شہزاد فرید

ہمارے معاشرے میں مذہب اور لبرل ازم کے تضاد کا ایک ایسا علمی اور عملی خاکہ داغا جا چکا ہے جس کو ڈیریڈا (Derrida)کے تصور Aporia سے متصل کرنے میں کوئی عار نہیں کیونکہ ان کا باہمی تضاد کسی بھی عمومی حل تک رسائی حاصل کرتا دکھائی نہیں دے رہا۔ جہاں یہ دونوں حقائق شخصی خودمختاری کا پرچار کرتے ہیں وہیں دونوں بنیاد پرست بھی ہیں ، مذہب اپنے بنیادی عقائد کسی صورت نہیں چھوڑسکتا اور لبرل ازم اپنے بنیادی قوانین کو بدلنا نہیں چاہتا کیونکہ اگر بنیاد ہی تبدیل ہوگئی تو تصور کی شناخت اسی کی اساس سے کیونکر ہوگی۔

بہر طور ان کی تصوراتی مماثلت اور عملی تضاد کا معمہ ہمارے معاشرے میں واضح ہے۔ اولاً،دونوں قانونِ رواداری سےمحل ہیں مگر دونوں ایک دوسرے کو روا نہیں رکھتے جیسا کہ اسلام آباد کا رضویہ دھرنا اور اسلام آباد کا ہی نعرہ کہ “ہم ان (مذہبی ) لوگوں کو مزید ہرگز برداشت نہیں کریں گے”۔ دوم ، دونوں ایک دوسرے کے علمی تجزیے کے ساتھ انصاف نہیں برتتے کیونکہ سیاسیات کے طالبِ علم کو مذہب اور مذہب کے طالبِ علم کو سیاسیات کی تعلیم نہیں دی جاتی جبکہ دونوں محض کُتب خراشی کی تصویر نہیں بلکہ علمی جہات کا مجموعہ ہیں جس کا نتیجہ عقلی و علمی استدلال سے بیگانیت اور ایک دوسرے کے قوانین کی سِرے سے انکاری کی صورت ظاہر ہوتا ہے۔ سوم، دونوں کے جامعات میں شدت پسندی کے وجود سے انکاری دست بر چشم کےمصداق ہوگا، اسلام آباد سے شمالی پنجاب تک طلباء کے دہشت گردی میں ملوث ہونے کی تشہیر سب کو معلوم ہے جو سبین محمود کے قتل سے AK-47کی نمائش کا احاطہ کئے ہوئے ہے ، لبرل ازم کے نام پہ اساتذہ کی جنسی دہشت گردی تو اپنی تہذیب کے عروج پر ہے یعنی لبرل ہیں تو جنسی تسکین لیے عمل میں آزاد ہیں “مجبور محض “نہیں۔ اسی طور مدرسہ بنوریہ سے حقانیہ کے گریجویٹس کی شدت پسندی اور دہشتگردی میں گولڈ میڈل حاصل کرنے سے کون ذی روح واقف نہیں جن کی شخصی آزادی ہماری آنکھوں کے سامنے عریاں رقص کررہی ہے۔ چہارم، دونوں آزادئ رائے اپنے تئیں محدودرکھتے ہیں مثلاً لبرل ہونے کے ناطے آزادئ رائے اور اس کی تشہیر میرا حق ہے جو مذہب اور مذہبی افراد سلب کرتے ہیں جبکہ مذہبی افراد کا کہنا ہے کہ مذہب کو مکمل حق حاصل ہے کہ وہ غیر مذہبی رائے کو زندہ درگور کردے ۔

درحقیقت اس خلاء کی بنیادی وجہ باہم علوم کی ترویج کا فقدان اور اپنے علمی دائرے کی جدت پسندی کی معکوسیت ہے۔اس کی لا تعداد آپ بیتیاں موجود ہیں جن میں سے ایک میرے ساتھ بھی بیتی چکی ہے جب میں مذاہب میں “کونٹراسیپشن ” کے تصور پر تحقیق کر رہا تھا، گرجےنے میرے ساتھ وہی سلوک کیا جو اسپین نے Protestants کے ساتھ چودہویں اور پندرہویں صدی میں کیا ، مدرسہ نے میرے نوٹس پر غزنوی کا سترہواں حملہ کیا البتہ مندر نے مجھے رادھا جیسا پیار دیا، لبرلز نے میرے ساتھ تو کرشنا جیسی محبت کی لیکن مذہب کے سوال پر وہ ہنگری کی الیزابتھ باتھونی بن جاتے اور اگر ان کی تردید کی جائے تو وہ چِنگ اور مِنگ سلطنت کی دیوارِ چین ثابت ہوتے ، کسی سوال و جواب کی جراّت کہ وہ یہ دیوارپر سے صفاء مروہ نبھائے۔

ماحاصل یہ کہ نہ مذہب لبرل ازم کا اسی کی اصطلاحی ، تحقیقی اور نظریاتی جہات کا اعادہ کرنا چاہتا ہے اورنہ لبرل ازم مذہب کو اصول الالحدیث، رامائن اور ثماتھیولاجیکا کی صورت پرکھتا ہے نتیجتاً دونوں کو معاشر ے میں اپنی وضع کردہ حقیقت ہر سمت دکھائی دیتی ہے اسی عمومی حقیقت کی بِنا پر کارل پوپر (Karl Popper)نے کارک مارکس (Karl Marx)اور سگمنڈ فرائڈ(Sigmund Freud) کو “بدعنوان دانشور(Intellectually Corrupt) ” کے خطاب سے نواز ا تھا۔

مذہب اور لبرل ازم کی اسی علمی بدعنوانی کو پیدا کرنے کا سہرا اُن لوگوں کے سر جاتا ہے جن کے بارے میں جون ایلیا نےلکھا تھا کہ “بہت سے لوگوں کو پڑھنا چاہئے مگر وہ لکھ رہے ہیں” اورانقلابِ ایران سے پہلے ایسے افراد کی جانب اشارہ کرتے ہوئے علی شریعتی نے اپنے لیکچرز میں کہا تھا کہ “اگر آپ حقیقت کو تباہ کرنا چاہتے ہیں تو اس کا بے دریغ دفاع شروع کردیں” اور یقین جانیں ہم ان دونوں انتہاؤں کا ایسی بے دریغی سے دفاع کرنے میں مصروف ہیں کہ آج یہ معاشرہ نہ لبرل معلوم پڑتا ہے اور نہ ہی مذہبی! درحقیقت ہم نے اپنے وضع کردہ سچ کے دفاع کو ہی آزادئ رائے سے تعبیر کرلیا ہےجس سے نہ مذہب ہمارے ہاتھ آتا ہے ، نہ لبرل ازم ، نہ ہی شخصی آزادی! اور ہم سارے کا سارا ملبہ ریاست کے سر ڈال دیتے ہیں ۔

ہم اس شخصی آزادی کی مثال کبھی ممتاز قادری کی شکل میں دیتے ہیں اور کبھی ملالہ کی صورت، جہاں دونوں صورتیں ایک دوسرے کی صورت دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتی (حالانکہ دونوں رواداری کےعظیم نظایر بطور دلیل لاتے ہیں) اور نہ ہی اپنے عمل کی ذمہ داری قبول کرتی ہیں، بلکہ ریاست وہ واحد Scapegoat ہے جو ان دونوں کے ہتھے چڑھتی ہے، میں ان لبرلز اور مذہبی افراد کی توجہ ژاں پال سارتر (Jean-Paul Sartre)کی جانب مبذول کروانا چاہوں گا جس نے کہا تھا کہ “آپ انتخابِ عمل میں آزاد ہیں اور اس عمل کے نتائج کے واحد ذمہ دار بھی!” ویسے بھی جس معاشرے میں نعت گوئی پھول جیسی بچیوں کے ساتھ زیادتی کی ڈھال بنائی جاتی ہو، گالی کو قرآن سے ثابت کرتے ہوئے اسلامی گالی میں ڈھالاجاتا ہو، حسینیت کے دعویدار برقعہ پہن کر بھاگنے کو سنتِ نبوی(ﷺ) سے ثابت کرتے ہوں، جنسی تسکین “غزل الغزلات” سے اخذ کی جاتی ہو، گیتا کو اپنی انّا کی ڈھال بنایا جاتا ہو، لبرل ازم کے نام پہ شخصی آزادی، سیکولر ازم کے نام پہ مزدور کی واحد تسکین (جسے وہ مذہب کہتا ہے) اور جمہوریت کے نام پہ جمہور سے طاقت چھینی جاتی ہو اُس معاشرے میں رواداری اور ذمہ داری کا خواب ٹرمپ کے اسلام قبول کرنے کی فینٹیسی جیسا ہوگا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here