مہناز اختر

“آؤ اس بات کی طرف جو ہمارے درمیان مشترک ہے کیونکہ مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا” آیتِ قرآنی اور اقبال کی نظم پر مبنی یہ بیانیہ بین المذاہب ہم آہنگی کا آفاقی اصول ہے جو ہمیں اختلافات کے باوجود مماثلتوں پر اکھٹا ہونا سکھاتا ہے. دنیا کے تمام مذاہب میں خدا شناسی کی قدر مشترک ہے. مذاہب کا تعلق فکروفلسفہ سے ہے اس لیئے ان میں وقت کے ساتھ ساتھ تنوع اور نظریاتی اختلاف کا پایا جانا فطری امر ہے . یہ درست ہے کہ مذاہب بنیادی طور پر امن و آشتی کا درس دیتے ہیں لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ پوری دنیا میں مذہب کے پیروکاروں نے مذہب کو ہمیشہ نفرت کی سیاست ,تفریق اور جنگ و جدال کے جواز کے طور پر استعمال کیا ہے۔

پاکستانی معاشرے میں مذہب کی جڑیں انتہائی گہری ہیں . بدقسمتی سے ہمارے علماء اور سیاستدان اپنے بیانیوں میں مذہب کا استعمال ہمیشہ منفی انداز میں کرتے آئے ہیں جسکے نتیجے میں عوامی سطح پر مذہب کے نام پر تعصب اور تقسیم میں دن بعد اضافہ ہوتا جارہا ہے. گزشتہ دو تین ہفتوں میں جس طرح مذہب کو نفرت انگیزی کے لیئے استعمال کیا گیا ہے یہ رجحان انتہائی خوفناک ہے۔

سب سے پہلے تو گستاخانہ خاکوں کی منسوخی کے حوالے سے پی ٹی آئی اور تحریک لبیک کا غیر ذمہ دارانہ رویہ جسمیں یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ پاکستان کے دباؤ کی وجہ سے ہالینڈ کی حکومت نے گیئرٹ ولڈرز پر دباؤ بڑھایا جسکے نتیجے میں اس نے یہ مقابلہ منسوخ کردیا حالانکہ حقیقت کچھ یوں ہے کہ مسلمانوں کی جانب سے خصوصاً “پاکستانی” مسلمانوں کی جانب سے کسی بھی ممکنہ دہشت گردی کے پیش نظر ولڈرز نے یہ اعلان کیا کہ وہ ہالینڈ کی عوام کی زندگی خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتا اس لیئے رضاکارانہ طور پر ان مقابلوں کی منسوخی کا اعلان کررہا ہے لیکن وہ دوسرے طریقوں سے مسلمانوں کی “بربریت” کو بے نقاب کرتا رہے گا۔

ردعمل کے طور پر پاکستان میں نازیوں کے ہاتھوں یہودیوں کی نسل کشی پر انتہائی غیر سنجیدہ رویہ اپنایا گیا اور اقوام متحدہ کی جانب سے انسانی حقوق کی تکریم و تحفظ کی خاطر تشکیل دیئے گئے ہولوکاسٹ میموری لاء کے خلاف بدترین پراپیگنڈہ بھی کیا گیا . کئی انٹرنیٹ جہادی تو یہ عندیہ دیتے ہوئے بھی نظر آئے کہ ہمیں بھی پاکستان میں یہودیوں کی نسل کشی کے حوالے سے توہین آمیز خاکوں کا مقابلہ منعقد کروانا چاہیے. مجھے اس قسم کا منصوبہ بنانے والوں سے یہ کہنا ہے کہ آپ ولڈرز کو اسکے ملک میں گستاخانہ خاکے بنانے دیجیے اور اپنے وطن میں یہودیوں کی نسل کشی پر توہین آمیز خاکوں کا مقابلہ کروا لیجیے حساب برابر ہوجائے گا پھر چاہے یورپ میں بسنے والے مسلمانوں کی زندگی ہمارے رویوں سے کتنی ہی اجیرن ہوجائے اور ہالینڈ سمیت یورپ میں پناہ لینے والے پناہ گزین مسلمانوں پر یورپ کی زمین کتنی ہی تنگ ہوجائے ہمیں کیا۔

دوسری مرتبہ مذہبی عدم برداشت پر مبنی رجحان اس وقت دیکھا گیا جب حکومت کی جانب سے قائم کی گئی اقتصادی ایڈوائیزری کاؤنسل میں قادیانی برادری سے تعلق رکھنے والے عاطف میاں کو شامل کرنے کی وجہ سے ملک بھر میں قادیانیوں کو کھلے عام نفرت کا نشانہ بنایا گیا اور ان پر غدارِ وطن کی مہر لگا دی گئی. کیا عوام کیا سیاستدان سب نے ایمان اور حب الوطنی کی اس بہتی گنگا میں اپنے ہاتھ دھوئے. اور تو اور کئی لبرل ایکٹیوسٹ بھی “بغض عمران ” میں اس فیصلے کے خلاف میدان میں آگئے اور قادیانیوں کے خلاف نفرت کی اس آگ میں گھی ڈالنے کا کام کیا. وزیراعظم عمران خان اور وفاقی وزیر اطلاعات فؤاد چوہدری کے ٹھوس اور مدلل مؤقف کے بعد ماحول میں کچھ بہتری تو آئی ہے مگر نفرت کی یہ مہم اب بھی جاری ہے۔

تیسری مرتبہ مذہبی شناخت کے حوالے سے انتہائی غیر سنجیدہ رویہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب پاکستان رینجرز نے ملازمتوں کی نئی اسامیوں کے حوالے سے اشتہار دیا اور اس میں سینیٹری ورکرز کے لیئے “صرف” غیر مسلم کی شرط رکھی تو کئی لبرل جہادی معاملے کی تہہ میں جانے کے بجائے مذہبی مساوات کے پرچار کی آڑ میں اپنے ذاتی عناد اور ایجنڈے کا پرچار کرنے لگے. اپنی نوعیت کے اعتبار سے یہ اشتہار مذہبی تعصب پر مبنی لگتا ہے لیکن غور کریں تو مسئلہ مذہبی تعصب کے بجائے سوشل نارمز کا تھا. ایسے اشتہارات ہمیشہ سے ہمارے اخباروں میں چھپتے آئے ہیں اور کبھی ان پر توجہ نہیں دی گئی لیکن جب انڈین ایکسپریس نے یہ خبر پاکستان میں موجود مذہبی تعصب کے حوالے سے شائع کی تو سب سے پہلے ہندوستانی ” لبرل سوشل میڈیا جہادی” حرکت میں آئے اور پاکستانیوں کو شرمندہ کیا اور اسکے بعد ہمارے لبرل ایکٹیوسٹ بھی حرکت میں آگئے اور کسی نے یہ تک جاننے کی کوشش نہ کی کہ اس مخصوص رجحان کی کیا وجہ ہوسکتی ہے کہ صفائی ستھرائی اور سیورج سے متعلق اسامیاں صرف غیر مسلموں کے لیئے مخصوص ہیں۔

ایک وجہ تو یقیناً خطّہ میں ہزاروں سالوں سے مروج ذات پات کی تقسیم کا نظام ہے جسمیں دَلِت, ڈوم اور چمار باقاعدہ سے ایک ذات ہے اور انکا اولین فرض لوگوں کی گندگی اٹھانا ہے لیکن دوسری ممکنہ وجہ کی طرف میں آپکی توجہ دلانا چاہوں گی. غالباً یہ سال 2014 یا 2015 کی بات ہے جب خیبر پختونخواہ کی حکومت کی جانب سے سینیٹری ورکرز کی ملازمت کے لیئے اسامیوں کا اعلان کیا گیا اوراس اسامی کے لیئے “صرف” غیر مسلم کی شرط کو ہٹا لیا گیا . میں نے یہ خبر ٹی وی پر سنی اور اسے مذہبی مساوات کی طرف ایک اچھا قدم سمجھ کر اس فیصلے کو سراہا . چند ہی دنوں بعد اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے سینٹری ورکرز کے احتجاج کی ایک اور خبر نظر سے گزری . وہ اس بات پر احتجاج کررہے تھے کہ ایک یہی شعبہ تھا جہاں انہیں ملازمت ملنے کا امکان سو فیصد ہوتا تھا لیکن یہاں سے” غیر مسلم ” کی شرط ہٹا کر ہماری برادری کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے. اس بار بھرتی ہونے والے زیادہ تر سینیٹری ملازمین مسلمان ہیں۔

مسلمانوں کی جانب سے دی جانے والی درخواستوں کی تعداد اوسطاً زیادہ تھی تو زیادہ ملازمتیں بھی مسلمانوں کو ملیں اور پھر ہسپتالوں میں بھی مسلمانوں کو سینیٹری ورکرز کے طور پر بھرتی کیا گیا. اسی تسلسل کی تیسری خبر یہ تھی کہ خیبر پختونخواہ کے مختلف سرکاری ہسپتالوں کے دورے بعد انتظامیہ کی جانب سے یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ ماضی کے مقابلے میں سرکاری ہسپتالوں کے ٹوائلٹس کی حالت زیادہ دگرگوں پائی گئی ہے. صفائی پر مامور زیادہ تر عملہ مسلمان ہے انہوں نے یہ ملازمتیں حاصل تو کرلی ہیں لیکن ڈیوٹی پر نہیں آتے کیونکہ وہ اسے توہین آمیز کام سمجھتے ہیں. اسی غیر حاضری کے سبب 2016 میں خیبر پختونخواہ میں غیر معمولی بارشوں کے دوران کئی گٹر اور سیورج لائنز عدم توجہی کے باعث بند پائی گئیں اور نتیجتاً شہر میں سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی . دوسری طرف ہندوستان میں انڈین ایکسپریس نے صرف “بغض پاکستان” میں یہ خبر شائع کی,ایک ایسا ملک جہاں باورچی کی اسامیاں زیادہ تر برہمن یا پنڈتوں کے لیئے مخصوص ہیں اور سینٹری ورکرز کے لیئے صرف چھوٹی ذات سے تعلق رکھنے والے ہندو,مسلمان,مسیحی اور سکھوں سے درخواستیں وصول کی جاتیں ہیں۔

کہنے کا مقصد یہ ہے کہ مذہب ہمارے سیاسی بیانیوں میں اس حد تک سرایت کرچکا ہے کہ یا تو ہم مذہب پر بات کرتے ہیں یا مذہب کے خلاف. معاشرے کے دوسرے سنجیدہ مسائل سے پہلوتہی کرکے ہم ہر روز اپنی سماجی ذمہ داریوں سے خیانت کے مرتکب ہوتے ہیں. آزادی اظہار رائے کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم خود سے جدا فکر و شناخت رکھنے والوں کو نفرت یا تعصب کا نشانہ بنائیں یا تنقید کی آڑ میں انکی تضحیک کی جائے . ولڈرز کے ساتھ ساتھ ہمیں بھی سیکھنے کی ضرورت ہے کہ آزادی اظہار رائے سنجیدہ مکالمت اور فکری آزادی کا نام ہے جہاں اختلاف کے باوجود بھی ایک دوسرے کے لیئے احترام باقی رہتا ہے۔

میرا مشورہ ہے کہ علامہ اقبال کو مفکر پاکستان قرار دینے والی قوم کو انکی مذہبی رواداری اور احترام سے بھرپور شری رام, گوتم بدھ اور گرو نانک کی ثناء خوانی پر مبنی نظمیں ضرور پڑھنی چاہیے جسمیں انہوں نے شری رام کو “امام ہند”, گوتم بدھ کو “گوہر یک دانہ” اور گرونانک کو “مؤحد ” قرار دیا ہے .