شعیب کیانی، اسلام آباد

گزشتہ چند دنوں سے عمران خان کے بابا فرید رحمتہ اللہ علیہ کے مزار کی چوکھٹ پر مبینہ سجدے یا بوسے پر جاری بحث کے دوران ان کا دفاع کرنے والے اکثر لوگوں نے کہا کہ “مذہب انسان کا ذاتی معاملہ ہے۔” یہ محض ایک جملہ نہیں بلکہ سیکیولرازم کی بنیاد ہے۔ وہ سیکیولرازم جو اس وقت مغرب کے سبھی ترقی یافتہ ممالک میں رائج ہے۔ اگر یہ جملہ پاکستان میں مقبول ہو گیا تو یہاں اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے اس مضمون میں ہم اسی پر بات کریں گے۔ مذہب کو ذاتی معاملہ قرار دے دیا جائے تو معاشرے کے سب افراد پر مندرجہ ذیل پابندیاں عائد ہو جاتی ہیں۔

1- کوئی آپ پر تنقید نہیں کر سکتا نہ ہی یہ پوچھ سکتا ہے کہ کسی مزار، بت یا انسان کو سجدہ کیا تو کیوں کیا؟ اور اگر نہیں کیا تو کیوں نہیں کیا؟

2-آرمی چیف، صدر اور وزیراعظم سے لے کر چپڑاسی تک کسی بھی عہدے پر فائز شخص کوئی بھی عقیدہ رکھتا ہو اس سے عوام کو یا ریاست کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یعنی آپ ہندو، مسلمان، سکھ، قادیانی، شیعہ یا وہابی کوئی بھی ہوں آپ بڑے سے بڑے عہدے پر فائز ہو سکتے ہیں۔
جیسے مغرب میں عیسائیوں کی سیکیولر ریاستوں میں پاکستانی مسلمان مئیر، ممبر پارلیمنٹ اور وزارتوں کے قلم دان سنبھال رہے ہیں۔

3- آپ دن میں دس بار مذہب تبدیل کریں صبح ہندو ہوں دوپہر کو عیسائی شام کو قادیانی اور رات کو بریلوی، ریاست یا عوام کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

4- آپ جس کو چاہیں ولی مانیں، جس کو چاہیں نبی مانیں جس کو چاہیں سجدہ کریں جس کو چاہیں اپنا پیر مانیں کوئی آپ کو کچھ نہیں کہے گا۔
ایسے ہی کوئی دوسرا آپ کے ولی کو ولی اور نبی کو نبی نہ مانے تو آپ اس پر تنقید نہیں کر سکتے نہ ہی اس سے لڑائی جھگڑا کر سکتے ہیں۔

5- آپ خدا کو نہیں مانتے تو بھی یہ آپ کا ذاتی مسئلہ ہو گا۔ اور اگر کسی کے دماغ یا ہاتھ سے بنائے ہوئے خدا پر بغیر کسی چھان بین کے ایمان لے آتے ہیں تو بھی یہ آپ کا ذاتی معاملہ ہو گا۔ ریاست یا عوام آپ سے کچھ نہیں پوچھے گی۔
یعنی سیکیولرازم ایک دوسرے کے عقائد کا احترام کرنے کا نام ہے۔

6- آپ کو بولنے کی اور اپنا عقیدہ دوسروں کو بتانے کی مکمل آزادی ہوتی ہے یعنی آپ کسی کو بھی اپنی طرح سوچنے پر قائل کر سکتے ہیں ایسے ہی دوسروں کو بھی آزادی ہوتی ہے کہ وہ آپ کو اپنے عقیدے کے بارے میں قائل کریں لیکن آپ میں سے کوئی بھی دوسرے کی تضحیک نہیں کر سکتا نہ ہی کسی قسم کی زبردستی کر سکتا ہے۔

7- جب مذہب آپ کا ذاتی معاملہ ہو جاتا ہے تو آپ محلے میں موجود ان لوگوں کو جو آپ کے عقیدے کے نہیں ہیں٬ جلوسوں، ریلیوں، محفلوں، قربانی کے جانوروں کی اوجڑیوں اور مندر کی گھنٹیوں سے بے سکون نہیں کر سکتے۔

8- آپ کو روزہ ہو اور ایک عیسائی، ہندو، ملحد، حیض والی عورت، بیمار، بوڑھا یا کوئی مسافر کھانا کھا رہا ہو تو آپ اسے منع نہیں کر سکتے نہ ہی اس پر تنقید کر سکتے ہیں۔

9- اگر آپ نماز پڑھ رہے ہوں تو یہ آپ کا اور کوئی دوسرا نہیں پڑھ رہا تو یہ اس کا ذاتی معاملہ ہوتا ہے۔

10- مذہب ذاتی معاملہ بن جائے تو ریاست کا کوئی مذہب نہیں رہتا یعنی ریاست کے لیے سب لوگ برابر ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ حکومت اور اس کے اداروں کے لوگ لادین ہو جاتے ہیں یا مذہب ترک کر دیتے ہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ریاست اور اس کے اداروں کو چلانے والے لوگ اپنے اپنے مذہب کو اپنی ذات تک محدود کر لیتے ہیں اور اپنے مذہب کو ماننے والوں اور نہ ماننے والوں کو ایک جیسا انسان سمجھتے ہیں اور مساوی حقوق دیتے ہیں۔

11- ایسی ریاست میں اگر آپ مذہب کی بنیاد پر کسی سے نفرت کرتے ہی یا اس کی تضحیک کرتے ہیں یا آپ کے متشدد عقیدے سے دوسروں کی زندگی کو خطرہ محسوس ہوتا ہے تو آپ کے خلاف کاروائی کی جاتی ہے اور آپ کو پابند کیا جاتا ہے کہ اپنا عقیدہ اپنی ذات تک محدود رکھیں۔

12- سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ ریاست کی طرف سے مہیا کی جانے والی سب سہولتیں سب شہریوں کے لیے ہوتی ہیں اور ان سہولیات کا کوئی مذہب نہیں ہوتا بلکہ ان سہولتوں کا مذہب پہلے سے ہی نہیں ہے۔
مثلاً علاج کا کوئی مذہب نہیں، علم کا کوئی مذہب نہیں، انصاف کا کوئی مذہب نہیں، صاف پانی کا کوئی مذہب نہیں، بجلی کا کوئی مذہب نہیں، سڑک اور پل کا کوئی مذہب نہیں، ملازمت کا کوئی مذہب نہیں، روٹی کا کوئی مذہب نہیں یہ سب چیزیں ہر مذہب کے ماننے والے کی بنیادی ضرورتیں ہیں جن کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اگر ریاست کا کسی ایک مذہب، طبقے، نسل یا زبان کی طرف جھکاؤ ہو تو نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اقلیتوں کو بنیادی حقوق کی فراہمی مشکل ہو جاتی ہے بلکہ انکا جینا ہی محال ہو جاتا ہے۔

اب آپ خود یہ طے کر لیں کہ یہ کہنا کہ “مذہب انسان کا ذاتی معاملہ ہے” آپ کے اور باقی انسانوں کے لیے مضر ہے یا مفید؟ اور یہ بھی طے کر لیں کہ آج اگر آپ اپنے عقیدے کو اپنا ذاتی معاملہ کہہ رہے ہیں تو کیا کل کسی دوسرے کے عقیدے کو اس کا ذاتی معاملہ کہہ کر نظر انداز کر سکیں گے؟