جواد احمد بھٹی

لوہار ہمیشہ سے چوہدری کی درانتیاں اور کلہاڑیاں تیز کرتے آئے۔اب چوہدری نے لوہاروں کو گھر سے نکالنا شروع کر دیا تو لوہاروں نے ایکا کر لیااور جب چوہدری کی درانتیاں تیز ہونے کے لیے آئیں تولوہاروں نے چوہدری کی دانتیوں کی دستیاں اتار دی اور ان کہ دندے کاٹنا شروع کر دیے۔اس حرکت پہ چوہدری کو اور غصہ آیا اور اس نے پنچائیت کو بٹھا کر لوہاروں کو گاّؤں سے نکالنے کی دھمکی بھی دی ۔مگر پھر بھی چوہدری پریشان ہے کٹائی کا وقت ہے اور درانتیاں بے کار۔ اب کبھی نائیوں کی کند درانتوں سے فصل کاٹنے کی سوچتا ہے اور کبھی کمہاروں کی۔

ہر آزمائشی تجربے میں فصل کا بیڑہ غرق ہو رہا ہے اور درانتی بھی نہیں مل رہی۔لوہاروں نے اپنی فصل تھریشر میں ڈال دی ہے خیر سے دانے نکل رہے ہیں۔اور علاقے کے کمی کہتے ہیں لوہاراں دے منڈے بازی لے گئے۔یہ چوہدری کچھ نہیں تھا ہم ویسے سہمے رہے ۔اب لوہار کمیوں کو بھی خاطر یں نہیں لاتا۔ہر گاما ماجا اب لوہاروں کا رازدار ہے ۔کچھ منچلے یہ بھی کہتے ہیں۔آ گیا۔لوہار چھا گیا لوہار۔ بچے سکول سے چھٹی پر یہ نعرہ لگاتے نکلتے ہیں۔ لوہاراں نال جٹی اے۔۔چوہدری تیری چھٹی اے، پگ بچاویں چوہدری آئے لوہار آئے لوہار۔

اب گاؤں کے بابا جی بوہڑ کے نیچے بیٹھ کر چوہدری کے پریشان منشی سے یہ کہہ رہے تھے۔
منشی۔سن لے ہک لوہار دی وج گئی اے
تسی اپنیاں سو سو سانبھ کہ رکھو۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here