مہناز اختر

پاکستان میں مذہبی فسطائیت کینسر کا روپ اختیار کرچکی ہے۔ ڈنڈے کے زور پر مذہبی نظریات ریاست کی سرپرستی میں عوام پر نافذ کیئے جارہے ہیں اور نہایت افسوس کا مقام ہے کہ عدلیہ اور میڈیا اس مذہبی فسطائیت کے ہاتھ مضبوط کررہی ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے کہ ریاستیں عوام کو گرفت میں رکھنے کے لیئے مذہب کا استعمال کرتی ہیں۔ ریاستی اشرافیہ کی گود میں بیٹھا مذہبی مافیا اس مقصد میں ریاست کا بھرپور ساتھ دیتا ہے۔ ماضی کی استحصالی برہمنیت اور پاپائیت آج ملائیت میں تبدیل ہوچکی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان ایک اور مذہبی انتہا پسندی کی لہر کا متحمل ہوسکتا ہے؟

مذہبی نظریات کا تعلق ایمانیات کے ساتھ ساتھ فکروفلسفہ سے بھی منسلک ہوتا ہے۔ ایک طرف تو مذاہب بلا مشروط ایمان کا تقاضہ کرتے ہیں مگر دوسری جانب مذاہب کا فکروفلسفہ خیالات و نظریات میں وقت کے ساتھ ساتھ جدت اور تنوع کا اظہار بھی کرتا ہے ۔ ایک نظریہ سے نظریات کی چھوٹی چھوٹی سینکڑوں شاخیں پھوٹنے لگتی ہیں جنمیں سے کچھ اصل کی جانب سے قبولیت کا شرف حاصل کرلیتی ہیں اور کچھ رد کردی جاتی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ رد شدہ نظریات بھی آگے چل کر ایک نئے مذہب کا روپ دھار لیتے ہیں۔ مذاہب کی پوری تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں کہ ابتداً ایک نوزائیدہ مذہب اپنی ترویج و تبلیغ کے لیئے پرانے مذاہب کے آگے ملتجی نظر آتا ہے اوردلائل اور اخلاق حَسنہ کو معیاربنا کر معاشرے میں اپنی جگہ بناتا ہے لیکن وہی نوزائیدہ فلسفہ طاقت حاصل کر لینے کے بعد فسطائیت میں تبدیل ہوکر ظلم و جبر کو اپنا شعار بنا کر طاقت کے ذریعے اپنے نفاذ کو حق اور انسانی استحصال کو جائز قرار دیتا ہے۔

دنیا کے تمام مذاہب میں اخیر زمانے میں آخری نبی, مسیح یا امام وقت کی کرشماتی شخصیت کی آمد کی پیشنگوئی کی گئی ہے اور یہی پیشنگوئی ادیان ابراہیمی کے پیروکاروں میں باعث اختلاف ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ جب بنی اسرائیل “مسیح” کا انتظار کررہے تھے لیکن جب مسیح کی آمد ہوئی تو بنی اسرائیل نے انہیں مسیح اور انکے دین کو دین ابراہیم کا تسلسل تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور نوزائیدہ مسیحیت کے پیروکاروں پر ظلم و جبر کے پہاڑ توڑنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔ بالکل ایسا ہی معاملہ محمد صلی اللہ وسلم کی بعثت پر پیش آیا اور یہودیت اور مسیحیت دونوں نے اسلام کو دین ابراہیمی کا تسلسل تسلیم کرنے سے انکار کیا اور اس نظریہ کو الہامی کےبجائے شخصی قرار دیا اور اسلام کو محمدیت mohammedanism کا خطاب دے کر مسلمانوں کو راندہ درگاہ ٹہرا دیا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ حق اور امن پسندی کا دعویٰ کرنے والے ابراہیمی مذاہب کے پیروکاروں کی تاریخ مذہب کے نام پرقتل و غارت گری سے رنگی نظر آتی ہے۔

پیغمبر آخرالزماں کی وفات کے بعد سے ہی صحابہ اکرام کے درمیان فکری و نظریاتی اختلافات ظاہر ہونا شروع ہوگئے تھے مگر ان اختلاف نے کبھی بھی باقاعدہ مسلکی فرقہ واریت کا روپ اختیار نہیں کیا لیکن آپ کی وفات کے ایک صدی بعد سے ہی اسلام فکری طور پر پانچ نمایاں فرقوں میں تقسیم ہوگیا۔ سنی، خوارج، شیعہ، معتزلہ اور باطنیہ یہ پانچ فرقے پھر انکے اندر مزید تقسیم در تقسیم ۔ ایک طرف تو یہ فرقے فلسفہ اسلامی کے اندر موجود فکری تنوع کا ثبوت ہیں مگر دوسری جانب یہ فرقے امت کے درمیان نزع اور باہمی جنگ و جدال کا باعث بھی رہے ہیں ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس فکری تنوع نے مسلمانوں میں عدم برداشت اور تفریق کو جنم دیا اور ہر فرقے نے سیاسی طاقت حاصل کرنے کے بعد کمزور فرقے پر قہر ڈھانے۔

اس کے علاوہ وقت کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے درمیان سے کچھ ایسے فرقوں نے بھی جنم لیا جنہیں مسلمانوں نے متفقہ طور پر اپنی صفوں سے نکال پھینکا۔ ستم ظریفی یہ رہی کہ ان نظریات کے رد کے طور پر اسکے ماننے والوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا , انکی آزادی سلب کی گئی اور باقاعدہ طور پر انکی نسل کشی کی گئی اور انکے پیروکاروں کو انکے آبائی وطن سے دربدر کردیا گیا جیسے ایران میں پیدا ہونے والا بہائی فرقہ, ہندوستان میں جنم لینے والا ذکری فرقہ اور اسکے بعد غیر منقسم پنجاب سے اٹھنے والا احمدی فرقہ ۔ ان فرقوں کے بانیوں نے مسیح موعود یا مہدی ہونے کا دعویٰ کیا لیکن متقہ طور پر مسلمانوں کی جانب سے خارج الاسلام قرار پائے۔

اسلام امن پسندی کا مذہب ہے یہ دعویٰ درست ہے لیکن کیا مسلمان امن پسند قوم ہیں؟ اگر آپ کا جواب ہاں ہے تو ذرا سوچیے کہ افغانستان سے ہندو اور بدھسٹوں کا , ایران سے بہائی اور پارسیوں کا , شام سے یزیدیوں کا صفایا کس نے کیا ؟ اور پاکستان میں احمدی برادری پر زندگی کس نے تنگ کی؟

دنیا میں مذاہب کی تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ کسی بھی مذہبی نظریہ کو طاقت کے زور پر دبایا نہیں جاسکتا ہے اور ناہی ختم کیا جاسکتا ہے۔ اس بات سے انکار نہیں کہ دین کی اصل کی حفاظت کرنا اسکے پیروکاروں کا حق ہے ۔ مگر اپنے عقیدے کی حفاظت دوسرے پر ظلم کا جواز نہیں بن سکتی۔ پاکستان میں احمدی برادری کو غیر مسلم تو قرار دے دیا گیا مگر ریاست بحیثیت پاکستانی شہری انکی حفاظت میں ناکام رہی۔ اس ماہ صیام میں جہاں ہمیں سکھ اور مسیحی برادری کی جانب سے مسلمانوں کو دی گئی افطار پارٹی کی خبریں دیکھنے کو ملی وہیں مسلمانوں کی جانب سے احمدی برادری کی عبادت گاہ کو ببانگ دہل تہس نہس کرتے بھی دیکھا گیا۔ افسوس کی بات یہ تھی کہ ریاست, میڈیا اور عدلیہ تینوں ہی خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتی نظر آئیں۔ کتنے شرم کی بات ہے کہ ہم پاکستانی یورپی ممالک، امریکا سمیت بھارت و برما سے وہاں کے مسلمانوں کے لیے انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کا تقاضا کرتے نظر آتے ہیں مگر خود ہم نے پاکستان میں غیر مسلموں اور خصوصاً احمدی برادری پر زمین تنگ کررکھی ہے۔

پاکستان میں عدلیہ اور میڈیا کھلے عام مذہبی و مسلکی منافرت کا پرچار کررہی ہیں اور ہم خاموش ہیں ۔ لوگوں پر دین بزور طاقت لاگو کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ طالبان اور وہابیت کی دہشت کو پاکستان تیس سالوں سے بھگت رہا ہے مگر اب لگتا ہے کہ جماعت اہلسنت سے تعلق رکھنے والے نام نہاد عشّاق رسول کی دہشت گردی کا دور شروع ہوچکا ہے ۔ یہ توہین رسالت اور عشق رسول کا نعرہ لگا کر کسی کو بھی واجب القتل قرار دے سکتے ہیں اور اس مذہبی فسطائیت کی آبیاری ایک بار پھر ریاستی سطح پر کی جارہی ہے۔ چند شرپسند اور نام نہاد مذہبی شخصیات نے قوم کو غلام بنایا ہوا ہے اور ریاست چپ ہے۔ رمضان کے بابرکت مہینے میں ہمیں مذہبی فسطائیت کی دو بدترین مثالیں دیکھنے کو ملیں۔ پہلا واقعہ احمدیوں سے متعلق تھا جسکا ذکر میں اوپر کرچکی ہوں اور دوسرا واقعہ اس وقت رونما ہوا جب عامر لیاقت حسین نے بول چینل کے لائیو ٹی وی شو پر جان بوجھ کر ایک ایسے مسئلے کو ہوا دی جو پہلے ہی سنّیوں اور اہلحدیث میں تنازعہ کا باعث ہے ۔

افسوس صد افسوس کہ آج حکومت, عدلیہ اور میڈیا کا رویہ دیکھ کر لگتا ہے کہ ہم نے اپنی خونی تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا اور ابھی پاکستان میں مزید عبادت گاہیں مسمار کی جائیں گی اور مزید مشعل قتل کیئے جائیں گے۔