شیر نادر شاہی

21 فروری کو دنیا بھر کی چھوٹی اور بڑی قومیں ’’مادر ی زبانوں کا عالمی دن‘‘ کے طور پر مناتی ہیں۔ اس کا مقصد دنیا بھر میں بولی جانے والی زبانوں کا تحفظ کرنا اور ان کو معدوم ہونے سے بچاتے ہوئے ان کی ترویج کے لیے کام کرنا ہے۔ اس دن کو سابقہ مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) کے شہر ڈھاکہ میں بنگالی کو قومی زبان بنانے کے لیے پرامن احتجاج کرنے والے ان طلبہ و طالبات کے ساتھ منسوب کیا جاتا ہے جن پر 1952 میں اپنی زبان کے لیے آواز اٹھانے کی پاداش میں گولیاں برسائی گئیں اور کئی نوجوانوں کو شہید کیا گیا۔

نومبر 1999ء کو یونائٹڈ نیشن ایجوکیشنل سائنٹفک اینڈ کلچرل آرگنائزیشن (UNESCO) نے جنرل کانفرنس میں اس دن کو باقاعدگی سے منانے کا اعلان کیا۔ اور 21 فروری 2000 سے باقاعدہ اس دن کو منانے کا عمل شروع ہوگیا۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ نے بھی سال 2008 کو ’’مادری زبانوں کا عالمی سال‘‘ کے طور پر منانے کا اعلان کر دیا اور 16مئی 2009 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں تمام ممبرز ممالک کو پابند بنایا گیا کہ وہ تمام چھوٹی بڑی زبانوں کے تحفظ و ترویج کے لیے کام کریں تاکہ مختلف زبانیں بولنے والے ایک دوسرے کی زبانوں کا احترام کرنا سیکھیں اور زبان و ثقافت کے ذریعے دنیا بھر میں میں امن و امان قائم کیا جاسکے۔

گلگت بلتستان جس طرح اپنی جغرافیائی حیثیت کے حوالے سے اہمیت کا حامل ہے بالکل اسی طرح مختلف زبانوں، تہذیب و تمدن اور منفرد ثقافت کی بدولت اپنا منفرد مقام رکھتا ہے۔ مختلف زبانیں اس خطے کی اہمیت کو دنیا بھر میں دوبالا کر دیتی ہیں۔ بنیادی طور پر اس خطے میں پانچ بڑی زبانیں بولی جاتی ہیں؛ جن میں شینا، بلتی، بروشاسکی، کھوار اور وخی شامل ہیں۔ ان کے علاوہ کچھ چھوٹی زبانیں بھی بولی جاتی ہیں جن میں گوجری، ڈوماکی(داودی) وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔

بلتستان کے تمام اضلاع میں تقریباً 90 فیصد بلتی بولی جاتی ہے جب کہ کچھ علاقوں میں شِنا بھی بولی جاتی ہے۔ دیامر، استور، گلگت اور غذر کے مختلف علاقوں کے علاوہ ہنزہ نگر کے بعض علاقوں میں بھی شِنا بولی جاتی ہے۔ بروشاسکی زبان ضلع غذر کے تحصیل یاسین، ہنزہ اور نگر میں اکثریتی طور پر بولی جانے والی زبان ہے۔ اسی طرح کھوار ضلع غذر کے علاقے اشقمن (اشکومن)، پھنڈر، گوپس اور یاسین میں بولی جاتی ہے۔ جب کہ گلگت بلتستان کا تاریخی حصہ چترال (جو اب کے پی کے میں شامل ہے) میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے اور وخی زبان ہنزہ کے علاقے گوجال شمشال اور ضلع غذر کے علاقے اشقمن (اشکومن) میں بولی جاتی ہے۔

صدیوں سے گھل مل کر آپس میں رہنے کی وجہ سے خطے کے لوگ ایک دوسرے کی زبانیں آسانی سے بولتے اور سمجھتے ہیں اور اس تاریخی روابط کی بدولت کچھ الفاظ مشترکہ طور پر اکثر و بیشتر استعمال ہوتے ہیں اور کچھ ایسے الفاظ بھی مشترکہ بولی کے باعث ایجاد ہوئے ہیں جن کو پڑھنے کے بعد یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ یہ بنیادی طور پر کس زبان کے الفاظ ہیں۔ اس طرح کے الفاظ خاص کر بروشاسکی اور کھوار میں پائے جاتے ہیں۔ جیسے برشاسکی میں تَتی236والد، نَنی 236والدہ کے لیے بولا جاتا ہے جب کہ ان سے ملتے جلتے الفاظ تَت236والد، نَن236امی کو کہتے ہیں۔ دونوں زبانوں میں اب یہ فرق کرنا مشکل ہے کہ یہ الفاظ بنیادی طور پر کھوار کے ہیں یا بروشاسکی۔

بالکل اسی طرح اگر ہم شِنا زبان کی بات کریں تو اس میں بھی بہت سارے الفاظ شِنا اور بروشاسکی میں مشترکہ طور پر ایک ہی مطلب کے لیے استعمال ہوتے ہیں جیسے ظَل236ہِلنا، بوردی236زمین، اور اس طرح کے بے شمار الفاظ موجود ہیں جن پر بات کی جاسکتی ہے اور بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے لیکن بد قسمتی سے ان زبانوں کو تحریری شکل میں زندہ رکھنے کی ضرورت پر بہت کم غور کیا گیا، جس کی وجہ سے یہ زبانیں زوال کا شکار ہیں۔

بلتستان اور کرگل لداخ میں بولی جانے والی سب سے بڑی زبان بلتی پر کسی حد تک کام کیا گیا ہے۔ اس زبان کا اپنی رسم الخط موجود ہے اور بلتستان کے بڑے بڑے شعرا غلام حسن حسنی، پروفیسر حشمت کمال الہامی، احسان دانش، میر اسلم سحر اور دیگر ادیبوں نے بلتی ادب و شاعری، گیت، حمد و نعت، سفرنامے، بلتی لغات پر کام کیا جس کی وجہ سے اس زبان کا مستقبل درخشاں ہے۔ تاہم اس کے تحفظ کے لیے مزید کام کی ضرورت ہے۔

اگر ہم شِنا زبان کی بات کریں تو اس زبان پر بھی ماضی میں بہت زیادہ کام نہیں ہوا۔ البتہ پرانے شعرا رحمت جان ملنگ، فضل الرحمان عالمگیر (مرحوم)، بابا چیلاسی اور ان کے بعد جان علی جانان، جمشید خان دکھی، عبدالخالق تاج، امین ضیا، عزیزالرحمان ملنگی، امتیاز حسین شہکی، ظفر وقار تاج جیسے مایہ ناز شعرا، ادیب اور گلوکاروں نے کام کیا۔ جن کی محنت کے باعث اس وقت دیگر چھوٹی زبانوں کے مقابلے میں شِنا ادب و شاعری عروج پر ہے۔ جس کی مثال رحمت جان ملنگ اور دیگر کے شنا شعری مجموعے ہیں، شاعری کیعلاوہ شِنا رسم الخط پر بھی کسی حد تک کام ہوچکا ہے۔ تاہم آپس میں بیٹھ کر بحث مباحثے کے بعد کسی ایک انداز میں مل کر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے، ورنہ شِنا کا حشر بھی وہی ہوگا جو دیگر زبانوں کا ہو رہا ہے۔

اب آتے بروشاسکی کی طرف۔ اس زبان کی بد قسمتی یہ رہی ہے کہ اس کو بولنے والے کسی ایک مخصوص جغرافیے کے اندر نہ ہونے کے باعث ایک ہی زبان بولنے والوں کی آپس میں دوریاں بڑھ رہی ہیں۔ جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا ہے کہ بروشاسکی بولنے والے نگر، ہنزہ اور یسن (یاسین) میں آباد ہیں اور تینوں جگہوں کی بولی ایک دوسرے سے تھوڑی مختلف ہے۔ جس کی بنیادی وجوہات میں سے ایک وجہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان کو دیگر زبانوں نے متاثر کیا اور اس کے تحفظ کے لیے کام نہیں ہوا اور بدقسمتی سے یہ تین حصوں میں تقسیم ہوا، جن میں نگرے بروشاسکی، ہنزہ برشاسکی، اور یسینے بروشاسکی۔

اس زبان پر انفرادی طور پر کسی حد تک کام کرنے کی کوشش کی گئی لیکن اجتماعی طور پر اس پر کام نہیں ہو سکا۔ ہنزہ میں بابائے بروشاسکی علامہ نصیرالدین نصیر ہنزائی نے اپنے انداز میں ہنزہ بروشاسکی کے لیے بہت زیادہ کام کیا اور ان کی بروشاسکی لغات اور شاعری کی تصانیف قابلِ ذکر ہیں۔ جب کہ وہاں زبانی شعر و ادب پر شیر باز ہنزائی، شاہد اختر قلندر، محسن اسیر، ڈیرو اقبال اور دیگر شعرا نے کام کیا۔ اسی طرح نگر میں سید یحیٰ شاہ، اسماعیل ناشاد و دیگر کی خدمات قابلِ ذکر ہیں۔

اسی طرح یسینے بروشاسکی پر بہت بعد میں کام شروع ہوا بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ یہاں پرانے شاعر مچھی بپ (دادامچھی) اور جمائیل خان کے بعد شاعری میں ایک جنریشن کا گیپ آیا اور ان کے بعد کے جنریشن نے شعر و ادب پر کام نہیں کیا اور جنہوں نے کیا ان کی شاعری میں بروشاسکی سے زیادہ اردو الفاظ شامل ہوگئے اور شاعری کا معیار نہ ہونے کے باعث عوام میں سوائے چند ایک کے کسی کو پذیرائی نہیں ملی لیکن پھر بھی عبدالمالک، شکورمن کلیم، علی مدد بائے اور دیگر نے اس علم کو ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ یسینے بروساسکی میں پہلی بروشاسکی ڈکشنری ’’بروشاسکی رژون‘‘ کے نام سے منظر عام پر آئی جس کا مصنف نوجوان اسکالر ایڈوکیٹ وزیر شفیع ہے۔

اس ڈکشنری کے آنے کے بعد بھی ایک طویل عرصہ گزر گیا، کوئی اشاعت نہیں ہوئی۔ لیکن بعد میں اچانک یسینے بروشاسکی کینام سے ایک شاندار کتاب لکھی گئی۔ اس کتاب کے مصنف کا نام عبدالحمید خان ہے جس نے اپنی طویل جلاوطنی کے دوران کتاب کی طباعت و اشاعت کو ممکن بنایا۔ اس کتاب کے منظر عام پر آنے کے بعد بروشاسکی زبان پر کام آب و تاب کے ساتھ شروع ہوا۔ ایک دو سال بعد اس کتاب کا دوسرا ایڈیشن بھی منظر عام پر آیا، جس سے نوجوان قلم کاروں شاعروں کے لیے نیا راستہ مل گیا اور اب ’’لوظینگے پوٹالو‘‘ کے نام سے معروف بروشاسکی محقق و ادیب عبدالحمید خان کی لکھی گئی بروشاسکی ڈکشنری طباعت و اشاعت کے مراحل میں ہے۔

اگر یسنے بروشاسکی کے شعر و ادب کے حوالے سے دیکھا جائے تو اس میں استاد بلبل مراد کا نام اولین فہرست میں شامل ہے۔ اس کے علاوہ جدید شاعری میں نوجوان شاعر بشارت شفیع اپنی مثال آپ ہے۔ بشارت شفیع کو یاسین کا پہلا شاعر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ جس نے بروشاسکی شاعری کے جمود کو توڑا۔ اس کا پہلا البم خالص بروشاسکی میں تھا۔ جس میں کسی اور زبان کا لفظ شامل نہیں تھا۔ ان کی شاعری کے معیار اور محبوب جان یاسینی کی آواز نے بروشاسکی شاعری کے ادب میں انقلاب برپا کر دیا اور نوجوانوں کو یہ باور کرایا کہ بروشاسکی میں میٹھے الفاظ کی کوئی کمی نہیں ہے۔ اس کے بعد بروشاسکی شاعری میں عبدالمجید خان متلاشی قابلِ ذکر ہے۔ عبدالمجید متلاشی کو ضلع غذر کا پہلا صاحبِ دیوان شاعر ہونے کا بھی اعزاز کم عمری میں حاصل ہوا اور بروشاسکی زبان میں بھی ان کی شاعری خالص بروشاسکی الفاظ پر مشتمل ہے۔ انہوں نے معدوم ہونے والے الفاظ کو اپنی شاعری کے ذریعیدوبارہ زندہ کر دیا۔ اس کے بعد بروشاسکی ادب و شاعری پر آب و تاب سے کام جاری ہے۔ دیگر نامور شعرا میں محبوب جان یاسینی، ریاض ساقی، آصف علی اشرف، پنین رونق، عابد علی شاہ، گل نیاب قیصر، علی احمد جان، شکیل سنجیل، وجاہت عالمی، نیت شاہ قلندر، ریاض یاسینی، اور شیرنادر شاہی و دیگر شامل ہیں جو بروشاسکی ادب کا علم ہاتھ میں تھامے جانب منزل رواں دواں ہیں۔
اگر ہم کھوار زبان کی بات کریں تو فخر سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس زبان کے والی وارثوں نے بڑی دلجمعی کے ساتھ فکر و سخن اور ادب و شاعری کے علم کو تھامے رکھا ہے۔ اس کا کریڈٹ چترال کے شعرا، ادیب اور فن کاروں کو جاتا ہے کیوں کہ انہوں نے ہمیشہ اپنے فن کاروں کی عزت کی اور اپنی زبان کو تحریری شکل میں بھی زندہ رکھنے کے لیے اقدامات کیے۔ یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ چترال تعمیر و ترقی اور سیاسی طور پر باشعور اور امیر نہ سہی لیکن ثقافت تہذیب و تمدن اور شعر و ادب کے میدان میں مالامال ہے۔ اس سرزمین اور زبان سے ربط کے باعث غذر میں بھی کھوار زبان پر کام جاری ہے بلکہ جو کام اپنے عہد کے نامور شاعر و گلوکار مظفر الدین بیگانہ شہید کے حصے سے بچ گیا تھا، اس کا بیڑا فدا علی شاہ غذری، ممتاز علی انداز، رحمت علی، صابر شاہ صابر اور دیگر دوستوں نے اٹھایا ہے۔ تاہم اس زبان پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔

وخی زبان گلگت بلتستان میں بولی جانے والی سب سے چھوٹی لیکن میٹھی زبان ہے۔ اس زبان پر کام کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس زبان کے معروف شاعر و گلوکار ڈی ڈبلیو بیگ (D.W Baig) نہ صرف وخی کے تحفظ و ترویج کے لیے بلکہ گلگت بلتستان کی تمام زبانوں کے لیے دن رات کوشش کرتے رہتے ہیں۔ ان کی ادبی و ثقافتی تنظیم (IPPAC) اسلام آباد میں لوک ورثے کے تعاون سے پروگرامز کا انعقاد کرتی ہے۔ جس میں گلگت بلتستان بھر سے شعرا، ادبا، گلوکار، فن کار، ماہرین لسانیات کو اپنی زبانوں دنیا تک پہنچانے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ محترم دوست نور پامیر کی خدمات وخی زبان کے لیے ڈھکی چھپی نہیں۔ وخی زبان کے تحفظ اور ترویج کے لیے ویب سائٹ اور جدید سوشل میڈیا کے ذریعے کوشاں ہے۔ جس کا ذکر انہوں نے خود بھی حالیہ دنوں ایک ٹی وی انٹرویو میں بھی کیا۔ تاہم اس زبان کو تحریری شکل دینے، ادب کو پروان چڑھانے اور اس کے تحفظ کے لیے مزید اجتماعی اقدامات کی ضرورت ہے۔

تمام زبانوں اور ان سے جڑے شعر و ادب، نثر، شاعری، گلوکاری کے تمام شہسواروں کا مختصر تعارف کے بعد اربابِ اختیار اور صاحبِ قلم دوستوں کی توجہ ان عوامل کی طرف مبذول کروانا مناسب سمجھتا ہوں جن کی وجہ سے ان زبانوں کو مستقبل قریب میں خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

اوّل یہ کہ مقامی زبانوں کو بولنے والے بالخصوص نوجوان جو ملک کے مختلف شہروں میں زیر تعلیم ہیں، زیادہ تر اپنی مادری زبانوں میں بات کرنے کے بجائے اردو اور انگریزی پر زیادہ زور دیتے ہیں اور مادری زبان بولتے بھی ہیں تو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ مادری زبان بول رہے بلکہ ایسا لگتا ہے جیسے انگریزی یا اردو بول رہے ہیں کیوں کہ وہ زیادہ تر الفاظ اردو یا انگریزی بول لیتے ہیں اور ایک دو الفاظ اپنی مادری زبان چاہے وہ شنا، بلتی بروشاسکی ہو یا کچھ اور سے مستعار لے لیتے ہیں۔

دوسری بات یہ ہے کہ وہ لوگ جو شہروں میں اپنی فیملی کے ساتھ مقیم ہیں، وہ اپنے بچوں سے اپنی مادری زبان میں بات کرنے کے بجائے اردو یا انگریزی میں بات کرتے ہیں تاکہ بچے اردو اور انگریزی پر عبور حاصل کر سکیں۔ ایسے لوگوں کے نزدیک مادری زبان ایک مذاق سے کم نہیں اور میں نے خود ایسے لوگوں کو دیکھا ہے جو اپنی مادری زبان کو گالیاں بھی دیتے ہیں۔
تیسری بات ہمارے گھروں میں اکثر و بیشتر اپنے بچوں کو پاپا، ڈیڈی، انکل، آنٹی، خالہ، بھائی، باجی سکھایا ہے جس کس کی وجہ سے پڑھے لکھے طبقے کے علاوہ ناخواندہ والدین بھی اپنے بچوں کو یہی سکھاتے ہیں جس سے بابو، تَتی، آجی، لَل، ککا جیسے خوب صورت الفاظ کا استعمال روز بروز کم ہوتا جا رہا ہے۔

چوتھی بات یہ کہ ہمارے آباواجداد کے دور کے پرانی تاریخی اور قدیمی ناموں سے مختلف علاقے مشہور تھے اور ان ناموں سے ان کو پکارا جاتا تھا۔ مثلاً سرِگن کو ہم نے گلگت کہا، یسن کو یاسین، اشقمن کو اشکومن، چکیداس کو رحیم آباد، علی آباد وغیرہ کے ناموں سے پکارنے سے پرانے اور قدیمی نام اور ان سے وابستہ واقعات اور شناخت کا روز بروز خاتمہ ہوتا جارہا ہے۔

اس کے علاوہ راتوں کو لوک کہانیاں سننے اور سنانے کی جگہ اب فیس بک نے لے لی ہے اور خاص کر سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ان زبانوں پر مشتمل نصاب نہ ہونے کے باعث پرائمری سے پی ایچ ڈی تک طلبہ و طالبات کو اپنی زبانوں کے حوالے سے پڑھنے کو کچھ نہیں ملتا، جس سے وہ اپنی ثقافت زبان اور تاریخ سے دور ہو جاتے ہیں، اور مقامی زبانوں میں گرامر، قاعدہ یا رسم الخط نہ ہونے کے باعث لکھنے کے لیے بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

آخر میں تحریر کو سمٹتے ہوئے اہلِ قلم، شعرا، ادبا، ماہرِلسانیات اور نوجوانوں سے گزارش کروں?گا کہ وہ اپنی مادری زبانوں کو ماں کا درجہ دیتے ہوئے فخر سے اپنی زبان بولیں اور اس کے تحفظ کا ذمہ اٹھائیں۔ نیز گلگت بلتستان کی تمام زبانیں بولنے والے لسانی سانیات اور نوجوانوں سے گزارش کروں?گا کہ وہ اپنی مادری زبانوں کو ماں کا درجہ دیتے ہوئے فخر سے اپنی زبان بولیں اور اس کے تحفظ کا ذمہ اٹھائیں۔ نیز گلگت بلتستان کی تمام زبانیں بولنے والے لسانی تعصب کے بغیر ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو کر تمام زبانوں، تاریخ و ثقافت کو یونیورسٹی سمیت کالجو ں اور سکولوں کے نصاب میں شامل کرنے کے علاوہ ہر زبان پر مشتمل شعبہ جات قائم کرنے کے لیے حکومت کو راضی کریں۔

اس کے علاوہ بلتی زبان بولنے والے نہ صرف بلتستان کے اندر بلکہ کرگل لداخ سے بھی ماہرین لسانیات و ادبا سب مل کر ایک پلیٹ فارم پر اکھٹے ہوں اور مل کر کام کریں۔ اسی طرح شِنا بولنے والے ماہرین السانیات، شعرا و ادبا (دیامر، غذر، استور، گلگت) مل کر ریسرچ کریں اور گرامر تشکیل دیں۔ اسی طرح بروشاسکی بولنے والے (ہنزہ، نگر، یسن) کے ماہرینِ اللسانیات، شعرا، ادبا پر مشتمل فورم تشکیل دیں اور مل کر کسی ایک گرامر پر اتفاق کریں۔

بالکل اسی طرح کھوار اور وخی ماہر اللسانیات پر مشتمل فورم ہو، اور ان تمام ریسرچ فورمز کو حکومت مالی سپورٹ کرے اور سالانہ بجٹ میں بھی مقامی زبانوں کے لیے فنڈ مختص کیا جائے۔ شعرا، فن کار و گلوکاروں کی حوصلہ افزائی کی جائے اور نوجوانوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شعرا، اور ادیبوں کی قدر کرنا سیکھیں تاکہ وہ زبان اور شعروادب کی آبیاری کھلے دل سے کریں۔ اگر ایسا نہیں کیا تو مستقبل قریب میں ہماری زبانیں ختم ہوجائیں گی اور بغیر زبان و ثقافت کے قومیں زیادہ دیر زندہ نہیں رہ سکتیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here