حمزہ سلیم

مارکس نے 1842 میں اپنی یونیورسٹی تعلیم مکمل کرنے کے بعد پہلا کام یہ کیا،کہ کالون میں موسز ہس کے اخبار رینش زیٹنگ میں لکھنا شروع کیا،یہ اخبار جدید سوشلٹ نظریات کی وجہ سے فرانس میں مقبول تھا ،اس اخبار میں دس ماہ لکھنے کے بعد hees نےمارکس کو چیف ایڈیڈ کے عہدے کی پیشکش کر دی،اکتبور1842میں مارکس نے اخبار کی ادارت سنھبال لی۔

اخبارات ورسائل کے انتظامی معاملات چلانے کے ساتھ ساتھ مضامین لکھنے کا وسیع تجربہ حاصل کیا ،یوں اس نے پیشہ اسرارورموذ پر دسترس حاصل کی،مارکس نے نئے سیاسی معاشیا ت کے تصورات سے سائنسی سوشلزم کے نظریے کو پیش کیا ،جو تصوراتی سوشلزم سے ایک قدم آگے تھا ،یوں وہ محنت کش طبقے کا رہنما بن گیا اس نے عوام اور مزدوروں کو سیاسی تعلیمات سے روشناس کروایا، اس نے کمیونسٹ منیی فیسٹو کے ذریعے دنیا بھرکے مزدوروں کو ایک نعرہ دیا ،کہ دنیا بھر کے محنت کشوں ایک ہو جاءو وہ عالمی سطح پر مزدوروں کے اتحاد میں ہی سرمایہ داری کی شکست تصور کرتا تھا۔

سمیون ایم گرونک نے کارل مارکس کے صحافتی کام اور تحریروں کے متعلق ایک تفصیلی کتاب(Kark markx the publicist)لکھی ہے ۔اس کے مطابق کارل کے صحافتی کام کو پانچ بڑے مراحل میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ۔پہلا دور ۱۸۴۲ سے لیکر ۱۸۴۴ تک کا ہے ۔جب وہ تصوراتی دنیا سے نکل کر مادہ پرستی کی طرف آیا ۔ یا دوسرے لفظوں میں انقلابی جہموریت سے نکل کر کمینزم کی طرف آیا ۔یہ دور مارکس کے پہلے مضمون سے لیکر deutsch-franzossche jahrbucher کے آخری مضمون تک محیط ہے۔یہ دور اس کی صحافت میں بنیادی جہموری آزادی کےلیے جدوجہد کا اظہار کرتا ہے۔: مارکس کی صحافت کا دوسرا مرحلہ 1845 سے 1850تک ہے،جب مارکسزم کا نظریہ تشکیل دیا گیا تھا،اس دوران مارکس اور اینگز نے تاریخی طور پر مادہ پرستی طبقاتی جدوجہد کا نظریہ پیش کیا،اور افلاسی فلسفہ اور کمیونسٹ مینی فیسٹو ایک جامع اور باقاعدہ انداز میں نئے ذریعے کو لے کر سامنے آئے ،اس وقت یورپ کا انقلاب 1848 1849 کے شعلوں میں مارکسٹ نظریہ عملی طور پر آزمانے کا وقت بھی تھا اس دور میں یہ بات نمایاں ہوئی کہ مارکس نے ایک نئی مزدور اور نچلے طبقے کی صفات کو متعارف کروایامارکس کی صحافت کے اگلے مراحل کے متعلق سمیون لکھتا ہے کہ :

۱۸۵۹ میں اس نے لندن سے ایک انقلابی آرگن؛”داس ووک” شروع کرنے کی کوشش کی ۔۱۸۵۱ سے لیکر ۱۸۶۲ تک “نیو یارک ڈیلی ٹریبون” اور ۱۸۵۵ میں “نیو آرڈرزیٹنگ”اور۱۸۶۱ سے لیکر ۱۸۶۲ تک ویانا کے لبرل اخبار”ڈائی پریس” میں بھی مضامین لکھے۔یہ مضامین اس کی لچکدار مہارت کے عکاس ہیں۔سائنسی تحقیق کی بنیاد پر لکھے گئے یہ مضامین بھی اس کے نظریات کے اہم ترجمان شمار کئے جا تے ہیں ۔۱۸۵۲ سے لیکر ۱۸۶۲ تک مارکس اور اینگلز نے “ٹریبون “کےلئے ۴۸۷ مضامین تحریر کیے اور فی مضمون ایک پاءونڈ یعنی تقریبا پانچ ڈالر معاوضہ وصول کیا۔مارکس کی صحافت کا چوتھا دور ۱۸۶۴ سے لیکر ۱۸۷۱ تک کی سر گرمیوں کا دور ہے۔یہ دور نچلے طبقے کی پہلی بین الاقوامی کیمونسٹ تنظیم “فرسٹ انٹرنشنل”کے قیام سےشروع ہوتا ہےاود پیرس کیمون کے زوال کے ساتھ ختم ہوتا ہے۔یہ سائنسی کمیونزم کے نظرئیے پر مزید کام کرنےاور کارکنوں پر انحصار کا دور ہے ۔ اس دور میں مارکس نے زیادہ توجہ تنظیم کی راہنمائی پر مرکوز کئے رکھی ۔۔خالفین کے خلاف جدوجہد بھی کی ۔ اور اپنی مشہور تصنیف “سرمایہ “تحریرکی ۔جسکی پہلی جلد ۱۸۶۷ میں شائع ہوئی ۔مارکس کی صحافت کا پانچواں اور آخری دور ۱۸۷۱ سےلیکر۱۸۸۳ تک کی صحافتی سرگرمیوں پر مشتمل ہے اس دوران پہلی کمیونسٹ انٹرنشنل نے تاریخی کردار ادا کیا۔ اس وقت کئی ملکوں میں مزدور تحریکوں کاابھار شروع ہو چکا تھا ۔کچھ میں اس تحریک کے حکومت میں آنے کے امکان پیدا ہو رہے تھے اور کہیں حکومت میں آ چکی تھیں۔ ان برسوں میں مارکس صحافتی تخلیقات کی طرف سر گرم تھا ۔اس نے اپناسارا وقت “سرمایہ “کو مکمل کرنے میں صرف کیا۔وہ دن پھر برٹش میوزیم میں اپنی کتاب کی ترتیب وتدوین میں مصروف رہتا۔

۱۸۶۷ میں “سرمایہ “کی پہلی جلد جرمن زبان میں شائع ہوئی ۔بہت جلد اس کے فرانسیسی اور روسی تراجم ہوے ۔پانچ سال میں “سرمایہ”جرمن سوشلسٹ ادب کی مرکزی کتاب بن گئی۔ ۱۸۷۰والے عرصےمیں مارکس اور اینگلز نے جرمنی کے سوشل ڈیمو کریٹک پریس میں اہم کردار ادا کیا ۔۱۸۷۸میں اس کے سیکو لر کراٹیکل اود ریکارڈ آف فری تھاٹ پراگرس پر تبصرے کیے۔افلاس اور تنگدستی نے مارکس کی صحت کوخراب کردیا ،اس کی زندگی کے آخری 12برس طرح طرح کی بیماریوں میں کٹے،اس نے اس زمانہ میں روسی زبان کا مطالعہ شروع کردیا تاکہ وہ روس کے زرعی اور معاشی مسائل پر اچھی طرح سے اظہار خیال کر سکے، 1878 میں اس نے سرمایا کی دوسری جلد شائع کرنے کی کوشش کی لیکن اس کی خراب صحت نے اجازت نہ دی ،بلاآخر 14 مارچ 1883 کو مزدوروں کو پیام زندگی دینے والے کی زندگی ختم ہوگئی اینگلز نے اپنے استاد کی موت کے 12 سال کے سرمایہ کو مکمل صورت میں پیش کیا،مارکس نے ترکے میں مزدور صحافت کے بارے میں تریخی وارثہ چھوڑا ،اس نے اپنی صحافت میں مزدور جدوجہد کے نئے نقوش پیدا کئے،کرائم ملکوں میں چلنے والی مزدور تحر یکوں پر اس کی ترقی پسند صحافت اور تصا نیف نے گہرے اثرات کیے اور کمیونسٹ تحریکوں نے اس کی تحقیقات سے بھرپور رہنمائی حاصل کی اس اعتبار سے جدید سائنسی کمیونزم کا بانی صحافی بھی تصور کیا جاتا ہے