شہزاد فرید

ایک یونانی فلاسفر “مادی وجود” کی نفی کا پرچار کرتے ہوئے اپنے شاگردوں پہ واضع کرنے کی کوشش کررہا تھا کہ اس دنیا میں جو کچھ بھی ہم پر عیاں ہورہا ہے وہ سب نظر کا دھوکا ہے، سب مایا ہے، کوئی شے جو وجود رکھتی ہے جگہ گھیرتی ہے درحقیقت اس کا کوئی وجودنہیں بلکہ وہ ہمارا احتمال ہے۔معلمِ عالمِ نفی، نفی اثبات کی ذہنی عیاشی میں مگن تھے کہ اچانک وہاں ایک شیر اپنے پورے مادی وجود کے ساتھ نمودار ہوا۔جونہی استادِ محترم کی لاہوتی نگاہ شیر کے وجود کو پہنچی ، جناب نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور آناً فاناً بھاگ کھڑے ہوئے ۔شیر کی رخصتی کے چند لمحوں بعد استادِ محترم کا وجودِ نفی ، اثبات کا بوجھ لئے دوبارہ منبر پہ ٹِک گیا، شاگردوں نے دیکھا کہ استادِ محترم تو دلیلِ نفی کی نفی کر چکے ، تو سوال داغا کہ “یا مرشدی یہ ماجرا کیا ہے”آپ کی نظرنے شیر کے مادی وجود کو کیونکر نظر کا دھوکا تسلیم نہیں کیا ؟استاد صاحب چیلوں سے مخاطب ہوئے اور فرمایا، دیکھا !! میں نا کہتا تھا کہ سب نظر کا دھوکا ہے! تم لوگوں نے جو مجھےبھاگتے دیکھا وہ بھی تمہاری نظر کا دھو کا ہی تھا، در حقیقت میں تو اسی منبر پہ موجود تھا!

آجکل ایسے ہی دلائل آپ کو نومولود، غیر مولود اور دیر مولود سیاسی مَستوں سے سننے کو ملیں گے جن کی سماع خراشی یقیناً آپ کے لئے ہمہ قسم خراشی کا سامان پیدا کرتی ہوگی۔ان کے دلائل میں منطق و استدلال کی وہ اعلیٰ ، وہ ارفع صنف پائی جاتی ہے جو پنجابی شاعری کے ماہیئے اور ٹَپوں میں چِٹے کُکڑکو کاشنی دُپٹے سے متصل کرنے میں ذرا شرم محسوس نہیں کرتی ، اُن گیتوں کی منطق جو “لونگ اور لاچی ” کے معکوس ذائقے کو رومانیت میں ڈھالتے ہوئے ایک دوسرے کے پیچھے”گواچی گاں” کی طرح “گواچ”رہے ہیں۔چند دنوں سے میں ان تما م دلائل کو ہضم کرنے کی ناکام سعی کرتا رہا ہوں لیکن یہ متواتر میری ذہنی تند بڑھاتے جارہے ہیں۔

یسےتخلیقی دلائل کی عظیم مثالیں آپ کی سیاسی بصیرت کی نظر کرنے سے پہلے ، میں جہانِ دانش کے ان فلاسفروں کواس مست شخص سے تمثیل کرنا چاہتا ہوں جو ڈھول کی تھاپ پہ بدمست رقصاں تھا ، جب ہجوم نے اس سے دریافت کیا کہ بھائی کیوں مٹی دُھول کررہے ہو تو مست اپنی بدمستی و بے مستی کی مُخنص کیفیت میں پکارا”مینوں نئیں پتہ میں ایتھے نواں آیاواں پر مینوں ڈھول بہت پسند اے” (مجھے نہیں معلوم میں اس دنیا میں نیا ہو ں لیکن مجھے یہ ڈھول بہت پسند ہے)۔اب ایسے سیاسی مست افراد کی پنجابی ٹَپوں والی منطق ملاحظہ فرمائیں جو ایک غیر رسمی گفتگو ہے لیکن میں سمجھتا ہوں یہ ہر عام آدمی کی سیاسی بصیرت کی نمائندگی کررہی ہے۔

میں نے ایک سیاسی جیالے سےسادہ سا سوال پوچھا کہ آپ کی قیادت تھر میں پانی فراہم کرنے سے قاصر کیوں تھی جبکہ مرکزی حکومت میں سند ھ کی ہی قیادت اورنمائندگی تھی ۔سوال سنتے ہی جناب نے فوراً جواب دیا کہ ہم نے صرف روٹی، کپڑا اور مکان کا دعدہ کیاہے، اس میں پانی شامل نہیں!میں نےایک جماعت کے کارکن سے سوال کیا کہ آپ کی جماعت پاکستان میں ہی ایک ایسا ہسپتال کیوں نہیں بنوا لیتی جس میں ان کا علاج ہو سکے ، اس سےہمارا ملکی بجٹ کم از کم انگلینڈ کے ہسپتا ل میں تو تیارنہیں ہوگا۔ابھی آدھا سوال میرے منہ میں ہی تھا کہ عزت مآب نے اپنی شعلہ بیاں چشمِ شاہیں بمعہ بال و پر میرے چہرے پہ ایسے چپکادی جیسے معمولی کپڑے سے گرم استری چپک جاتی ہے۔چند لمحوں بعد شعلہ چشم میں حسن کُوزہ گر کی سی ہلکی نمی کا احساس ابھرا اور بوڑھے عطار سے مخاطب ہوتے ہوئے زبان کے میناو سبو و فانوس و گلدان توڑ ڈالے۔اب ہم اچھی جگہ سے علاج بھی نہیں کروا سکتے، جام چھلکا، ہمیں یہ حق حاصل نہیں کیا؟

سبو ٹوٹا، اگر نہیں تو پاکستان کے تما م پُل گرادو، موٹروے اکھاڑ پھینکو، میٹرو کو سومنات کے کھنڈرات بنوا دو، اوررنج ٹرین کی پیدائش سے پہلے ہی ترقی کی نَس بندی کرادو ، ع کو ع غ کردو، وغیرہ وغیرہ کو وغیرہ وغیرہ کردو ، ایک ایک کرکے سارے عقلی ظروف توڑے گئے ، میں نے بوڑھے عطار کی صراحی گردن بچانے میں عافیت جانی ۔ سوال گندم جواب چنا اور وہ بھی لوہے کا، جو آجکل گیہوں کی تمثیل بھی معلوم نہیں پڑ تا ۔ایک اور سیاسی مست نے میری انشاء صفت چھید گیر جھولی میں تپتی ریت سا سوال گرایا کہ اگر اقبال احمد جیسا مرتد اس ملک میں خلدونیہ جیسی یونیورسٹی بنانے میں کامیاب ہوجاتا تو اسلامی جمہوریہ پاکستا ن سے لفظ”اسلامی ” حذف کرنے کی نوبت آپہنچتی اور وہ تفریحی مواقع جو ہماری قیادت نے گالف کلب کی صورت میں پاکستان کی غیور عوام کو فراہم کئے ہیں پابہ جُولاں ہوتے۔سوال کے فوراً بعد جناب رومی کی سی رقصِ بسمل کیفیت ڈھالتے ہوئے کھڑے ہوئے جیسے اس شعر پہ رقصاں ہونے کو تیار ہوں۔

ابھی مت دیجیؤ جواب کہ میں
جھوم تو لُوں سوال پر اپنے

ایک اور سیاسی مست نے ارسطو کی “استخراجی ہائیکو ” میں ایسی دلیل باندھی کہ راجستھانی چولی کی گانٹھ بھی رشکاں ہو۔جناب نے استخراجی دلیل کے تما م ارکان بہ ترتیب پورے کرتے ہوئے نتیجہ اخذ کیا ہے۔ دلیل کچھ یوں ہے، تمام سیاستدانوں کی بات ، باتوں کی سیاست ہوتی ہے، عمران خان ایک سیاستدان ہے، لہٰذا، عمران خان باتوں کی سیاست کرتا ہے۔

اگر آپ اصولِ منطق سے واقف ہیں تو اس دلیل کی نفی کیونکر ممکن ہوگی ، منطق کے تمام لوازمات سے تیار کی گئی اس سیاسی دلیل نے کئی دن تک میرے دماغ وغیرہ کو کھولنے کاسامان پیدا کیا رکھے۔میں ان تما م سیاسی مست صاحبان سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جن ڈھولوں کی تھاپ پہ وہ بدمست رقصاں ہیں اور رجز گا رہے ہیں کہ “بر سرِ خار می رقصم ” ان کو معلوم ہونا چاہئے کے ڈھول کے کان نہیں ہوتے، وہ صرف بولنا جانتا ہے سننا نہیں! اور رہی بات آپ کے دلائل کی تو میری نہایت عاجزانہ گزارش ہے کہ ایک جملے کو دلیل کا درجہ حاصل کرنے کے لئے منطق کی پانچ ہزارسالہ زندگی چند لفظوں میں جینی پڑتی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here