مہناز اختر

ملائیت سے میری مراد بلاتفریق مسلک و فقہ دین اسلام سے تعلق رکھنے والا وہ مذہبی اجارہ دار طبقہ ہے جس نے خود کو اعلیٰ اور تنقید سے مبرا سمجھ رکھا ہے اور خود کو خدا کا نمائندہ خصوصی ظاہر کرتے ہوئے یہ طبقہ دین کا ٹھیکے دار بنا بیٹھا ہے جو اپنی چاہ کے مطابق جنت کا ٹکٹ اور ایمان کا سرٹیفکٹ تقسیم کرنے کا نام نہاد مجاز بھی ہے۔

کسی بھی معاشرے میں خاندان اور برادری کے علاوہ بھی دیگر کئی ادارے ہوتے ہیں جو سماج کی تشکیل اور ترقی میں اپنا حصّہ ملاتے ہیں۔ جیسے کاشتکار۔، فنکار۔، تاجر وغیرہ۔ جب ہم ان الفاظوں کو بطور اسم جمع Collective noun استعمال کرتے ہیں تو ہماری اشارہ کسی برادری کی اکثریت یا اسرورسوخ رکھنے والی نمایاں اقلیت کیطرف ہوتا ہے۔ فرض کریں کہ آپ کسی سیاحتی مقام پر تفریح کی غرض سے جائیں اور سات دکانوں سے خریداری کریں جس میں سے چھ دکانوں پر بیٹھے تاجروں نے آپکو سستا اور غیر معیاری مال مہنگے داموں فروخت کیا اور قیمت کم کرانے پر بداخلاقی سے پیش آئے تو آپ تا عمر اس سیاحتی مقام سے متعلق اس تاثر کو قائم رکھیں گے کہ فلاں جگہ کے تاجر بدیانت اور بد اخلاق ہیں حالانکہ آپکا واسطہ ایک انتہائی ایماندار اور خوش مزاج تاجر سے بھی پڑا اور بارہ میں سے بقیہ پانچ سے آپ نے کوئی خرید و فروخت نہیں کی۔

اس مثال کا مقصد یہ سمجھانا ہے کہ کسی بھی برادری یا سماج کی واضح اکثریت یا اسرورسوخ رکھنے والی نمایاں اقلیت کا طرز عمل ہی پوری برادری کا تاثر قائم کرتا ہے اور معاشرے پر مثبت یا منفی اثرات مرتب کرنے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔جیسے وکلاء برادری کے حوالے سے یہ محاورہ ” Lawyers are Liars ” معروف ہے یا جیسے ہم تمام پولیس والوں کو رشوت خور اور سیاستدانوں کو بدعنوان سمجھتے ہیں جبکہ ہم جانتے ہیں کے سارے وکیل جھوٹے نہیں ہوتے مگر وکلاء کی اکثریت یا نمایاں اقلیت کے رویے کی وجہ سے پوری برادری ناقابل اعتبار ٹہرتی ہے۔

یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ میں لفظ ملائیت کو عام مذہبی افراد کےلیئے استعمال نہیں کرتی بلکہ یہ لفظ ایسے طبقے کے لیئے ہے جنہیں ہم علماء دین کہتے ہیں یہ طبقہ جو محراب و منبر اور دینی مدارس کا نمائندہ کہلاتا ہے۔ اس طبقے پر جب بھی تنقید کی جاتی ہے تو نقاد کو ہمیشہ شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور یہ طعنہ سننے کو ملتا ہے کہ انہیں مولویوں کی وجہ سے آپکے کانوں میں اذان پڑتی ہے۔، انہیں کی وجہ سے جنازہ کی نماز نصیب ہوتی ہے اور یہی مولوی آپکا نکاح کرواتا ہے۔

ایسی سوچ درست نہیں ہے۔، ہم مذکورہ معاملات میں مولویوں کے محتاج ہرگز نہیں ہیں۔ دین اسلام خود بہت سارے معاملات میں کسی بھی مذہبی اجارہ دار طبقے یعنی ملائیت کی نفی کرتا ہے اور آپ کو مذہبی معاملات میں خود مختاری کی طرف بلاتا ہے۔ یعنی ایک عاقل و بالغ مسلمان کو کم از کم دین کا اتنا علم اور تربیت ہونی چاہیے کہ وہ خود اذان دے سکے۔، نماز کی امامت کراسکے۔، جنازہ پڑھاسکے حتی کہ خطبہ نکاح بھی پڑھا سکے۔ یہ الگ بات ہے کہ فی زمانہ مذہبی فرائض سے متعلق بہت سارے منصب ہم نے اپنی سہولت کے لیئے ایجاد کیئے ہیں ۔ ہم ملائیت کے حوالے سے مبالغہ آمیز تقدس اور اندھی تقلید میں اس قدر آگے بڑھ چکے ہیں کہ ہم نے ملائیت کو نبوت کی طرح تنقید سے ماورا قرار دے دیا ہے۔

اسلام کسی کو بھی یہ اجازت نہیں دیتا ہے کہ اسے صنعت بنا کر اس پر اجارہ داری کی جائے۔ علماء دین اصل میں استاد۔، نقاد۔، مصلح و مجاہد اور رضا کار ہیں ۔ انکی ذمہ داری ہے کہ مسلمانوں کو قرآن وسنۃ کی تعلیم دیں ۔، معاشرے میں پیدا ہونے والے بگاڑ کی نشاندہی کریں ۔، مسلمانوں کی تنظیم و تربیت اور اتحاد میں اپنا کردار ادا کریں۔، معاشرے کو انتشار سے بچائیں ۔،مظلوم طبقوں کے ساتھ انکی آواز بن کر کھڑے رہیں اور معاشرے کے عصری مسائل کو اجاگر کریں لیکن آپ ہمارے معاشرے میں موجود علماء دین کے کردار پر ایک نظر ڈالیں اور محاسبہ کریں کہ کیا علماء دین اپنا بنیادی کردار ایمان داری سے ادا کررہے ہیں؟

اب آتے ہیں اس سوال کی طرف کہ ملائیت پر تنقید کیوں ضروری ہے؟

جب کبھی ملک میں امن و امان کی صورت حال خراب ہوتی ہے تو ہم کہتے ہیں کہ پولیس اپنا کام ٹھیک سے نہیں کررہی ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ پولیس کا ادارہ امن و امان کی خراب صورتحال کی ذمہ داری لیتا ہے اور اپنے اندر موجود کالی بھیڑوں کی صفائی کیطرف بھی توجہ دیتا ہے جن کی وجہ سے پورے ادارے کی ساکھ خراب ہوتی ہے۔ اسے برعکس آپ نے کبھی علماء دین کو اپنی صفوں میں موجود شرپسند اور منفی عناصر کی ذمہ داری لیتے نہیں دیکھا ہوگا ۔ پچھلے تیس چالیس سالوں میں ملائیت نے اس ملک کی بنیادوں اور ہماری رگوں میں نفرت اور فرقہ پرستی کا اس قدر زہر گھولا ہے کہ آج ہم ایک دوسرے کی گردنیں مذہب کے نام پر کاٹنے کو تیار نظر آتے ہیں اور مسجد جسے اللہ کا گھر کہا جاتا ہے اسکے دروازوں پر لکھا ہوتا ہے “فلاں مسلک کے افراد کا داخلہ ممنوع ہے”۔ ملائیت کی تنگ نظری نے ہمارے تعلیمی نظام کو بھی نادیدہ شکنجوں میں جکڑ لیا ہے ہم دیگر اقوام کے مقابلے میں تعلیمی میدان میں بہت پیچھے ہیں۔ آج ملائیت کا کام صرف اورصرف لوگوں کو دین سے خارج کرنا اور قتل کے فتوے لگانا رہ گیاہے۔ ملائیت کےجن کے بے قابو ہونے کے پیچھے قصور ہمارا بھی ہے ۔ ہم نے اپنے بچے دینی تعلیم کے لیئے ان کے سپرد تو کیئے مگر ان پر نظر نہ رکھی کہ یہ دین کے نام پر ہمارے بچوں کو کیا سکھا رہے ہیں۔ خود قران و حدیث سے دوری اختیار کرکے ان پر آنکھ بند کرکے بھروسہ کرلیا کہ آیا یہ ہمارے بچوں کو اسلام سکھا رہیں ہیں یا پھر طالبانیت۔ آج ہم طالبانیت کو روتے تو ہیں مگر طالبان کی فکری تربیت کرنے والے علماء دین ہمارے سیاسی افق پر نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔

یاد رکھیے کہ یہ وہی ملائیت ہے جو فقہ ومسلک کے نام پر مسلمانوں میں تفرقہ ڈالے رکھتی ہے لیکن خود طاقت اور اقتدار کی آرزو میں MMA بنا لیتی ہے۔ ملائیت کو جوابدہ بنانے کا سب سے بہتر راستہ تنقید ہے ۔ آج معاشرے کا ہر فرد اور ادارہ عوام کے سامنے جوابدہ ہے تو ملائیت کیوں نہیں؟ آج کی ملائیت سیاستدانوں۔، جرنیلوں۔، آمروں اور جاگیرداروں کی طرح عوام کے استحصال کی برابر ذمہ دار ہے تو اگر فوجیوں اور سیاستدانوں کا احتساب ہو سکتا ہے تو مولوی کا کیوں نہیں؟