حمزہ سلیم

کچھ روز پہلے نیشنل اکاونٹیبیلیٹی بیورو یعنی قومی احتساب بیورو یعنی نیب نے ایک پریس ریلیز جاری کی تھی جس میں یہ کہا گیا تھا کہ نیب اس بات کی تحقیقات کررہا ہے کہ سابق وزیر اعظم جناب نواز شریف نے اپنے دور حکومت میں کس طریقے سے پانچ ارب ڈالرز بھارت بھجوائے ہیں۔اس پریس ریلیز کے جاری ہوتے ہی میڈیا نیوز چینلزپر کہرام برپا ہوگیا ،نوازشریف کے خلاف درجنوں ٹاک شوز کا انتظام کیا گیا ،کسی نے کہا ثابت ہوگیا نوازشریف مودی کا یار اور غدار پاکستان ہے ،کسی نے کہا نوازشریف نے اتنی بڑی رقم کی منی لانڈرنگ کی ،اینکرز نے ایسی خوفناک جگتیں بیان کی کہ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ بندہ ہنسے یا پھر روئے ۔کچھ اقتصادی ماہرین نے تو جہالت کو اعلی درجے تک پہنچادیا کہا کہ ثابت ہو گیا نواز شریف منی لانڈرنگ کے شہنشاہ ہیں ۔گزشتہ روز نیب نے ایک بار پھر اسی حوالے سے جہالت کا شانداز مظاہرہ کیا اور ایک اور پریس ریلیز جاری کردی ،اس پریس ریلیز میں کہا گیا کہ ملک کے معروف اخبار اوصاف میں یکم جنوری 2018 کو دنیا کے معروف کالم نویس محمدتوفیق الحق صدیقی نے ایک کالم لکھا تھا ،اس کالم کا عنوان تھا ،منی لانڈرنگ کی رقم کب وآپس لی جائے گی؟

اس کالم میں ورلڈ بنک کی ایک رپورٹ مائیگریشن اینڈ ریمیٹینسز فیکٹ بک کا حوالہ دیا گیا ہے ،یہ رپورٹ ورلڈ بنک کی ویب سائیٹ پر 2016 میں جاری کی گئی تھی ،اس رپورٹ میں پاکستان سے پانچ ارب ڈالرز کی خطیر رقم بھارت منتقل کئے جانے کا تزکرہ ہے ۔ساتھ ہی گزشتہ روز کی نیب کی پریس ریلیز میں ارشاد کیا گیا کہ یہ قانون میں ہے کہ نیب منی لانڈرنگ کی تحقیقات کر سکتا ہے ۔۔۔ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ نیب اس تاثر کو رد کرتا ہے کہ اس کا مقصد کسی کی دل آزاری یا انتقامی کا روائی مقصود ہے ۔یہ بھی کہا گیا کہ نیب کسی بھی انتقامی کاروائی پر ایمان یا یقین ہی نہیں رکھتا ،اس کا کام صرف اور صرف ملک میں بدعنوانی کا خاتمہ ہے ،میرے پیارے نیب کرپشن ختم کریں ،لیکن جہالت کا مظاہرہ کرکے اپنا مزاق تو نہ بنواو۔وزیر اعظم جناب خاقان عباسی نے درست فرمایا کہ اس ملک کا یعنی پاکستان کا سالانہ بجٹ 35 ارب ڈالرز ہے ،کیسے پاکستان سے پانچ ارب ڈالرز بھارت ٹرنسفر کئے جاسکتے ہیں،نیب نے پریس ریلیز میں ایک بہت بڑی چول یہ ماری اور کہا کہ یہ پانچ ارب ڈالرز کی رقم بھارتی حکومت کے سرکاری خزانے میں ٹرانسفر کی گئی ۔دوسرا ساتھ یہ بھی کہہ دیا گیا کہ ورلڈ بنک کی یہ رپورٹ اب بھی آن لائن دستیاب ہے جو کہ مائیگریشن اینڈ ریمیٹینسز فیکٹ بک 2016 کے نام سے پڑی ہے۔اور یہ ہروقت آن لائن دستیاب ہے ۔نیب نے بغیر مطالعے اور تحقیق کے پریس ریلیز جاری کردی ،اب آتے ہیں کہ حقیقت کیا ہے اور کیا دیکھایا ،سنوایا اور کہا جارہا ہے ۔یہ رپورٹ 2016 میں ریلیز ہوئی تھی ،اس وقت بھی تہلکہ برپا ہوا تھا سب نے کہا ورلڈ بنک نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان سے پانچ ارب ڈالرز بھارت بھجوائے گئے ہیں۔

اس وقت پی ٹی آئی کے ارسطو اقتصادی ماہر اسد عمر صاحب نے بھی یہ پروپگنڈہ کیا تھا ،ٹی وی اینکرز نے بھی جہالت پھیلائی تھی اور نواز شریف مخالف قوتوں نے بھی نواز حکومت کو خوب گالیوں سے نوازا تھا اور کہا تھا مودی کے یار نے مودی سے وفا نبھادی اور بھارت کے زرمبادلہ میں اضافہ کردیا ۔اسی زمانے میں سٹیٹ بنک نے وضاحت بھی دیدی تھی کہ ایسا کچھ نہیں ہوا ،ورلڈ بنک کی رپورٹ فرضی تھی ،کہانی کچھ یوں ہے کہ دو ہزار سولہ میں ورلڈ بنک نے اپنی ویب سائیٹ پر ایک فرضی ریسرچ اپ لوڈ کی تھی ،اس فرضی ریسرچ تکینیک میں ریمیٹینسز کا فرضی اندازہ لگانے کی کوشش کی گئی تھی،اس فرضی رپورٹ میں کہا گیا کہ اگر ایک ملک کے مہاجریں دوسرے ملک منتقل ہوجائیں تو وہ کتنا ریمیٹینسز اپنے ملک بھیج سکتے ہیں ،اس فرضی رپورٹ میں درجنوں ملکوں کو شامل کیا گیا تھا ،کہا گیا کہ پاکستان میں بھارت سے 1947 کے بعد اتنے مہاجرین آئے ،،تو وہ اتنی رقم بھارت بھیج رہے ہوں گے فرضی رقم پانچ ارب ڈالرز بیان کی گئی،کہا گیا کہ اندازے کے مطابق اتنے پیسے پاکستان سے بھارت جاتے ہوں گے اور یہ سب کچھ فرضی اور افسانوی تھا ،جس میں کہیں کوئی حقیقت نہ تھی ۔

یہ ماڈل فرضی تھا ،حالانکہ ہندوستان سے جو لوگ پاکستان میں آئے ،وہ یہاں مستقل شہری بن گئے ،ان میں سے کوئی ایک بھی معاشی مہاجر نہیں تھا ۔لیکن اس فرضی رپورٹ پر نوازشریف کو گندہ کیا گیا ،گالیاں دی گئی ،مودی کا یار اور پاکستان کا غدار کہا گیا ۔سوالات اٹھائے گئے کہ پانچ ارب ڈالرز ہر سال پاکستان سے بھارت نواز شریف کیوں بھیج رہے ہیں ؟پاکستان کے ہر جاہل ٹی وی اینکرز نے اپنی انی تھیوریاں پیش کی ۔حالانکہ ورلڈ بنک کی رپورٹ فرضی اور افسانوی تھی اور پانچ ارب ڈالرز بھارت نہیں جارہے تھے ۔

پاکستان سے بھارت معاشی تجارت کے حوالے سے ہر سال 116 ہزار ڈالرز جاتے ہیں جو چند کروڑ بنتے ہیں۔لیکن ٹی وی اینکرز نے نوازشریف کے بارے میں کہا وہ پاکستان کے خلاف سازش کررہے ہیں؟اب تو ورلڈ بنک نے بھی ہاتھ جوڑ کر کہا ہے کہ وہ فرضی رپورٹ تھی ،پاکستان سے پانچ ارب ڈالرز بھارت نہیں منتقل ہوئے، رپورٹ میں کسی نوازشریف یا کسی اور فرد کا ذکر نہیں تھا ،ورلڈ بنک شرمندہ ہے ،کہہ رہا ہے بھیا وہ سب کچھ فرضی اور افسانوی تھا ،پھر بھی نواز شریف مکروہ پروپگنڈے کے زد میں ہیں۔اب بتائیں نیب کی کریڈیبیلیٹی کیا رہی؟اب بتائیں کیا نوازشریف نے اخلاقی حوالے سے اپنے مخالف قوتوں سے برتری حاصل نہیں کر لی ہے ؟یہ کیا ملک ہے جہاں ایک کالم نویس کی افسانوی کہانی پر نیب پریس ریلیز جاری کردیتا ہے اور اپنا مزاق خود اڑاتا ہے۔نیب کا چئیر مین اب کیسے نواز شریف کے خلاف مقدمات چلا سکتا ہے ؟اس کا تعصب تو واضح ہو گیا ۔پریس ریلیز ہمیشہ اس وقت جاری کی جاتی ہے ،جب ابتدائی تحقیقات مکمل ہو جائیں اور اس کے بعد انکوائری کے عمل کی ابتدا ہو جائے ؟نیب جس طرح کی حرکتیں فرما رہا ہے ،اس سے تو یہی لگتا ہے کہ نواز شریف کے خلاف سازش کی جارہی ہے ؟قصہ مختصر یہ کہ نواز شریف کو بہت بڑی اخلاقی فتح ملی ہے ۔