شیزا نذیر

 

مجھے اپنی ایک اسائنمٹ کے لئے کسی تھیٹر میں جانا تھا۔ میرے ٹیچر نے مجھے اجوکا تھیٹر جانے کا کہا اور وہاں پر ایک سنئیر ڈایریکٹر سے بات بھی کروائی۔ سرفراز انصاری اُن دِنوں اجوکا ٹھیٹر میں بطور سنئیر ڈائریکٹر کام کر رہے تھے (آج کل بھی شاید وہیں ہیں)۔ خیر جب میں لاہور گرجا چوک پہنچی تو سرفراز صاحب سے رابطہ کیا تو اُنہوں نے کسی لڑکے کو مجھے لینے کے لئے بھیجا۔

جب مَیں وہاں گئی تو معلوم ہوا کہ میڈم مدیحہ گوہر کے گھر کا ایک حصہ اجوکا تھیٹر کے آفس کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ وہاں ایک پنجابی ڈرامے کی ریہسل چل رہی تھی۔ سرفراز صاحب سمجھے کہ مَیں ایکٹکنگ کے لئے آئی ہوں تو اُنہوں نے مجھے ایک سکرپٹ تھاما دیا جو مَیں نے پڑھا۔ مجھے ریہسل میں بھی شامل کر لیا گیا اور میرے بارے میں خیالات کا اظہار کیا کہ بس تھوڑی سی مخنت سے مَیں مزید بہتر کر سکتی ہوں۔

سرفراز صاحب اتنے مصروف تھے کہ مَیں بتا ہی نہ سکی کہ مَیں یہاں کیوں آئی ہوں۔ لیکن وہاں موجود ایک لڑکے سے مَیں نے پوچھا کہ کیا میڈم مدیحہ سے یہاں ملاقات ہو گی۔ اُس نے کہا کہ آپ کو چار بجے تک رُکنا پڑے گا (اُس وقت دِن کے دو بجے تھے) اُس دِن کسی ڈرامے کی فائنل ریہسل تھی اور میڈم نے بھی وہاں ہونا تھا۔ مَیں اُن سے ملنے کے لئے رُک گئی۔ فراز انصاری صاحب بھی شام کی فائنل ریہسل کے لئے مصروف ہو گئے۔

مدیحہ گوہر سے ملنے کا اشتعاق اِس لئے بھی تھا کہ اُن کی شخصیت میں جو رعب تھا بچپن میں میں اُس رعب کی کاپی کیا کرتی تھی اور میری کزنز جب مجھے مدیحہ کہتی تو مجھے بہت خوشی ہوتی تھی۔ مجھے یاد نہیں کہ کون سا ڈرامہ دیکھ کر میں اُن کی مدح بن گئی تھی۔

گوہر ۱۹۹۵۶ میں کراچی میں پیدا ہوئی۔ ماسٹرز آف آرٹ کی ڈگری کراچی سے حاصل کی اور بعد ازاں لندن سے بھی ایک اَور ماسٹر ڈگری حاصل کی۔ ۱۹۸۳ میں گوہر اپنے شوہر شاید ندیم کے ساتھ لاہور آئیں اور یہاں اجوکا تھیٹر کی بنیاد تھی جو اپنی نوعیت کا پہلا تھیٹر تھا۔ اجوکا میں گوہر نے نہ صرف پاکستان بلکہ دوسرے ممالک میں بھی پرفارم کیا جن میں انڈیا، بنگلا دیش، نیپال، سری لنکا اور بہت سے یورپین ممالک شامل ہیں۔ گوہر نے اجوکا کے ذریعے عدل، انسانیت، سیکولرازم اور معاشرتی برابری کو پروموٹ کیا۔

۲۰۰۶ میں نیدرلینڈ سے اُن کو پرنس کلاؤس ایوارڈ دیا گیا۔ ۲۰۰۷ میں اُن کو انٹرنیشنل تھیٹر پاسٹا ایوارڈ ملا۔ گوہر نے بطور اداکار، پلے رائٹر، ڈائریکٹر اور ویمن رائیٹ ایکٹیوسٹ کام کیا۔ اجوکا تھیٹر کا مشہور ڈرامہ ’’جنجال پورا‘‘ ٹی وی پر بھی چلایا گیا جس میں سویرہ ندیم اور محمود اسلم نے کام کیا تھا۔

چار بج چکے تھے اور باہر صحن میں ڈرامے کی ساری کاسٹ موجود تھی۔ میڈم کی کرسی کے پاس دو کرسیاں اَور پڑی تھیں۔ میڈم کے ساتھ بٹ صاحب اور ایک ٹی وی اداکارہ بیٹھیں تھی۔ سرفراز صاحب نے میڈم سے میرا تعارف کروایا کہ مَیں نیو ٹیلنٹ ہوں اور بطور تھیٹر ایکٹرس اجوکا جوائن کرنا چاہتی ہوں۔ سرفراز صاحب یہی سمجھے تھے۔ میڈم نے بڑی بے نیازی سے میری طرف دیکھا۔ اُن کا دیکھنا تھا کہ میرا سارا اعتماد لمحے میں غائب ہو گیا۔ اُنہوں نے پاس پڑی کرسی پر مجھے بیٹھنے کے لئے کہا کیونکہ اداکارہ اُٹھ کر جا چکی تھیں۔ مَیں اُن کے قریب بیٹھی تو اُن کے پرفیوم کی خوشبو سے جیسے مجھ میں اعتماد واپس آنا شروع ہوا حالانکہ اُن چہرے پر بے نیازی قائم تھی۔

ڈرامے کی ریہسل شروع ہوئی۔ میڈم کافی بنا کر پینے لگیں۔ درمیان میں اُنہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کبھی پنجابی لوک داستانیں سُنی ہیں تو مَیں نے جواب دیا کہ جس لوک داستان کی آپ ریہسل کر رہے ہیں یہ داستان مَیں نے اپنے پڑداد سے سُن رکھی ہے اور میرے پڑدادا نے یہ داستان اپنے دَور کے کسی تھیٹر میں دیکھی تھی۔ بس پھر کیا، میڈم میری طرف دیکھ کر بات کرنے لگیں،بولیں ایکٹنگ کا شوق کب سے ہے؟ مَیں نے کہا کہ ایکٹنگ کا شوق تو کبھی نہیں رہا۔ اُنہوں نے مجھے مشکوک نظروں سے دیکھا کہ پھر یہاں کیا کر رہی ہوں۔ مَیں نے بتایا کہ مجھے پروڈکشن کا شوق ہے لیکن اِس وقت مَیں یہاں اپنی اسائینمنٹ کے سلسلے میں آئی ہوں۔ میرے یہ کہنے پر پہلی بار اُنہوں نے مجھے مسکرا کر دیکھا اور کہنے لگی کہ میری عمر کی لڑکیوں کو تو اداکاری کا بھوت سوار ہوتا ہے۔ پھر کہا کہ اگر پروڈکشن کا شوق ہے تو اِس کو شوق کی حد تک نہ رہنے دینا بلکہ اِس کو پروفیشن بننا۔ اتنا کہہ کر وہ پھر سے کافی پینے اور ریہسل دیکھنے میں مصروف ہو گئیں۔

مَیں نے دو تین اَور باتیں بھی کیں لیکن اُنہوں نے ہوں ہاں کے سوا کوئی جواب نہ دیا۔ دورانِ ریہسل وہ بہت سختی سے ہر ایک کے ایکشن کا مشاہدہ کر رہی تھیں۔ کئوں کو تو ڈانٹ بھی پلا دی۔

اندھیرا ہو رہا تھا اور مجھے گھر واپس آنا تھا۔ میڈم کسی کام سے وہاں سے اُٹھ کر چلی گئیں اور مَیں نے سرفراز صاحب سے اجازت چاہی۔ تین چار دِن تک مَیں وہاں جاتی رہی لیکن اُس کے بعد میڈم سے ملاقات نہ ہو سکی۔ آج سُنا کہ مدیحہ گوہر تین سال سے کینسر کے مرض میں مبتلا تھیں اور کراچی میں انتقال کر گئی۔ میرا رب اُن کے لواحقین کو تسلی دے، آمین۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here