سڑکوں پر بھی اسلاموفوبیا اور مسلمانوں سے نفرت کی مہم کے سامنے کھڑے ہو کر مسلمانوں کی دل جوئی کرتے نظر آئے۔ یہ افراد نہ صرف ان تیزاب حملوں، اسلاموفوبیا کے بڑھتے جذبات اور مسلمانوں کے خلاف تشدد کے واقعات پر نکتہ چینی کر رہے تھے بلکہ حکومتِ برطانیہ سے بھی مطالبات کر رہے تھے کہ وہ ملک میں مسلمانوں کے تحفظ کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔

جرمنی بلکہ یورپ بھر میں داعش کے دہشت گردانہ حملوں کے پے در پے واقعات اور مہاجرین کے بحران کے تناظر میں مسلمانوں کے خلاف نفرت میں اضافہ ہوا، تو یہی غدار لبرل اور سیکولر یورپ بھر کی سڑکوں پر اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ کھڑے تھے۔ مسلمان مخالف تنظیموں کی جانب سے جب بھی قوم پرست اور مذہبی جنونی یورپ کی گلیوں سے برآمد ہوئے، ان سے زیادہ بڑی تعداد میں لبرل اور سیکولر یورپی شہری مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سامنے کھڑے نظر آئے۔

دور کیا جانا، بھارت میں گائے کے گوشت کے موضوع پر مسلمانوں کے حقوق سلب کرنے کی کوشش کی، تو یہی ’موم بتی مافیا‘ وہاں ہندو انتہا پسندوں کے اقدامات پر کڑی تنقید کرتی ہوئی مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے آواز اٹھاتی نظر آئی۔ یہی فسادی لبرل اور سیکولر ٹولہ ہی، کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اپنے ہی ملک کی حکومت اور فوج تک کو تنقید کا نشانہ بناتا ملا اور انسانی تکریم اور بنیادی حقوق کے لیے پوری قوت سے بولتا نظر آیا۔

پاکستان میں یہ موم بتی مافیا، جس کی تعداد، ضیاالحق کی پڑھائی جانے والی اسلامیات اور مطالعہ پاکستان کی بنا پر آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں اور جہاں ملاوٹ کے معاشرے میں لبرل اور سیکولر افراد میں سے ایک بڑی تعداد بھی فقط جذباتی یا مزاحتمی طور پر لبرل یا سکیولر ہے، وہاں بھی اقلیتوں پر مظالم ہوں، ہندو لڑکیوں کا اغوا اور جبری تبدیلی مذہب ہو، مسیحیوں پر حملے ہوں، احمدی عبادت گاہوں کی تباہی ہو یا چھوٹے صوبوں کے ساتھ عدم مساوات، یہی ’لنڈے کے لبرل‘ اور ’موم بتی مافیا‘ کوئی بات کرے تو کرے۔ یہی غدار لوگ ملک کے آئین کی بالادستی کے لیے کوئی دبی دبی سی آواز نکالیں تو نکالیں۔

دوسری جانب اس سے بھی زیادہ خوف ناک بات یہ ہے کہ یہ طبقہ جو کسی دور میں ملک میں اکثریت میں ہوا کرتا تھا اور جو اب سکڑ کر اپنی کم ترین سطح پر ہے، وہ خود ریاستی اور غیر ریاستی عناصر کی جانب سے شدید نوعیت کے چیلنجز، دھمکیوں، حملوں، تشدد اور دیگر عقوبتوں سے دوچار ہے۔

پاکستان میں جہاں کہیں، کسی صوبے، کسی اقلیت، کسی مذہب، کسی نسل، کسی ثقافت یا کسی زبان سے متعلق گفت گو ہو، آپ کو اس پر رائے دینے والے دوستوں سے معلوم ہو جائے گا کہ ملک داخلی طور پر کس حد تک تقسیم کا شکار ہے۔ ایسے میں اگر اپنی ذات، برادری، صوبے، مذہب، مسلک یا زبان سے ممتاز ہو کر کوئی آواز اٹھائے، تو اسے کس انداز کے جملے سننے کو ملتے ہیں، یہ اندازہ شاید کم ہی لوگوں کو ہو۔

ملک میں ایک اور رسم چوں کہ ایک طویل عرصے سے چل نکلی ہے کہ کسی کا ساتھ دینے کے لیے اس شخص یا گروہ یا برادری سے کوئی رشتہ داری یا تعلق کا ہونا ضروری ہے اور فقط انسانیت کی بنیاد پر کوئی ہم نوائی شاید ممکن نہیں، اس لیے مسیحیوں پر کوئی حملہ ہو اور آپ کی جانب سے اس حملے کی مذمت کی جائے، تو آپ کو سننے کو ملے گا کہ یقین کسی مسیحی ملک نے آپ کو ڈالر عنایت کر دیے ہیں۔ کسی ہندو کے ساتھ کسی زیادتی پر آپ آواز اٹھائیں، تو آپ کو سننے کو ملے گا کہ یقیناﹰ آپ یقینناﹰ نئی دہلی کی گود میں جا بیٹھے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ کچھ دن قبل سیالکوٹ میں ایک احمدی عبادت گاہ پر حملہ ہوا اور سوشل میڈیا پر اس حملے کی مذمت کرتے کچھ روز دکھائی دیے، تو ان کی ان پوسٹوں پر تبصرے کرتے لوگ مذمت کرنے والوں ہی کو احمدی اور قادیانی جیسے القابات سے پکار رہے تھے۔ یعنی اگر کسی برادری پر تشدد ہو رہا ہے، تو آپ کیوں چپ نہیں رہتے؟ کسی برادری کی کوئی عبادت گاہ مسمار ہوتی ہے، تو آپ بغیر رشتہ داری کے اس کی حمایت کیوں کر رہے ہیں؟

میں نے کم از کم یہی دیکھا ہے کہ جب کسی مہاجر کے بنیادی حقوق پر مجھے بولنا پڑا، تو مجھے سننے کو ملا کہ آپ یقینناﹰ ایم کیو ایم کے رکن ہیں۔ کسی مسیحی بستی پر آگ برسی یا کسی فرزند تثلیث کو لاپتا یا قتل کیا گیا اور میں نے آواز اٹھائی تو سننے کو ملا کہ آپ یقینناﹰ مسیحی عقائد سے وابستہ ہو چکے ہیں۔

پشتونوں کے دستوری مطالبات کے لیے بات کرنا پڑی، تو تبصرے میں مجھے ’افغان مہاجر‘ قرار دیا جانے لگا۔ سندھ میں لاپتا افراد کا ذکر کیا اور قانون کی بالادستی کے لیے لاپتا افراد کو عدالتوں میں پیش کرنے کا کہا، تو تبصروں میں لکھا تھا، آپ یقینناﹰ ’سندھو دیش‘ جیسی تحریک سے جڑ چکے ہیں۔

بات یہ ہے کہ جس علاقے میں شدت پسند قوتوں کے سامنے ترقی پسند اور روشن دماغ قوت اس حد تک دباؤ میں ہو، جہاں ریاست اپنی پالیسیوں سے انسانی دماغ سے سوالات، فکر، سوچ بلکہ انسانیت ہی معدوم کر دے اور جہاں انسانیت کی بنا پر ہر رنگ، نسل، قوم، برادری، مسلک، فرقے، ثقافت یا زبان سے بالاتر ہو کر دستور اور اقدار کے تحفظ کے لیے آوازیں اتنی کم ہو جائیں یا اتنی دبا دی جائیں اور پورا معاشرہ کسی نہ کسی حد تک کی شدت پسندی ہی کو درست اور واحد راستہ سمجھنے لگے، انسانی تاریخ گواہ ہے کہ ایسی معاشرت کو کھنڈر بننے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔

جب کسی علاقے میں چیلیں، کوے اور مردار خور گدھ آسمان پر بہت بہتات اور انتہائی بڑی تعداد میں دکھائی دینے لگیں، تو سمجھ جائیے کہ زمین پر یا تو کوئی مر چکا ہے یا مرنے والا ہے۔

سو ایسے معاشرے میں ہر شخص فقط اپنی اپنی باری پر اپنی اپنی غیرفطری موت کا منتظر ہوتا ہے۔ جب کسی انسانی معاشرے میں دستور اور قانون تک ہی کو خاطر میں نہ لایا جائے، تو ایسے معاشرے کا زندہ رہنا، خود ایک معجزہ ہے، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اب نہ کوئی پیغمبر ہے اور نہ ہی معجزے رونما ہوتے ہیں۔ تقدیر کا قاضی اپنا فیصلہ سنا چکا ہے۔ جو جو کائنات کے فطری قانون سے روگردانی کرے گا، جو جو نفرت، تقسیم اور ناانصافی کے معاشرے کا دفاع کرے گا، جو جو انسانی اقدار کی تباہی پر جشن منائے گا، وقت کا عفریت مکافاتِ عمل کی چَکی میں اس کا چکرا شروع ہو چکا۔ وہ بس انتظار کرے۔ دوسری صورت میں امریکا ہو کہ یورپ، بھارت ہو کہ پاکستان، انسانیت کے لیے کھڑے ہونا سیکھیے۔

سوال یہ ہے کہ اگر آپ امریکا میں ہوتے اور مسیحی مذہب سے تعلق رکھتے، تو کیا آپ مسلمانوں کے خلاف لگنے والی پابندی پر جشن مناتے یا احتجاج کرتے؟ اگر آپ اسرائیلی شہری ہوتے، تو کیا عام فلسطینی شہریوں کے قتل پر رقص کرتے یا مذمت کرتے؟ اگر آپ بھارتی ہوتے، تو کیا کشمیروں کے بنیادی حقوق کی پامالیوں پر گانے گاتے یا تنقید کرتے؟ یہ سوال پوچھنے کے بعد خود سے یہ پوچھیے گا کہ آپ پاکستانی ہیں اور آپ کے سامنے ملک میں صوبوں، رنگوں، نسلوں، قومیتوں، مسالک اور مذہب کی بنیاد پر مختلف برادریوں کے ساتھ جو ظلم ہو رہا ہے، آپ کس جانب کھڑے ہیں؟ جشن منانے والوں میں یا اپنے جیسے دیگر انسانوں کے دکھوں کا ماتم کرنے والوں میں؟

اقبال نے کہا تھا

خدا کے بندے تو ہیں ہزاروں بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے

میں اس کا بندہ بنوں کا جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہو گا

اگر انسانیت اور اپنے ملک کے عوام کے بنیادی اور دستوری حقوق کے لیے آواز اٹھانا، انتشار اور فساد پھیلانا ہے، تو سمجھ لیجیے خدا کے حضور اس سے زیادہ مقدس ’فساد‘ کوئی نہیں ہو سکتا۔

اب جو چپ ہیں انہیں قاتل ہی پکارا جائے