علی اقبال سالک

یہ ایک روایتی صبح تھی میں روایتی انداز میں بیٹ پر کڑواٹے بدلتے ہوئے اخبار کے مطالعہ میں مصروف تھا اس اثنا ایک مسیج کے ذریعے علم ہوا ۔رات کو چلاس کے ضلع دیامر میں 13 گرلز سکولوں کو نذرِ آتش کیا گیا اور کچھ سکولوں کو بارود سے اڑا ا دیا گیا۔ یہ خبر پڑھتے ہی میرے سامنے دیامر سے تعلق رکھنے والے اس نوجوان لڑکے کا چہرہ گردش کرنے لگا جو ایک دن پہلے کسی ہوٹل میں ملاقات کے دوران بڑی فخر اور خوشی کے ساتھ مجھے بتارہے تھے ۔سالک بھائی ابھی الحمداللہ اب ہمارے علاقے کے لوگوں میں تعلیم کا شعور عام ہوا ہے۔ اب تو وہاں کی لڑکیاں بھی ایک بہت بڑی تعداد میں سکول جا رہی ہیں جب کہ ایک دور میں وہاں پر لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنا عار اور گناہ سمجھا جاتا تھا۔

وہ فاتحانہ انداز میں مسکراتے ہوئے کہہ رہے تھے۔جناب آپ یہ دن بہت جلد دیکھو گے، وہاں کی خواتین مردوں سے ہر میدان میں آگے نکل جائیں گی اور ہم جیسے لوگوں کو گھر کا کام کاج کرنے پڑیں گے۔ مجھے ان کی باتوں کو سن کر دلی خوشی ہو رہی تھی اور سوچ رہا تھا شکر ہے۔اب شعور کے چشمے ہر جگے سے پھوٹ رہے ہیں جو کہ آنے والے دنوں میں ہمارے لئے ایک اچھے وقت اور حالت کا ضمانت بن سکتے ہیں۔

مگر ۲آگست کی رات کچھ شرپسندوں نے ان جیسے ہزاروں نوجوانوں سمیت دیامر کے ہزاروں بیٹیوں کے خواب کو چکنا چور کرنے کی کوشش کی جو تعلیم حاصل کرنے بعد فخر گلگت بلتستان اور فخر دیامر کے نام سے خود کو معترادف کرنا چاہتی تھی مگر اس بزدلانہ حملے کے بعد وہاں کے عوام کا حوصلہ مزید بلند ہوا ہے جس کو ہم سب نے وہاں کے احتجاجوں کے ذریعے دیکھا لیکن اس حقیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا ان تعلیمی اداروں پر حملے کرنے والے وہی ہے جنہوں نے ملالہ یوسف زائی کو تعلیم کی راہ سے ہٹانےکے لئے گولیوں کا نشانہ بنایا تھا۔

آج وہی مائنڈسیٹ وہاں پر کام کر رہا ہے۔ ان کا ہدف جاہل سماج ہے۔ یہ بندوق کے ذریعے شعور کے راستوں کو بند کرناچاہتے ہے۔یہ دہشت کے ذریعے دیامر کی بیٹوں کو خوف زدہ کرکے تعلیم کے زیور کو ان سے چھنا چاہتے ہیں۔یہ عرب کے جاہل اس دور کے پیروکار جس میں لڑکیوں کو زندہ دفن کیا جاتا تھا۔

میں بحثیت صحافت کے طالب علم یہ سمجھتا ہوں لکھاری کو لکھنے کے دوران اپبے جذبات پر کنٹرول رکھنا چاہیے۔ لیکن میں آج صحافت کے قوانین کی دھجیاں اڑتے ہوئے تمہیں بتانا چاہتا ہوں،تم بندوق کے ذریعے اپنی جنگ جاری رکھو ہم قلم کے ذریعے اپنی جنگ کو جاری رکھتے ہیں۔

انشااللہ تعالی یہ جنگ کی بازی تم ہی ہارو گے کیونکہ علم اور شعور جاہلت کو شکست دیتے ہیں۔ یہ میرانظریہ اور ایمان ہے۔ دوسری جانب حکومت کے رویہ اور نااہلی پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے کیونکہ دیامر میں دہشتگردی کایہ پہلا واقعہ نہیں پچھلے دس سالوں سے یہ واقعات وہاں پر بار بار رونما ہو رہے ہیں مگر انٹلی جنس ادارے کی ان مٹھی بھر دہشت گردوں کو پکڑنے میں بار بار ناکامی پر کئی سولات نے جنم لیا ہے۔

حیران کن بات یہ بھی ہے شرپسند عناصر ایک سکول کو نہیں دو کو نہیں 12 .12 سکولوں کو تباہ کرنے کے بعد وہاں سے فرار ہوتے ہے مگر پولیس اور سکیورٹی ادارے لمبی تان کر سو تےرہے۔

حکومتی ترجمان فیض اللہ کہتے یہ کارروائی ایک منظم پلین کے ساتھ کیا گیا تو میرا سوال ہے جناب اپ کی حکومت ڈنٹا کولی کھیل رہی ہے کیا اپ کے پولیس سپشل برانچ کیا کر رہی ہے؟اس حوالے سے حکومت کے نمائیدوں کے بیانات سے لگاتا وہ آپوزیشن کا کردار ادا کر رہیں ہے اور گلت بلتتسان میں حکومت مصطفی کمال کی پارٹی کی حکومت ہے اور ملالہ کو تعلیم سے روکنے والے عناصر دیامر میں سر گرم ہیں۔