مہناز اختر

جس دن مصوم زینب کے ساتھ جنسی درندگی اور اس کے قتل کی خبر میڈیا پر نشر ہوئی، اس دن پاکستان کا ہر شہری چاہے مسلم ہو یا غیر مسلم گہرے سوگ میں ڈوب گیا۔ ہر ماں نے زینب کی ماں کی طرح اپنے جگر کو پاش پاش ہوتا، محسوس کیا اور اس پر ظلم کرنے والے کو بدعائیں دیں۔ ہر باپ نے زینب کے باپ کا غم اپنے سینے میں محسوس کیا۔  زینب کے  بے حد محترم والد صاحب، یہ آپ نے کیا کیا؟ آپ نے کہا کے زینب کیس کی جے آئی ٹی میں کوئی کافر یا قادیانی نہیں ہوسکتا۔ مگر کیوں؟  آپ نے کہا کہ کوئی مسلمان ایسا کام نہیں کرسکتا۔   کیا واقعی؟

میرے پاس کہنے اور لکھنے کو بہت کچھ ہے مگر آج میرے الفاظ چپ کا روزہ رکھنا چاہتے ہیں کیونکہ زینب قتل واقعہ پر آپ کی طرح ہمارا دکھ  بھی ابھی تازہ ہے، بس ایک سوال ہے آپ سے، اگر زینب کا مجرم مسلمان نکلا تو کیا آپ اس سے خون بہا لے کر اسے معاف کردیں گے اور بالفرض کافر یا قادیانی نکلا تو اس صورت میں اسے عبرت ناک سزا دلوائیں گے؟

آپ کے پاس میرے سوال کا جواب ہے یا نہیں میں نہیں جانتی مگر انصاف مشروط و معتصب ہوگا اس کی خبر ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here