عاطف توقیر

مجھے یاد پڑتا ہے کہ جب میں اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں ہلاکت پر اپنا تحقیقی مقالہ تحریر کر رہا تھا اور اس سلسلے میں میں نے اس ہلاکت کے بعد مختلف پاکستانی اخبارات کی ایک ماہ کی رپورٹنگ کی خاطر مواد جمع کیا، تو اس دوران پاکستان میں مختلف لوگوں سے گفت گو بھی ہوئی۔ اس مقالے میں مجھے دیکھنا یہ تھا کہ دنیا کے اس سب سے مطلوب دہشت گرد کی ہلاکت پر پاکستانی اور بیرون دنیا میں رپورٹنگ کس انداز سے کی گئی۔

خیر اس دوران آن لائن اور آف لائن مختلف پاکستانیوں سے گفت گو ہوئی اور یہ بات میرے لیے قابل حیرت تھی کہ اس واقعے سے متعلق مختلف افراد بیان غیرمعمولی حد تک ایک دوسرے سے مختلف تھا۔ یعنی ہر شخص نے اپنے طور پر ایک ’حقیقت‘ قائم کر رکھی تھی۔

اس سلسلے میں خود فوجی بیانات، حکومتی اعتراف اور مشرف تک کے ارشادات ایک طرف مگر عام افراد میں سے کچھ اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی سے انکاری تھے، کچھ کے مطابق اسامہ بن لادن کو کہیں اور سے لاکر وہاں مار دیا گیا، کسی کے مطابق مارا ہی نہیں بلکہ چھپا لیا گیا، کسی کے مطابق لاش کیوں نہیں دکھائی، کسی کے مطابق وہ امریکی ایجنٹ تھا، کسی کے مطابق وہ اسلام کا ہیرو تھا، کوئی اس کی تصویریں چوم رہا تھا، کوئی اسے غدار اور قاتل پکار رہا تھا۔ یعنی ایک واقعے سے متعلق مختلف افراد کی باتیں ایک دوسرے ہی سے نہیں ملتی تھی۔ پاکستانی میڈیا کو چھانا تو معلوم ہوا کہ وہاں تمام تر توجہ اس بات پر ہے کہ امریکا نے پاکستانی سرزمین پر یہ آپریشن کیوں کیا۔ دوسری طرف دنیا بھر کے میڈیا میں پاکستانی سرزمین پر اس آپریشن پر اور پاکستانی حاکمیتِ اعلیٰ کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ یہ سوالات بھی تھےکہ دنیا کی بہترین فوج کا دعوے دار پاکستان کیسے ’اس عالمی دہشت گرد‘ کو پکڑ نہ سکا یا دنیا کی بہترین جاسوس ایجنسی کا دم بھرنے والا ملک کیسے بے خبر رہا یا اسامہ بن لادن پاکستان کی سب سے بڑی فوجی چھاؤنی سے پانچ سو میٹر دو کس طرح اتنے سال رہتا رہا۔

پچھلے تیس برس سے دنیا سے الگ کر کے اور جہالت کا ایک گہرا کنواں تیار کر کے پوری قوم کو اس میں پھینک دیا گیا ہے۔ اس وقت حالت یہ ہے کہ کسی معاملے پر دنیا بھر کی اقوام کچھ اور کہہ رہی ہیں اور ہمارا بیانیہ مکمل طور پر مختلف ہوتا ہے۔ آپ کسی بھی اہم معاملے پر ہمارے ملک میں پائے جانے والے عمومی نکتہ ہائے نگاہ اور پھر اس پر دیگر ممالک کے افراد کی رائے کا موازنہ کیجیے، آپ کو یہ فرق واضح دکھائی دے دے گا۔

مجھے یاد پڑتا ہے کہ سن 2006 میں میں اپنے انگریزی ناول کے لیے مواد جمع کر رہا تھا اور اس کے لیے مجھے مانچسٹر میں طبعیات کے ایک پروفیسر سے ملاقات کرنا پڑی۔ وہ کہنے لگا کہ اتنے دقیق سوالات کے ساتھ آئے ہو، کیا تو طبعیات کے محقق ہو۔ میں نے فرمایا حضور طبعیات پڑھی تھی، مگر بعد میں اعلیٰ تعلیم صحافت میں لی۔ کہنے لگے تو پھر طبیعات کے یہ سوالات کیوں؟ میں نے فرمایا کہ ناول لکھ رہا ہوں اور اس میں مرکزی کردار طبعیات دان ہے، اس کردار کو قوت دینے کے لیے مجھے یہ جدید ترین معلومات درکار ہیں۔ کہنے لگے کہ ناول میں مرکزی کردار سائنس دان کا کیوں ہے؟ میرے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا، سو میں خاموش ہو گیا۔ کہنے لگے کہ تم کس ملک سے ہو۔ میں نے کہا پاکستان سے۔ اور یہ سنتے ہی، جیسے اسے ایک جھٹکا سا لگا اور اس کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی، کہنے لگے، اوہ اچھا۔ عبدالسلام کی مٹی سے اسی طرح کے دماغ ہی پیدا ہوں گے نا۔ اس لمحے میرا سر فخر سے بلند ہو کر آسمان کو چھونے لگا۔

مزے کی بات ہے کہ عبدالسلام سے متعلق پاکستان میں پائی جانے والے جذبات اور سوچ بھی یکسر مختلف ہے۔ یعنی بات ہوتی ہے عبدالسلام صاحب کی سائنسی کاوشوں کی اور سننے کو ملتا ہے، ’’مگر وہ تو قادیانی تھے، کافر تھے۔‘‘

صاحب کافر تھے یا قادیانی تھے یا احمدی تھے یا کچھ بھی تھے، وہ ان کا عقیدہ تھا، جس سے میں یا کوئی بھی شخص اختلاف کر سکتا ہے، مگر ابھی تو بات سائنس کی ہو رہی تھی۔ ابھی تو ہمیں کوئی اور معاملہ درپیش تھا۔ مزے کی بات ہے کہ عبدالسلام کے حوالے سے بھی کئی طرح کے مختلف بلکہ متضاد بیانات آپ کو سننے کو ملیں گے۔

ملالہ کی بابت بھی معاملہ بالکل یہی ہے۔ دنیا بھر میں ملالہ جاتی ہیں اور ان کی وجہ سے پاکستان کی تکریم اور تعظیم ہوتی ہے، دنیا کے کئی ممالک کے رہنما ان سے ملاقات کرتے نظر آتے ہیں، مگر ہمارے ہاں ملالہ کے تیئں خیالات یکسر مختلف ہیں۔ ہمارے ہاں پائے جانے والے مختلف بیانات میں آپ کو ’ملالہ غیرملکی ایجنٹ ہے‘، ’ملالہ اسلام کے خلاف ہے‘، ملالہ کو نوبل انعام کیوں دیا‘، ملالہ کے ساتھ والی لڑکیوں کا ویسا علاج کیوں نہ ہوا، ملالہ کو دنیا کیوں پیار کر رہی ہے؟ اور اس طرز کے سوالات آپ کو ہر جگہ دکھائی دیں گے۔

مزے کی بات یہ ہے کہ کوئی بھی شخص جو انسانیت کی بات کرے، ملک کے کسی مثبت تشخص کا باعث بنے، عالمی سطح پر یہ باور کروائے کہ اس دیس کے بیس کروڑ عوام شدت پسند نہیں عام سے لوگ ہیں یا ہمارے معاشرے میں یہ مذہبی شدت پسندی مغربی ممالک نے اپنے فائدے کے لیے قائم کی تھی کیوں کہ اسی کی دہائی سے قبل ہمارا ملک ایسا نہیں تھا یا کوئی بھی ایسا معاملہ جس سے اس ملک کی دنیا بھر میں تباہ حال ساکھ میں کسی بہتری کا کوئی سامان ہو، اس کے خلاف ایک پورا طبقہ یہ کہہ کر کھڑا ہو جائے گا کہ یہ ملک کا تشخص خراب کرنے کی سازش ہے۔ یعنی ہمارا تشخص شدت پسندی، انتہا پسندی، مذہبی جنونیت، دہشت گردی اور اس جیسے واقعات سے عالمی سطح پر بلند ہو رہا ہے اور ہر وہ شخص جو اس ’’قومی تشخص‘‘ پر بات کرے گا، سوال اٹھائے گا، وہ اس ملک کا امیج خراب کرے گا۔

شرمین عبید چنائے کی مثال بھی آپ کے سامنے ہے، وہ آسکر انعام حاصل کرنے والی شاید پہلی پاکستانی خاتون ہیں اور عالمی سطح پر ان کی بے حد تکریم ہے اور ان کی وجہ سے پاکستان کی بھی، مگر ملکی سطح پر ہر عمومی ذہنیت والا کھڑا ہو کر چنائے پر بات کرنے کو تیار ہے اور بنیادی طور پر کہنا یہ ہے کہ اگر یہاں خواتین کے چہرے پر تیزاب پھینکا جاتا ہے یا خواتین کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے یا ان کے حقوق غصب کیے جاتے ہیں اور ان واقعات کی عالمی سطح پر ہونے والی کووریج سے جو ہم نے پاکستان کا ایک ’وحشی‘ یا ’درندہ نما‘ چہرہ بنایا ہے، اسی درندہ نما تشخص کو ذرا نہ چھیڑا جائے۔ کیوں کہ اس پر بات کرنے اور یہ بتانے کہ ہم بہ طور پاکستانی قوم اس کے ادراک رکھتے ہیں اور اس غلط سمجھتے ہیں، سے ہماری عظیم ’وحشی‘ کی بنائی گئی شناخت، جس کا ہماری تہذیب، تمدن، مذہب اور ثقافت سے کوئی تعلق بھی نہیں، خراب ہو جائے گی۔

ملالہ پاکستان میں ہیں اور امید ہے کہ وہ باخیریت واپس برطانیہ جائیں گی اور دنیا میں ہمارے اجتماعی طور پر مکروہ اور درندہ صفت سمجھے جانے والے چہرے پر بات کریں گی کہ ہم پاکستانی اسے شناخت کو ختم کرنے کے لیے لڑ رہی ہیں، کیوں کہ ہمارا معاشرہ پرامن تھا اور مغربی دنیا نے ہمارے فوجی آمروں کے ذریعے ہمارے اصل چہرے کو چیچک زدہ کیا ہے اور ہم اپنی اصل شناخت کے حصول تک لڑائی کرتے رہیں گے۔ عاصمہ جہانگیر اور عبدالستار ایدھی تک کی بابت ہماری صفوں میں جہالت نے تضاد اور زہر بھر دیا ہے۔ ملالہ جیتی رہو اور پاکستان کا نام چمکاتی رہو۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here