مہناز اختر

کراچی میں ہم جسے پٹھانوں والی ٹوپی کہتے ہیں اسے آجکل منظور پشتین کیوجہ سے شہرت مل گئی ہے۔ عید کے سیزن میں یہ خوبصورت ٹوپیاں ہر اسٹال پر نظر آتی ہیں۔ یہاں غیر پختون مائیں بھی عید کے موقع پر بڑے شوق سے یہ ٹوپیاں اپنے بچوں کے لیئے خریدتی تھیں مگر اس عید پر ہوسکتا ہے کہ لوگ اپنے بچوں کے لیئے یہ ٹوپیاں نا خریدیں کیونکہ ترجمان افواج پاکستان نے اس ٹوپی کا تعلق غداری اور سرحد پار سازشوں سے جوڑ دیا ہے۔ انہیں یہ بھی تشویش ہے کہ اچانک اتنی بڑی تعداد میں یہ ٹوپیاں پاکستان میں کیسے دستیاب ہورہی ہیں ۔ میجر صاحب کی سادگی کے کیا کہنے کہ انہیں یہ تک معلوم نہیں کہ یہ ٹوپیاں بازاروں میں عام ملتی ہیں۔ ویسے اتنی بڑی تعداد میں ان ٹوپیوں کی پاکستا ن میں دستیابی کے پیچھے چینی سازش بھی ہوسکتی ہے کیونکہ پاکستانی منڈیوں میں جن اشیاء کی طلب ہوتی ہے چین پہلے ہی انہیں تیار کرکے پاکستان بھیج دیتا ہے۔

خیر مزاح برطرف، ٹی وی پر افواج پاکستان کے ترجمان کی پریس کانفرنس نشر ہونے کے بعد میں نے چند افراد سے منظور پشتین کے حوالے سے سوال کیا (یہ وہ افراد تھے جو معلومات کے حصول کے لیئے صرف پاکستانی مین اسٹریم میڈیا پر انحصار کرتے ہیں ) سوال: منظور پشتین کون ہے ؟ جواب: ” یہ افغانی ہے اور افغانستان اور انڈیا سے ملا ہوا ہے ۔ یہ لوگ نہیں چاہتے کہ قبائلی علاقوں میں امن آئے اس لیئے فوج کو وہاں کاروائی سے روکنا چاہتے ہیں”۔

پشتون تحفظ موومنٹ کی مقبولیت پاکستان میں صرف پختون عوام، سوشل میڈیا صارفین اور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس کے درمیان ہے ۔ عوام کی وہ اکثریت جن کی رسائی سوشل میڈیا یا انٹرنیشنل میڈیا تک نہیں ہے وہ منظور پشتین اور PTM کے بارے میں وہی جانتے ہیں جو پاکستانی میڈیا کے ذریعے انہیں بتایا جاتا ہے۔ یعنی کے یہ تحریک “پاکستان کے خلاف ایک سازش ہے” ۔ میرا تعلق کیونکہ کراچی سے ہے تو میں کراچی والوں کے PTM کے حوالے سے عمومی تاثر کی بات کررہی ہوں۔ کراچی میں لوگوں کی اس رائے کے پیچھے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہوٹل سے لےکر حجام کی دکان تک ہر جگہ اسی مین اسٹریم میڈیا کی رسائی ہے جسکے ذریعے میجر جنرل آصف غفور، اوریا مقبول جان اور ان جیسے دیگر حضرات عوام کے سامنے منظور پشتین کی “ملک دشمنی ” کا ثبوت پیش کرتے نظر آتے ہیں۔

لگتا یہ ہے کہ پاکستان میں افواج سمیت دیگر ریاستی اداروں نے یہ ٹھان لی ہے کہ جب تک کوئی تحریک مذہبی نا ہو، مسلح و متشدد نا ہو اسے سنجیدگی سے نہیں لیا جائے گا۔ اب یہ طے ہوچکا ہے کہ عوامی حقوق کی بات کرنے والوں کو غدار قرار دیا جائے گا۔
گزشتہ دنوں ہونے والی ترجمان افواج پاکستان کی پریس کانفرنس سے میں نے تین چار نکات اخذ کیئے جیسے کہ

1- منظور پشتین کے مطالبات جائز ہیں اور انکا ازالہ کردیا گیا ہے۔

2 – ملک دشمن عناصر انہیں استعمال کررہے ہیں اور یہ تحریک فوج کو بدنام کررہی ہے۔

3- انکی فنڈنگ باہر سے ہورہی ہے۔

4- غیر ملکی میڈیا کا انہیں غیر ضروری کوریج دینا باعث تشویش ہے۔

5- ہمارے پاس ان کے خلاف ثبوت ہیں۔

اب اسی ترتیب سےان بیانیوں کے جوابات دینے کی کوشش کرتے ہیں۔

1 – اگر انکے مطالبات جائز ہیں اور انہوں نے اپنے مطالبات منوانے کے لیئے ابتک کوئی غیرآئینی یا متشدد راستہ اختیار نہیں کیا ہے تو پھر یہ تحریک ملک کے خلاف سازش کیسے ہوسکتی ہے۔

2- آپ ان پر پابندیاں لگا کر،گرفتاریاں کرکے خود ہی انہیں حاشیہ پر دھکیل رہے ہیں ۔ ایسے میں ملک دشمن عناصر کا ان سے فائدہ اٹھانا بعید نہیں ۔ آپ انہیں آزادی سے عوام کے درمیان آنے دیں۔ کیا آپ اس بات سے انکاری ہیں کے پاک افواج ہی نے مجاہدین کو جنم دیا جنہوں نے طالبان کی شکل اختیار کی اور بعد میں طالبان نے ہی قبائلی علاقہ جات سمیت پورے پاکستان پر اپنا قہر برسایا اور جب آپ نے طالبان کے خلاف آپریشن کیا تو اسکے نتائج بھی قبائلی عوام نے ہی بھگتے اور آج بھی آپ نے طالبان کو گڈ طالبان اور بیڈ طالبان میں تقسیم کرکے اس متشدد سوچ کو زندہ رکھا ہے۔ کیا یہ کوئی ڈھکی چھپی بات ہے؟

3- اگر یہ فنڈنگ انکے چاہنے والوں کی جانب سے چندہ کی شکل میں ہورہی ہے تو اسمیں کیا قباحت ہے ہاں اگر آپکے پاس کسی غیر ملکی ایجنسی سے پیسے لینے کا ثبوت ہے تو اسے عوام کے سامنے پیش کریں اور انہیں گرفتار کریں۔

4 – اگر آپ نے ملکی میڈیا پر انکی کوریج پر پابندی نا لگائی ہوتی تو شاید یہ نوبت نہیں آتی ۔ آپ انہیں ملکی میڈیا پر آنے دیں کیونکہ ہمارے پاس ایسے صحافیوں کی فوج ظفر موج موجود ہے جو انکا میڈیا ٹرائل کر کے سچ باہر لے آئے گی۔ کم از کم انہیں یہ موقع تو دیں کہ وہ اپنا مؤقف کھل کرعوام کے سامنے رکھ سکیں۔

5- معاف کیجیے گا اگر آپکے پاس انکے خلاف ثبوت ہوتے تو منظور پشتین اور اسکے ساتھی اب تک جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہوتے اور آپ یوں پریس کانفرنس کرکے اندھیرے میں تیر نا چلا رہے ہوتے۔ اگر آپ کے پاس ثبوت کے نام پر چند ہزار ٹوئیٹر اکاؤنٹس اور منظور کی ٹوپی جیسی باتیں ہیں تو پھر پاکستانی قوم نے بھی ہالی وڈ کی سسپنس سے بھرپورایکشن تھرلر فلمیں دیکھ رکھی ہیں یعنی یہ قوم پاک فوج کی جانب سے پیش کیئے گئے کسی بھی دقیانوسی اور بوگس ثبوت کو قبول نہیں کرے گی۔ درحقیقت آپ انکے خلاف ٹھوس ثبوت تلاش کرنے میں ناکام رہے ہیں اس لیئے عوام کو جذباتی کر کے اس تحریک کو بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

میجر جنرل آصف غفور کی حالیہ پریس کانفرس میں کہی گئی باتیں سن کر ایسا ہرگز محوس نہیں ہوا کہ یہ ایک ایسی فوج کی ترجمانی کررہے ہیں جسکے پاس جنگوں اور پراکسیز کا وسیع تجربہ اور ISI جیسا ادارہ ہے۔ البتہ ہمیں یہ تاثر ضرورملا کہ پاک فوج پختون قوم میں اٹھنے والی بیداری کی لہر سے پریشان ہے۔

آپکی پریشانی کی ایک وجہ قبائلی عوام میں سیاسی حقوق کے مطالبہ کا شعور بیدار ہونا ہے ۔ فوج نے ہمیشہ قبائلیوں کو غیر روایتی فوج کی طرح دونوں سرحدوں پر استعمال کیا ہے۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ پختون عوام کو قابو میں رکھنے کے لیئےمذہب کا استعمال بھی ریاست کی سرپرستی میں کیا جاتا رہا ہے مگر اب لگتا ہے کہ پختون عوام بیدار ہورہی ہے ۔ منظور پشتین کی ٹوپی افغانستان سے بن کر آئی ہو یا ہندوستان سے اور منظور محسود سے پشتین کیسے بنا یہ سارے سوالات اہم نہیں ہیں بلکہ اہم بات پاکستان کی عوام کے حقوق کا تحفظ ہے جسمیں ریاست ناکام رہی ہے۔

یہ بات قابل تشویش ہے کہ عوام میں پاک فوج کے حوالے سے عدم اعتماد بڑھتا جارہا ہے۔ کراچی کے شہریوں کا ایک طبقہ جو منظور پشتین کی اس تحریک سے آگہی رکھتا ہے اسکا خیال ہے کہ “اب آیا اونٹ پہاڑ کے نیچے” کیونکہ راؤ انوار کے ہاتھوں ماورائے عدالت قتل کیئے جانے والے مہاجروں کا خون تو رائیگاں گیا لیکن منظور پشتین نے نا صرف راؤ انوار بلکہ افواج پاکستان کو بھی عوام کی عدالت میں لا کھڑا کیا ہے۔ کراچی کے شہری بھی اپنے پیاروں کے ماورائے عدالت قتل ، ریاستی اداروں کے ہاتھوں ماورائے قانون گمشدگیوں، MQM سمیت سندھ کی دیگرسیاسی جماعتوں میں موجود جرائم پیشہ عناصر کی سیاسی اور ریاستی سر پرستی اور مہاجروں کے سیاسی استحصال کی دہائیاں دے رہے ہیں۔

بجا کہے جسے عالم اسے بجا سمجھو

زبانِ خلق کو نقارۂ خدا سمجھو

میجر جنرل آصف غفور نے اسی پریس کانفرنس میں فرمایا تھا کہ “وردی پہنے سے کوئی فرشتہ نہیں بن جاتا ” تو میجر جنرل صاحب پاکستان کی عوام بھی آپ کو یہی باور کرانا چاہتی ہے کہ پاک فوج مقدس گائے نہیں ہے کہ جس پر تنقید نا کی جاسکے۔ خدارا تنقید برادشت کرنےکا حوصلہ پیدا کریں اور دستور پاکستان اور پاکستانی عوام کو عزت دیں۔