ڈاکٹر نازش امین، کراچی

یہ وہ شخصیت ہے، جن کے نام کے ساتھ تعارف کے لوازمات شامل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔

پاکستان کی تین نسلیں یہ نام سنتے اور انہیں پڑھتے ہوے بڑی ہوئی ہیں۔ لاہور کو پاکستان کی ثقافتی تاریخ میں جو مرکزی مقام حاصل ہے، اس سے کون لا علم ہے اور وہی امتیازی حیثیت پاکستانی ادب میں مستنصر حسین تارڑ کی ہے۔ ان کی شخصیت کی طرح ان کی تخلییقات بھی ہمہ جہت ہیں۔ انہوںنےاردو نثر میں جومنفرد تجربات کیے ہیں، ان کے اثرات سے کوئی بھی اردو ادب سے شغف رکھنے والا قاری یا نقاد محفوظ نہیں رہ سکتا۔ پاکستان کے سب سے زیادہ کتابیں لکھنے والے اور پڑھے جانے والے ادیب ہونے کا اعزاز اپنی جگہ، پاکستان کے سب سے زیادہ چاہے جانے والے داستان گو کا خطاب شاید زیادہ موزوں ہے اور کوئی مثال ادب کی تاریخ میں کہاں ملتی ہے جہاں مصنف کا ایک سفرنامہ پڑھ کر آپ پہاڑوں کی محبّت میں مبتلا ہو کر شمال کی جانب اس شخص کے قدموں کے تعاقب میں نکل کھڑے ہوں، جس نے اردو سفرنامہ لکھنے کی ایک نئی جہت ڈالی ہو یا پھر ایک رک سیک (بستے) کو اپنا محبوب بنا لیں اور آوارہ گرد ہو جائیں،یا پھر اپنے محبوب ادیب کی محبّت میں مبتلا ہو کر لاہور کے ماڈل ٹاؤن پارک پہنچ جائیں۔

شاید بہت سے لوگو ں کے لیے یہ ایک خبر ہو کہ اس مشہور ادیب سے ملنے کا ٹھکانہ یہی پارک ہے جہاں لوگ تارڑ صاحب کے ساتھ چند ساعتیں گزرنے اوران کے ساتھ ایک سیلفی کی چاہ میں پاکستان کے مختلف شہروں حتیٰ کہ بیرون ملک سے بھی سویر کے
دھندلکوں میں راستے تلاشتے پہنچ جایا کرتے ہیں۔

شاید اس سے قبل آپ نے انکساری کی ایسی مثال نہ دیکھی ہو جہاں ایک مشہور اور مصروف شخصیت اپنے پڑھنے والوںکو بلا تفریق اس قدر وقت اور اتنی ڈھیر ساری سیلفیوں کا موقع عنایت کرتی ہو۔
اسی پارک کے ایک کونے کو “تکیہ تارڑ”کے لیے مختص کر دیا گیا ہے۔ مگر کیا ہے، یہ تکیہ تارڑ کیا ہے۔ سلسلہ کچھ یوں ہے کہ اس کونے میں کچھ گول میز کانفرنس کے انداز میں کرسیاں رکھی ہوتی ہیں، جہاں تارڑ صاحب کے دوست احباب، ان کو پڑھنے والے ان سے سیکھنے اور ان کی کتابوں پر گفتگو کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں۔ یہ سلسلہ ان فیس بک پر ریڈرز ورلڈ کے احباب کی بدولت اب پورے ملک میں پھیل چکا ہے، جہاں تارڑ کی کتابوں کے شیدائی ان کی کتابوں پر سیر حاصل گفتگو کرتے ہیں اور یوں کتب بینی اور مطالعہ کی ایک انوکھی محفل سجائی جاتی ہے۔

فروری 2013میں پہلی بار کراچی لٹریچر فیسٹیول میں مجھے مستنصر حسین تارڑسے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ پہلی ملاقات کا تاثر تا دیر رہتا ہے۔ مجھے آج بھی یاد ہے جب کراچی کے بیچ لگژری ہوٹل میں اس بھیگتی صبح میں، میں نے مستنصر حسین تارڑ سےگفتگو کے لیے کچھ پل مانگے تھے. وہ ہمیشہ کی طرح، ریڈیو، ، مختلف چینلز کے نمائندوں میں گھرے بیٹھے تھے، لیکن انہوں نے اپنا وعدہ نبھاتے ہوے مجھے بہت سا وقت دیا اور میں نے اس سمیت اگلی کئی ملاقاتوں میں ان سے لفظوں سے موتی چننے کا ہنر سیکھا۔

میں شاید ان کتابوں کی گنتی بھی نہیں جانتی جو تارڑ کے قلم نے تخلیق کر لی ہیں اور ان ان گنت تمغوں اور اعزازت کی تعداد سے بھی نا واقف ہوں جو دوحہ، برلن، ماسکو، چین، سڈنی اور دنیا کے دیگر کئی شہروں میں انہیں نوازے گئے۔ یا پھر پاکستان میں پیش کیا جانے والا پرائیڈ آف پرفارمنس اور ستارہ امتیاز جو ان کی خدمات کے اعتراف کا ایک سلسلہ تھا۔ ہاں مگر میں اتنا جانتی ہوں کہ تارڑ اپنی ذات میں ایک ایسا دریا ہے جو خیال کی جس دھرتی سے گزرتا ہے اسے سیراب کر کے گہرے ہریاول میں تبدیل کر دیتا ہے۔ دعا ہے کہ تارڑ کا قلم یوں ہی ہمیں شاد کرتا رہے اور سیراب کرتا رہے۔ سال گرہ مبارک۔مستنصر حسین تارڑ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here