عاطف توقیر

گاڑی کی رفتار کوئی ایک سو اسی کلومیٹر فی گھنٹہ تو ہو گی، جب میں نے موٹر وے پر دائیں جانب وہ نیلے رنگ کا بورڈ دیکھا، جس پر تحریر تھا فرائی اشٹاٹ بائرن، یعنی فری اسٹیٹ آف باویریا۔ جرمن کے جنوب میں اس ریاست کی شہرت کی بہت سی وجوہات ہیں۔ ایک تو اس جرمن ریاست کی مشہور زمانہ ’بی ایم ڈبلیو‘ (بائریشے موٹرن ویرکے)، جو دنیا بھر میں اپنی ساخت اور مضبوطی کے ساتھ ساتھ جدید ترین ٹیکنالوجی کی وجہ سے معروف ہے۔

دوسرا اس ریاست کا دارالحکومت میونخ جو بین الاقوامی سکیورٹی کانفرنس سمیت ہر سال متعدد اہم بین الاقوامی کانفرنسوں اور نمائشوں کی میزبانی کرتا ہے۔

تیسرا اکتوبر فیسٹیول، جو دنیا کا سب سے بڑا بیئر فیسٹیول ہے، جس میں ہر سال کئی لاکھ افراد صرف بیئر پینے اس ریاست کے دارالحکومت کا رخ کرتے ہیں اور یہاں ایک رات کا قیام کئی کئی سو یورو تک کا ہوتا ہے۔ ہوٹل میں کمرہ لینے کے لیے کئی کئی ماہ پہلے بکنگ کرائی جاتی ہے اور وہاں رہنے والے بھی اس فیسٹیول کے دور میں اپنے اپنے گھروں کے اضافی کمرے کرایے پر چڑھا کا مال بنا لیتے ہیں۔

اس کے علاوہ بھی بہت سی چیزیں ہیں، جو اس ریاست کو ایک جداگانہ حیثیت دیتی ہیں اور ان میں سے ایک اس علاقے کی جرمن زبان کا مخصوص لہجہ ہے۔ گو کہ یہاں جرمن زبان ہی بولی جاتی ہے، مگر بائرن میں بولی جانے والی جرمن اپنے مخصوص لہجے کی وجہ سے بآسانی پہچانی جا سکتی ہے۔

مثال کچھ یوں ہے کہ اگر عام جرمن میں کوئی شخص کہے کہ اس نے صبح ناشتہ کیا ہے، تو وہ کہے گا۔ اش ہابے ہوئٹے فررُشٹک گیگیسن، مگرباویریا کی زبان یا لہجے میں کہا جائے گا۔ ای ہوب فریا زیمل گیسن۔ لکھتے ہوئے دونوں علاقوں کے لوگ تاہم ایک سا لکھتے ہیں، یعنی لکھنے میں فرق چند ایک علاقائی الفاظ سے زیادہ نہیں ہوتا، جب کہ دونوں زبانوں کی گرامر بھی ایک سی ہے۔
تاہم اہم بات یہ ہے کہ اس ریاست میں اپنے لہجے کے تحفظ کے لیے تمام تر اقدامات کیے جاتے ہیں، جس میں اس ریاست کی ایک طویل تاریخ سے لے کر ثقافت کے دیگر رنگوں تک، ہر ایک طرح سے اپنے علاقے کی تہذیب کی بقا کے لیے کوشش کی جا رہی ہے، جو اب تک کامیاب بھی ہے۔ یعنی جرمنی کا حصہ ہونے کے باوجود ایک تو اس ریاست کو دیگر صوبوں کے مقابلے میں خصوصی حیثیت اور زیادہ خودمختاری حاصل ہے، دوسرا یہاں کے ادارے اپنی زبان اور لہجے کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرتے بھی نظر آتے ہیں۔

گزشتہ روز جامعہ سندھ کی جانب سے ایک دفتری نوٹیفیکشن دیکھنے کو ملا، جس میں تحریر کیا گیا تھا کہ جامعہ میں موجود تمام تر سائن بورڈز دو زبانوں میں تحریر ہوں گے، ایک تو سندھی اور دوسری انگریزی۔

بہت سے سندھی دوست اسے ایک عمدہ پیش رفت قرار دے رہے تھے اور دوسری جانب اردو بولنے والے اس بات کو تعصب قرار دیتے ہوئے اردو زبان (جو قومی زبان ہے) کے ساتھ ایک ظلم بتا رہے تھے۔ ان دونوں طرح کے دوستوں کی بابت چند گزارشات نہایت ضروری ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ سندھی زبان صدیوں پرانی زبان ہے۔ کسی علاقے کی تہذیب کا اس علاقے کی زبان پر بے انتہا انحصار ہوتا ہے بلکہ یوں سمجھیے کہ کسی خطے کی ثقافت، تہذیب، تمدن اور روایات کو اگر کسی شے نے باندھ کر رکھا ہوتا ہے، تو وہ اس علاقے کی زبان ہے۔

ہمارا دیس جس خطے پر واقع ہے، وہ دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں کی آماج گاہ رہا ہے۔ یہاں موئن جو ڈارو ہو کہ ہڑپہ، ٹیکسلا ہو، یہاں بلوچستان ہو کہ خیبرپختونخوا، کشمیر ہو کہ سرائیکی علاقہ، جس جس زمین کو کھودیں گے، وہاں ہزاروں برس پرانی تہذیبیں ہماری منتظر ہوں گی۔ بدقسمتی سے ہمیں پڑھایا یہ جاتا ہے کہ جیسے ہم بہ طور تہذیب صرف ستر سال پرانے ہیں، یا ہماری تہذیب اس وقت پیدا ہوئی، جب محمد بن قاسم نے دیبل فتح کر لیا، حقیقت اس سے مختلف بالکل برعکس ہے۔ ہماری تہذیب سرزمین حجاز کی تہذیب سے بہت پرانی ہے۔

اس لیے سندھ کے لوگوں کا یہ بنیادی حق اور پیدائشی فرض ہے کہ وہ اپنی زمین کی بولی کو تحفظ فراہم کریں۔ ایک سادہ سی بات یہ ہے کہ اگر میں پنجابی ہوں اور میں ہی پنجابی نہیں بولوں گا، تو پنجابی کیسے بچے گی؟ یا ایک سندھی اپنی زبان نہیں بولے گا یا اپنے بچوں کو نہیں سکھائے گا، تو سندھی زبان کیسے زندہ رہے گی؟ یہی معاملہ بلوچی، پشتو اور دیگر زبانوں کے ساتھ بھی ہے۔
لیکن اس معاملے میں جذباتی نعروں کی بجائے، علمی عینک پہننے کی ضرورت ہے۔

پہلی بات کہ اردو زبان دستورِ پاکستان کی بنیاد پر ملک میں موجود کسی بھی قوم کی زبان نہ ہونے کے باوجود ’پاکستانی قوم‘ کے درمیان رابطے کا سب سے موثر ذریعہ ہے۔ ہندوستان میں کوئی قومی زبان نہیں اور شمالی ہندوستان کے لوگوں کو جنوبی ہندوستان کے لوگوں کے ساتھ بات چیت میں کبھی انگریزی کا سہارا لینا پڑتا ہے اور کبھی ٹوٹے پھوٹے مختلف زبانوں کے آمیزے کا۔
پاکستان میں کراچی کا رہنے والا اگر چترال جائے تو بھی اسے کسی ہوٹل پر روٹی باآسانی کھانے کو مل سکتی ہے بغیر ہاتھ کے اشارے سے اپنی بھوک کی اطلاع دیے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا جامعہ میں سائن بورڈ تبدیل کرنے سے زبان بچ سکتی ہے؟ جواب یہ ہے کہ یہ ایک سیاسی نعرے سے زیادہ کچھ نہیں اور زبان کو بہ طور سیاسی ہتھیار استعمال کرنے اور اس کے ذریعے جذبات ابھار کر سندھ کے لوگوں کے ووٹ ہتھیانے کے علاوہ اس کی کوئی دوسری وجہ بھی نہیں ۔

سندھی یا کسی بھی زبان کے تحفظ کے لیے دو بنیادی چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ پہلی بات اس زبان میں علوم بہ شمول جدید علوم موجود ہوں اور دوسری بات اس زبان میں کسی شخص کو روزگار دینے کی اہلیت ہو۔ بدقسمتی سے پاکستان میں جہاں بہت سی دیگر چیزیں مسائل اور ابہام کا شکار ہیں اور جہاں ثقافت پچھلے ستر برسوں میں کسی بھی حکومت اور کسی بھی آمریت کی کسی بھی ترجیح میں شامل نہیں رہی، وہاں کسی بھی مقامی زبان میں نہ کوئی علم موجود ہے، نہ جدید سائنسی علوم کے تراجم ہو رہے ہیں، نہ دنیا بھر کے ادبی کو ترجمہ کیا جا رہا ہے اور نہ ہی ان زبانوں سے کسی شخص کو روزگار مل سکتا ہے۔

کیا آپ میں سے کوئی اپنے بچے کو فقط سرائیکی سکھا کر اس کی زندگی برباد کرنا چاہے گا؟ اگر کوئی بچہ صرف بلوچی زبان جانتا ہو، تو وہ ریاضی، سائنس، جدید تاریخ، نفسیات یا دیگر علوم تک رسائی کیسے حاصل کرے گا؟

سندھی میں کون سی فلکیاتی کی کتب ہماری منتظر ہیں؟ اور پشتو میں کتنا بین الاقوامی ادب ترجمہ کیا گیا ہے؟ یا صرف پنجابی بولنے پر کون سی اعلیٰ ملازمت ہماری منتظر ہوتی ہے؟ گو کہ اردو قومی زبان ہے، مگر علم کے راستے پر چند ہی قدم چلنے کے بعد اس کے پاؤں بھی لڑکھڑانے لگتے ہیں۔

مثال کے طور پر میں پنجاب کے علاقے جہلم میں پیدا ہوا۔ پنجابی (پوٹھوہاری) میری مادری زبان تھی۔ یہ بات سمجھنے کی شدید ضرورت ہے کہ مادری زبان کوئی بھی انسان سب سے زیادہ وقت لگا کر سیکھتا ہے۔ یعنی ماں کے پیٹ سے وہ یہ زبان سننا شروع کرتا ہے اور کوئی چار پانچ برس کی عمر میں اس قابل ہوتا ہے کہ اس زبان میں پوری تفصیل کے ساتھ کوئی بات کہہ سکے۔
سو میں نے پوٹھوہای زبان سیکھی اور جب چار برس کا ہوا اور اسکول پہنچا، تو ایک نئی زبان میری منتظر تھی، کیوں کہ میری مادری زبان میں علم موجود نہیں تھا۔ میں نے اس نئی زبان یعنی اردو کو سیکھنا شروع کیا اور جب دسویں جماعت میں پہنچا اور اس سے آگے کی تعلیم سائنس میں حاصل کرنے کا فیصلہ کیا، تو میرے ہاتھ میں انگریزی زبان میں ریاضی کی کتاب تھما دی گئی، کچھ اور آگے گیا، تو طبیعات اور شماریات بھی صرف انگریزی میں انتظار کر رہے تھے۔ وجہ یہ کہ اردو زبان میں موجود علم بھی فقط یہیں تک تھا۔

اب آپ خود بتائیے کسی بچے کے ساتھ یہ ظلم نہیں تو کیا ہے۔ کیا یہ میرا یہ حق نہیں تھا کہ جو زبان (مادری زبان) میں نے اتنا طویل عرصہ لگا کر سیکھی تھی، مجھے علم اسی زبان میں ملتا؟ اور اگر ایسا نہیں، تو کیا یہ اچھا نہ ہوتا کہ مجھے پہلے دن ہی سے انگریزی زبان سکھا دی جاتی، تاکہ مجھے بعد میں بے حد پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑتا اور میری رسائی جدید علوم تک ہوتی؟
دوسرا سوال یہ ہے کہ سندھ کی جامعہ میں سائن بورڈز کو صرف سندھی اور انگریزی میں رکھنے اور اردو کو مکمل طور پر فراموش کر دینے کی کوئی بھی وجہ سیاسی کے علاوہ کیا ہو سکتی ہے؟ یعنی اشارہ یہ دینا ہے کہ اردو سے سندھی کو خطرہ ہے۔ حالاں کہ سچی بات یہ ہے کہ سندھی زبان کو اس وقت سندھی ہی سے خطرہ ہے۔ سندھ میں پیپلز پارٹی، جس کا مرکز سندھ ہے، پچھلے چالیس سالوں سے ایسا ایک قدم بھی نہیں اٹھا پائی، جو حقیقی معنوں میں سندھی زبان کے تحفظ کے لیے ہو۔ ان سے پوچھیے کہ اپنے حکومتی ادوار میں اس جماعت نے کتنی کتب کے سندھی زبان میں تراجم کروائے یا اس زبان کے تحفظ کے لیے کتنا سرمایہ خرچ کیا؟
دوسری جانب کراچی اور حیدرآباد میں موجود مہاجر برادری کے افراد جو اس وقت اردو اردو کرتے نظر آ رہے ہیں، ان کی جماعت ایم کیو ایم متعدد حکومتوں کا حصہ رہی ہے۔ اس کی جانب سے اردو زبان کی ترقی اور جدید علوم کے اس زبان میں منتقلی کے کام کے ضمن میں کیا کچھ کیا گیا ہے؟ کتنی کتب کے تراجم کے لیے انہوں نے ماہرین سے خدمات لی ہیں؟ اور آپ یہ کیوں نہیں کہتے کہ جامعہ سندھ میں سندھی اور انگریزی کے ساتھ ساتھ اردو کو بھی سائن بورڈز پر لکھا جائے اور اسی طرح جامعہ کراچی کی انتظامیہ یہاں بھی اردو اور انگریزی کے سائن بورڈز میں سندھی زبان کا اضافہ بھی کر دے؟

معاملہ صرف یہ ہے کہ انتخابات سے قبل لسانی بنیادوں پر زبان جیسے سنجیدہ اور حساس معاملے کو استعمال کرنا صرف اور صرف اسے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا، اصل میں زبان کی خدمت کے کسی بھی ضمن میں نہیں آتا بلکہ اس کا مقصد لسانی تقسیم کو فروغ دینا اور غیرضروری کشیدگی پیدا کرنا ہے۔ سندھیوں کو چاہیے کہ اس انداز کے اوچھے اقدامات کو مسترد کرتے ہوئے، سندھی زبان کے تحفظ کے لیے موثر اقدامات کے لیے حکومت پر دباؤ ڈالیں اور اردو بولنے والوں کو چاہیے کہ وہ ایسے ہتھکنڈوں سے مرعوب ہونے کی بجائے اردو کی تعمیر اور ترقی کے لیے اقدامات کے لیے کھڑے ہوں۔ نہ اردو کو سندھی سے خطرہ ہے اور نہ سندھی کو اردو سے، بالکل ان دونوں زبانوں کو اس رویے سے خطرہ ہے، جو ان زبانوں کو علم سے دور کرنے اور صرف اور صرف سیاسی فوائد کے لیے استعمال کرنے سے عبارت ہے۔

ایک شعر ذہن میں گونج رہا ہے، شاعر کا نام یاد نہیں
زباں کسی کی بھی ہو، محترم ہے سب کے لیے
کہ ماں کی کی بھی ہو، محترم ہے سب کے لیے

جرمن صوبے باویریا کی ایک اور خاص بات یہ ہے، یہاں کسی مقامی شخص سے جب بھی آپ جرمنی کے کسی بھی علاقے کا ذکر کریں، وہ کہے گا، ہاں وہ علاقہ بھی بس ٹھیک ہے، مگر ہمارے فلاں علاقے جیسا نہیں اور اس پر جرمنی کے دوسرے علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد مسکرا کر کہتے ہیں، ہاں یہ بات تو ہے۔ بالکل ویسے ہی، جیسے جب کوئی کہتا ہے، ’’لہور لہور ہے‘ تو ہم بالکل برا نہیں مانتے۔ بھرپور معاشرہ اختلاف اور فرق پر لڑنے اور نفرت کا اظہار کرنے نہیں بالکل اختلاف کو عزت دینے اور تنوع سمجھنے سے عبارت ہے۔

5 COMMENTS

  1. مادرٖی زبان کا عالمی دن اور مختلف زبانوں میں سیکھنے کا میرا تجربہ:
    اٹھارہ سال کی تعلیم کے بعد میں ہر فن مولا والی کہاوت پر پورا پورا اترتا ہوں ۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ زندگی بھر تعلیم حاصل کرنے کی بجائے زبانوں میں ہی الجھا رہا ہوں۔ گھر مٖیں پشتو میں بات ہوتی ہے۔ خدا کے ساتھ عربی میں بات کرنا پڑتی ہے۔ زیادہ تر ہم وطنوں کے ساتھ اردو ہی میں بات ہو سکتی ہے اور سرکاری یا نوکری کی رابطہ کاری کے لئے انگریزی ضروری ہے. اب حالت یہ ہے کہ اردو میں بات کرتے ہیں تو اردو بولنے والے مذاق اڑاتے ہیں۔ ادبی لوگوں کی مجلس میں اپنی پشتو باعث شرم بنتی ہے ۔ جب کبھی کسی انگریز سے بات ہو جائے تو وہ منہ تکتا رہ جاتا ہے کہ کس زبان میں بات کی۔ عربی کے ساتھ بھی یہی حال ہے کہ نماز اور تلاوت تو کرتے ہیں لیکن خدا جانے فرشتے اکاؤنٹ میں نیکیاں یا گنا ہ لکھتے رہتے ہیں۔
    یونیسکو (UNESCO) کے مطابق کے مادری زبان میں سیکھانے سے نہ صرف بچوں کے تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کیا جا سکتا ہے بلکہ انسانوں کے مجموعی علمی خزانے میں بھی زبردست اضافہ کیا جا سکتا ہے جو بصورت دیگر ضائع ہو جائے گا۔ اس بات پر دنیا کے بیشتر اقوام متفق ہٖیں اور ۱۷ نومبر ۱۹۹۹ کو اقوام متحدہ نے ۲۱ فروری کو مادری زبان کا عالمی دن قرار دیا۔ اس دن کا انتخاب اس لئے کیا گیا کیونکہ اسی روز ۱۹۵۲ میں ڈھاکہ یونیورسٹی کے طلباء نے اپنے مادری زبان کے حق میں احتجا ج کرتے ہوئے اپنے جانوں کے نذرانے پیش کئے تھے۔ ہوا یوں کہ جب ریاستِ پاکستان نے اردو کو قومی زبان قرار دیا تومشرقی پاکستان میں بنگالیوں نے اس فیصلے کو نہ صرف رد کیا بلکہ اس کے خلاف بھر پور مذاحمت بھی شروع کی جس کو ریاست نے بزور طاقت دبانے کی کوشش کی۔ عجیب بات تو ہے قائد اعظم نے وہ تقریر بھی انگریزی میں کی جس میں انہوں اردو کو قومی زبان قراردیا تھا۔ اگر کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ جس دن قائد اعظم نے ڈھاکہ جاکر اردو کو قومی زبان قرار دینے کا اعلان کیا اسی د ن انہوں نے بنگلہ دیش بنا نے کا سنگ بنیاد رکھ دیا تھا جو جاکر ۱۹۷۱ میں مکمل ہوا۔ دوسرا ظلم یہ تھا کہ اردو پورے ملک میں دس فی صد سے بھی کم لوگوں کی زبان تھی۔ اتنے بڑے سانحے کے بعد بھی پاکستان میں ارباب اختیار نے نہ سیکھنے کی قسم کھائی ہوئی ہے اور ابھی تک مادری زبانوں کو انتہائی حقارت اور نفرت سے دیکھا جاتاہے۔
    ۱۹۸۹ میں مجھے گاؤں کے ایک سکول میں داخل کرایا گیا جو گاؤں کے ایک با اثر شخص کے مہمان خانے میں قائم تھا۔ پہلے سال اردو کے ساتھ ساتھ پشتو میں سیکھنے کا تجربہ بھی ہوا جوبے حد خوشگوار ثابت ہوا تھا۔ سال کے اختتام سے پہلے ساری کتاب زبانی یاد تھی اور کہانیاں اور نظمیں بہن بھائیوں اور ماں کو زبانی سناتا تھا۔ کچھ کہانیاں ابھی تک ذہن مٖیں نقش ہیں۔ اگلے سال نصاب سے پشتو غائب تھی۔ بڑے ہو کر پتہ چلا کہ جب اکبر بگٹی وزیر اعلی تھے تو انہوں نے مادری زبا نوں کو نصاب کا حصہ بنایا تھا اور دو سال بعد جب ان کی حکومت ختم کی گئی تو مادری زبان بھی نصاب سے نکال دی گئی۔
    بہرحال اگلے سال سارا نصاب اردو میں تھا اور ہم بھی طوطے بن کر وہی رٹا کرتے جو استاد سکھاتے تھے۔ مڈل سکول کے لئے شہر جانا پڑا تو وہاں پریشانی شروع ہوگئی۔ اول تو وہاں اردو کے ساتھ ساتھ انگلش اور عربی بھی نصاب کا حصہ تھے۔ پہلی دفعہ کلاس ششم میں ABCD سیکھنا شروع کیا ۔ ایک طرف انگریزی اور عربی ہمارے لئے نئے مضامین تھے دوسری طرف طلبا کو سیکھانے اور سدھارنے کا سب سے نمایاں طریقہ تشدد تھا۔ ۔طلباء کو ایک ایک غلطی پر دسوں ڈنڈے پڑتے تھے۔ بہت سے لڑکے دل برداشتہ ہو کر سکول چھوڑ بھی گئے۔ کبھی کبھار کچھ لڑکوں کی شور کی وجہ سے پوری کلاس کو اجتماعی سزا بھی مل جاتی جس طرح پاک فوج نے دہشت گردوں کی سزا فاٹا کے تما م عوام کو دی۔
    دوسرا مسئلہ یہ تھا کہ وہاں زیادہ تر اساتذہ پنجابی تھے جن کو پشتو بولنا نہیں آتا تھا اور ہم اردو بول نہیں سکتے تھے۔ ۔ وہ اردو میں بات کرتے اور ہم پشتو میں جواب دیتے۔ لیکن وہ کبھی کبھی ہمیں اردو بولنے پر مجبور کرتے تو ہم سے ایک جملہ تک بولا نہیں جاتا تھا۔ مثال کو طور ایک بار میں سکول سے غیر حاضر رہا تھا تو اگلے دن کلاس انچارج نے کہا کہ وہ اس شرط پہ مجھے معاف کریں گے کہ اگر مٖیں ان کو اردو میں بتاؤں گا کہ میں سکول کیوں نہیں آیا تھا۔ لیکن شرم اور ڈر کی وجہ سے اتنا بھی کہہ نہیں پایا تھا کیونکہ غلطی کی صورت میں سارے طلباء بشمول استاد ہنس پڑتے۔ یوں اس ڈر کے ماحول میں تعلیم جاری رکھی اور بالا خر میٹرک بھی ہوگیا جس کے امتحانات پاک آرمی کے بہادر میجرز اور سپاہیوں کی موجودگی میں لئے گئے۔
    اس کے بعد کالج کا زمانہ شروع ہوا تو نئی پریشانی شروع ہوگئی۔ ہا ئی سکول میں فزکس، کمیسٹری اور بائیو لوجی اردو میں پرھے تھے لیکن کالج میں سائنس کے سارے مضامین انگلش میں پرھائے جاتے تھے۔ لیکچر کے دوران کچھ سمجھ نہیں آتا تھا۔ کچھ دنوں کے بعد یہ سوچ کر کہ اس طرح پڑھنے سے ڈاکٹر بننا تو درکنار، پاس کرنا بھی مشکل ہو گا پرنسپل صاحب کے پاس جا کرسائنس کی بجائے آرٹس پڑھنے کی درخواست دی اور انہوں نے بھی کوئی سوال پوچھے بغیر بتایا کہ کل سے ایف اے کے کلاسز لینا شروع کردو۔ پھردو سال کرکٹ کو بھی اچھا خا صا انجوائے کیا اوربڑے سکون سے کلاسسز بھی لیتا رہا کیونکہ آرٹس کو کوئی سنجیدہ نہیں لیتا۔ دو سال کے بعد بی اے بھی پرائیوٹ ہوگیا تو بلوچستا ن یونیورسٹی جاکر پولیٹیکل سائنس ڈیپارٹمنٹ میں داخلہ لیا۔ وہاں پر لیکچرز اردو میں ہوتے تھے لیکن امتحان کے لئے انگلش یا اردو کا انتخاب طلباء خود کرسکتے تھے۔ بلوچستان یونیورسٹی میں کافی عرصہ نہیں ہوا تھا کہ اکبر بگٹی کے شہادت کا سانحہ ہوا اور یونیورسٹی غیر معینہ مدت کے لئے بند ہوگئی۔ دریں اثنا میں نے پشاور یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات میں داخلہ لے لیا ۔ وہاں پھر انگریزی لازمی تھی۔ لیکن اساتذہ اردو اور انگریزی ملا کر لیکچرز دیتے تھے ۔ وہاں سے بھی ڈگری لے لی لیکن ڈگری کے معیار کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پوری کلاس سے میرے علم کے مطابق نہ کوئی تھنک ٹھینک نکلا، نہ کوئی انٹرنیشنل افئیرز کا ایکسپرٹ بنا۔جس کو جہاں کوئی کچی پکی نوکری ملی وہاں گھس گیا۔ تقریباْ پانچ سال کے بعد جب مجھے آسٹریلیا میں پڑھنے کی سکالرشپ مل گئی تو انگریزی کا ٹیسٹ پاس کرنا بہت ہی بڑا چیلنج تھا۔ میری سولہ سال کی تعلیم نے مجھے اس قابل نہیں بنایا تھا کہ میں انگریزی کا یہ ٹیسٹ پاس آسانی سے کر سکوں ۔ خیر بڑی مشکل سے ٹیسٹ بھی پاس ہوگیا اور کے آسٹریلیا آکر پڑھنا شروع کیا تو اچھے گریڈز لینے کے لئے کم از کم ۱۲ سے ۱۴ گھنٹے تک روز پڑھنا پڑتا تھا۔
    میری کہانی کوئی انوکھی کہانی نہیں ہے بلکہ پاکستان میں اکثریت لوگوں کی کہانی تقریباْ اسی طرح ہے۔ اس طرز تعلیم کا نتیجہ یہ ہے اول تو ملک میں ایک ایسا طبقاتی نظام موجود ہے جس کی وجہ سے ملک پر چند امیر، طاقتور اور سیاسی خاندانوں کی اجارہ داری ہے کیونکہ نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والے بچے کبھی بھی ان کے بچوں سے مقابلہ نہیں کرسکتے۔ صوبائی اور وفاقی سطح پر اکثر نو کریاں وہی آسانی سے حاصل کر لیتے ہیں کیونکہ ان کو شروع ہی سے انگریزی زبان میں معیاری تعلیم کا موقع مل جاتا ہے۔ سائنس، ٹیکنالوجی اور بزنس میں میں بھی ان کے بچے آگے بڑھتے ہیں۔ باہر پڑھنے بھی ان ہی کے بچے جا سکتے ہیں مجھے جیسے لوگوں کو شاذ ونادر ہی کوئی موقع مل جاتا ہے۔ جو لوگ باہر پڑھ کر واپس آتے ہیں وہ بھی زیادہ تر LUMS جیسے پرائیوٹ یونیورسٹیز میں پڑھاتے ہیں جہاں امیر وں کے بچے ہی پڑھتے ہیں۔
    اس طر ز تعلیم کا دوسرا نقصان ہے کہ ملک کی سیاست، بیروکریسی، فوج اور میڈیا پر ایک ادھ لسانی گروہوں بشمول اردو بولنے والوں اور پنجابیوں کی اجارہ داری ہے ۔انہوں نے اردو اور انگریزی کے گٹھ جور ایک ایسا نظام بنا لیا ہے جو صرف ان کے لئے ہی مناسب ہے۔ اس کے برعکس سندھی، پشتون اور بلوچ چونکہ ہمیشہ Periphery میں رہے ہیں وہ نہ صرف مقابلے کی دوڑ میں پیچھے ہیں بلکہ زبان پر دسترس نہ ہونے کی وجہ سے وہ قومی دھارے کے بیانیوں اور ڈسکورس سے بھی باہر ہیں اور نہ ہی اپنے استحصال کے خلاف کوئی موثر بیانیہ تشکیل دے سکتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ وسائل ایک صوبے یا چند شہروں میں منتقل ہو رہے ہیں جب کہ بڑی اکثریت ناراض ہیں جبکہ حکمران ان کے حقیقی مسائل حل کرنے کی بجائے ان کو ورغلاتے ہیں کہ پاکستان واحد نظریاتی اسلامی اور ایٹمی ملک ہے اس لئے پوری دنیا اس کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔
    اس مسئلے کا حل یہ ہے پورے ملک میں ایک ہی نظام تعلیم رائج کرنا دینا چایئے۔ یاد رکھیے کہ یکساں نظام تعلیم کا مقصد یہ ہر گز نہیں کہ سب کے اور ایک ہی تاریخی اور سیاسی بیانیہ مسلظ کیا جائے بلکہ ایک نظامِ تعلیم جو تمام تمام طبقات سے تعلق رکھنے والے بچوں کو یکساں طور پر آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرے چاہئے وہ سائنس و ٹیکنالوجی ہو یا زندگی کے دوسرے شعبوں ہو۔اس قسم کی یکساں نظام تعلیم کے لئے اس وقت انگریزی ہی مناسب زبان ہے کیونکہ انگریزی اس وقت عالمی سیاست اور معیشت کی زبان ہے خاص کر سائنس اور ٹیکنالوجی میں ترقی کے لیے انگریزی نا گزیرہے۔ لیکن انگریزی کے ساتھ ساتھ تمام مادری زبان کو بھی نصاب کا حصہ بنایا۔ ابتدائی طور پر مادری زبانوں کا کردار علاقائی تاریخ اور ثقافت کی فروغ مقصود ہو ۔ لیکن ایک طویل المدتی لائحہ عمل بھی بنایا جائے کہ کس طرح وقت کے ساتھ ساتھ ان زبانوں میں سائنسی اور ٹیکنالوجیکل علوم پڑھا ئے جا سکتے ہیں۔ آہستہ آہستہ ملک کے اندر بھی انگریزٖی رابطہ کاری کی زبان بن جائے گی اور یوں ملک یہ کلچر بھی ختم ہو جائے گا کہ امیر کے بچے انگلش میں، درمیانے طبقے کے لوگ اردو میں اور غریب کے بچے مادری زبان میں بات کریں گے بلکہ سب نہ صرف اپنی مادری زبان پر فخر کریں گے بلکہ انگریزی پر بھی عبور حاصل کریں گے جس کی بدولت وہ ملکی معاملات اور گلوبل ویلیج میں ایک سرگرم کردار بھی ادا کرسکیں گے۔
    If you think it is worth publishing you can publish it.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here