مہناز اختر

ایک بار پھر سے متحدہ مجلس عمل کے جھنڈے تلے پانچ مذہبی جماعتوں کا اتحاد الیکشن کے میدان میں اتر چکا ہے۔ میرے خیال سے جماعت اسلامی، جمیعت علماء اسلام (ف)،جماعت اہلحدث، جمیعت علماء پاکستان اور تحریک جعفریہ کے اس اتحاد کا سیاسی مستقبل زیادہ روشن نہیں ہے کیونکہ پاکستان کی عوام مزاجاً مذہبی ضرور ہے لیکن انہوں نے کبھی مذہبی جماعتوں کو اقتدار میں دیکھنا پسند نہیں کیا ۔ عوام کی اکثریت ان جماعتوں کی جانب سے لگائے جانے والے شرعی نظام کے نعروں سے بیزار ہے۔ دوسری طرف تحریک لبیک پاکستان بھی پاکستانی اداروں اور نظام پر لعنت بھیج کر نفاذ شریعت کا خواب فروخت کررہی ہے ۔ ایسے میں یہ دیکھنا یقیناً دلچسپ ہوگا کہ کس پارٹی کا اسلام زیادہ مضبوط ہے۔چونکہ آج کا موضوع متحدہ مجلس عمل ہے تو آگے بڑھانے سے پہلے MMA کے منشور کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

متحدہ مجلس عمل کے انتخابی منشور کے اہم نکات:

1- آئین میں موجود تمام اسلامی دفعات کا مکمل تحفظ بالخصوص ختم نبوت اور ناموس رسالت سے متعلق قوانین۔

2- آزاد اور باوقار خارجہ پالیسی کی تشکیل، برابری کی بنیاد پر تمام ممالک سےتعلقات کا قیام،عالمی اسلامی بلاک کی تشکیل،دوسرے ممالک میں مسلم اقلیتوں کا تحفظ،کشمیر کی بھارت سے آزادی اور اقوام متحدہ کی قرادادوں کے مطابق رائے شماری۔

3- قرآن و سنت کے واضح احکامات اور آرٹیکل 48 کے تحت سودی نظام کا مکمل اور کم سے کم مدت میں خاتمہ۔

4 – اقلیتوں کی جان و مال اور عبادت گاہوں کا مکمل تحفظ،تعلیم ،روزگار،شہری حقوق کی ضمانت اور مذہبی رسومات کا احترام۔

اس کے علاوہ اس منشور میں وہی اچھی اچھی باتیں موجود ہیں جو تقریباً تمام بڑی پارٹیوں کے منشور کا حصّہ ہیں اور خانہ پری یا سجاوٹ کے لیئے منشور کے ساتھ منسلک کردی جاتی ہیں۔ میں نے یہاں MMA کے منشور کے انتہائی اہم نقاط کو چارحصّوں میں تقسیم کردیا ہے تاکہ ان پر سہولت سے جرح کی جاسکے۔معاملہ یہ ہے کہ ان نقاط کے پس پشت سیاسی بدیانتی پر مبنی وہی ایک نکتہ ہے کہ ایک بار پھر سے پانچ مذہبی جماعتوں نے عوام کو اسلام کے نام پر بے وقوف بنانے کے لیئے اتحاد کرلیا ہے۔

MMA نے ختم نبوت اور ناموس رسالت سے متعلق قوانین اور اقلیتوں کے حقوق کا ذکرتو کیا مگر توہین مذہب کے قوانین کے غلط استعمال پر بالکل بات نہیں کی اور ایسے لوگوں کو انصاف فراہم کرنے کی ذمہ داری بھی نہیں لی جو بے گناہ ہونے کے باوجود بھی اس قانون کا شکار ہوئے۔ اگر MMA اس منشور میں احترام مذاہب اور تمام مذاہب کی مقدس شخصیات کی ناموس کی حفاظت کی شقوں کے اضافے کا عندیہ بھی دے دیتی تو قوم کا اعتماد اس اتحاد پر بحال ہوسکتا تھا۔ ماضی قریب میں ہم نے دیکھا تھا کے مسلم لیگ ن کے کارکنان کی جانب سے ہندؤں کی انتہائی مقدس ہستی بھگوان شیو کی تصویر پر عمران خان کی تصویر لگا کر سوشل میڈیا پر وائرل کردی گئی جس سے ہندوبرادری کی دل آزاری ہوئی۔

تصور کریں اگر کسی ہندو کا خون کھول جاتا اور وہ کسی مسلمان کو ناموس شیو کے نام پر بے دردی سے قتل کردیتا تو کیا ہوتا،کیا غیر مسلموں کے مذہبی جذبات نہیں ہوتے یا ان میں مذہبی غیرت کی کمی ہے ؟ اسی طرح جب ہمارے علماء نیشنل TV ، مساجد اور دیگر مقامات سے لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے دوسرے مذاہب کے حوالے سے توہین آمیز الفاظ استعمال کرتے ہیں تو ہمارے غیر مسلم بھائیوں کو کس قدر اذیت اٹھانی پڑتی ہوگی اس کا اندازہ لگانا ذرا بھی مشکل نہیں ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے منشور میں موجود اقلیتوں کے تحفظ کی شق کا خصوصی ذکرکیا لیکن قوم اور خصوصاً اقلیتوں کو اس پرکیونکر اعتماد ہو جب آپ ایک ایسی پارٹی کے ساتھ اتحاد کیئے بیٹھے ہیں جس نے اندرون سندھ اور بلوچستان میں اقلیتوں کا جینا اسلام کے نام پر دوبھر کررکھا ہے۔ میں بات کررہی ہوں JUP جمیعت علماء پاکستان کی جسکا نام اندرون سندھ ہندو لڑکیوں کو اغوا کرنے والوں اور جبراً مذہب تبدیل کرانے والوں کے ساتھ بار بار آتا ہے ۔ پھر یہی وہ جماعت ہے جس نے سندھ میں تبدیلی مذہب کی عمر کے تعین اور جبری تبدیلی مذہب کے تدارک کے قانون کی بڑھ چڑھ کر مخالفت کی تھی ۔ صرف اتنا ہی نہیں بلوچستان کےشہر حب میں پولیس کی تحویل میں موجود بارہ سالہ ہندو لڑکے کی مبینہ توہین مذہب کے الزام پر ہلاکت کے معاملے میں بھی اسی جماعت کا نام آیا تھا اور بلوچستان کی ہندو کمیونٹی نے الزام عائد کیا تھا کہ JUP اس علاقے کی مذہبی رواداری کی قدیم روایت کو نقصان پہنچا نے کے لیئے شدت پسندی کو فروغ دے رہی ہے اور ہندو اپنے آبائی علاقوں سے نقل مکانی پر مجبور ہیں۔

رہی بات آزاد اور باوقار خارجہ پالیسی کی تشکیل، برابری کی بنیاد پر تمام ممالک سےتعلقات کا قیام تو اسکے لیئے ہمیں سب سے پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ عالمی برادری کی صفوں میں آج ہمارا مقام کہاں ہے ؟ بات سچ ہے مگر ہے رسوائی کی کہ آج دنیا ہمیں ایک ایسے ملک کی حیثیت سے پہچانتی ہے جہاں مذہبی شدت پسندی کو سرکاری تحفظ حاصل ہے اور ہمارا نام دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے والے ممالک کی فہرست میں بھی شامل ہے۔ اسی طرح کشمیر کمیٹی کے نام پر مولانا فضل الرحمن نے قوم کے ساتھ جو مذاق کیا ہے اسکے لیئے تو ایک علیحدہ مضمون لکھنے کی ضورت ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہےکہ کشمیر کمیٹی کے سربراہ کی حیثیت سے حکومت کو ایک “مولانا” نما شخص کے انتخاب کی ضرورت کیوں پیش آئی جس پر مبینہ کرپشن اور ناجائز مراعات حاصل کرنے کے الزامات ہیں اور جسکی ڈپلومیٹیکل ویلیو صفر ہے،جس نے برسوں اس عہدے کا فائدہ اٹھایا مگر تنازعہ کشمیر کے معاملےمیں کوئی مثبت پیش رفت آج تک دیکھنے کونا ملی؟

پچھلی مرتبہ کی طرح اس بار بھی متحدہ مجلس عمل کا اتحاد طویل عرصے قائم نہیں رہ پائے گا کیونکہ اس اتحاد میں بدیانتی اور مسلکی تعصب پوشیدہ ہے۔ اتحاد میں موجود سنّی، دیوبندی اور اہل حدیث حلقوں میں ابھی سے یہ فقہی چہ مگوئیاں شروع ہوگئی ہیں کہ کیا MMA کو ووٹ دینا جائز ہے ؟ کیونکہ اس میں اہل تشعیع بھی موجود ہیں اور اس سے زیادہ بدیانتی کیا ہوگی جب ان جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سیاسی مولوی لوگوں کو یہ کہہ کر قائل کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں کہ بڑی برائی کو ختم کرنے کے لیئے چھوٹی ” برائی” سے اتحاد کرنا جائز ہے کیونکہ اس اتحاد کا مقصد شعریعت کا نفاذ ہے۔

یہ بات بھی قابل تشویش ہے کہ الیکشن کمیشن اور اعلی عدلیہ نے کرپشن کے معاملے پر سیاستدانوں کے لیئے ایمرجنسی نافذ کررکھی ہے اور سیاستدان زیر عتاب ہیں مگر یہی دو ادارے مذہبی شدت پسندی کو فروغ دینے والی شخصیات اور جماعتوں کو بڑی سہولت کے ساتھ سیاسی دھارے میں داخل کروارہے ہیں۔ شاید آپکو یاد ہو جب ممتاز قادری نے سلمان تاثیر کا قتل کیا تھا تو اس دوران کچھ ایسی تجاویز بھی میڈیا میں گردش کررہی تھیں کہ سیکیورٹی فورس میں بھرتی ہونے والے ہر شخص کا مذہبی شدت پسندی کی طرف رجحان کا نفسیاتی ٹیسٹ لازمی قرار دینا چاہیے مگر پھر اس اچھی تجویز کو پس پشت ڈال دیا گیا ۔ کیا پاکستان میں ایسے مذہبی قائدین کا احتساب نہیں ہونا چاہیے جنہوں نے کھلے عام مذہبی اور مسلکی شدت پسندی کو ہوا دی اور قوم کو مذہبی و مسلکی شدت پسندی کی آگ میں جھونک دیا؟

متحدہ مجلس عمل اسلامی بلاک کے قیام کی تجویز بھی پیش کررہی ہے لیکن OIC کے نام سے موجود ایک معذور اسلامی بلاک کا کیا ہوگا جسے نحیف امت مسلمہ نے اپنے کاندھوں پر اٹھا رکھا ہے۔ آپ کیسے غیر مسلم ممالک میں بسنے والے اقلیتی مسلمانوں کا دفاع کریں گے اور انکے لیئے مساوی حقوق اور احترام کا دعوی کریں گے جب آپ کی برادری اور اسلامی جمہوریہ پاکستان اقلیتوں کو مساوی شہری ہونے کے باوجود بھی مساوی حقوق اور احترام نہیں دیتی جس کے وہ مستحق ہیں۔

رہی بات پاکستان کی معیشت کو چار سالوں میں سود سے پاک کرنا تو چار سالوں میں مولانا فضل الرحمان اپنی مراعات اور آمدن کے ذرائع کو سودی نظام کے اثر سے باہر نہیں لاسکتے تو پاکستانی معیشت کو مغربی نظام معیشت سے باہر لانے کا دعوی قوم سے بھدے مذاق کے مترادف ہے ویسے بھی مقروض قومیں عالمی معیشت پر دھونس جمانے کی پوزیشن میں نہیں ہوتیں۔

کم از کم مجھے یہ بات انتہائی پراسرار محسوس ہوتی ہے کہ ایک طرف تو ہماری افواج مذہبی دہشت گردی کے مکمل خاتمہ کا عزم رکھتی ہے لیکن دوسری طرف شدت پسند جماعتیں جوق در جوق سیاسی دھارے میں شامل ہورہی ہیں۔ ایسے صورتحال میں الیکشن کمیشن اور نیب انہیں”کلئیرڈ” کا سرٹیفکٹ تو دے ہی چکی ہے مگر حیرانی ہے کہ عدلیہ نے بھی کبھی مذہبی شدت پسندی پر کوئی “ازخود نوٹس” نہیں لیا۔