عاطف توقیر

ہم نے کہا، بھائی جی آپ کو یوم آزادی مبارک ہو، مگر پوچھنا یہ تھا کہ ہماری رائے دینے یا کسی موضوع پر اظہار خیال کرنے کی آزادی کتنی ہے؟

کہنے لگے، ’’دیکھیے آپ کو کچھ بھی بولتے ہوئے خیال رکھنا ہے کہ کہیں کسی ملکی پالیسی کی مخالفت نہ کر دیں۔ تنقید تو آپ کر سکتے ہیں مگر تنقید ’مثبت‘ ہونی چاہیے، یہ ہم طے کریں گے کہ آپ کی تنقید مثبت ہے یا نہیں۔ اور ہاں ہمیں تعمیری ناقدین بہت پسند ہیں، اب آپ پوچھیں گے کہ تعمیری ناقد کون ہوتا ہے؟ بڑی آسان سی بات ہے، وہ ناقد تعمیری ہوتا ہے، جو سیاست دانوں کو گندی گالیاں دے، واپڈا کی حرام خوری پر جملے کسے، صحافیوں کو لفافے والا کہے، حکومت کو کرپٹ اور چور کہے، محکمہ ڈاک کی اینٹ سے اینٹ بجا دے، سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں پر بھارتی ایجنٹ ہونے کا الزام دے، دستوری حقوق مانگنے والوں کو غدار کہے اور لوگوں کو تعلیم اور سائنس کا درس دینے والوں کو کافر قرار دے۔

ویسے تو تعمیری تنقید یہ بھی ہے کہ آپ ملک میں بچ جانے والے اقلیتی افراد پر پاکستان دشمنی کا الزام عائد کریں اور ان کے خلاف تشدد کو ہوا دیں۔ اس سے ہمارے ملک کی سلامتی کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوتا۔ اور ہاں، قومی سلامتی کے حوالے سے صرف اس پالیسی پر تنقید کیجیے گا، جو کم از کم اس عسکری دور کی نہ ہو۔ اس لیے زبان کا استعمال کرتے ہوئے ان حدود کا خیال رکھا کیجیے، دوسری صورت میں سمجھ لیجیے کہ نہ آپ رہیں گے، نہ زبان اور نہ ہی آپ کی آزادی۔‘‘

کہا، اچھا یہ بتائیے کہ ہماری اقتصادیات کتنی آزاد ہے؟

’’بولے دیکھیے یوں تو ہم پر کوئی ستر ارب ڈالر سے زیادہ کا قرض ہے، جو اس قوم نے ادا کرنا ہے۔ گو کہ وہ پیسے ہم نے اس قوم پر، اس کی تعلیم، صحت، جامعات، تحقیق، زندگی، معیار زندگی، خوراک، حفظان صحت وغیرہ پر تو نہیں لگائے گئے، مگر چوں کہ ملک سلامت ہو، تو ہی یہ ساری چیزیں ہو سکتی ہیں، اس لیے ہم نے وہ پیسے جہاز، میزائل، ٹینک اور عسکری آپریشنز میں لگا دیے ہیں، ظاہر ہے، واپس تو قوم ہی نے کرنا ہیں، ہم نے تھوڑی دینے ہیں۔ ویسے تو ہماری معیشت آزاد ہے، مگر امریکا جس وقت چاہے ہم پر مالیاتی ایٹم بم پھینک سکتا ہے، ہمارا روپیہ جو اپنی قدر پہلے ہی کھوتا جا رہا ہے، ردی بن سکتا ہے، ہم صومالیہ جیسا ملک بنائے جا سکتے ہیں، مگر فکر نہ کریں، اگر امریکا مالیاتی طور پر ہماری گردن دبوچے گا، تو ہم اپنی گردن چین کے حوالے کر دیں گے۔ ہم اپنے کچھ مفادات سعودیوں کے حوالے کر کے انہیں اپنے بازو بھی ویسے پیش کر سکتے ہیں۔ معیشت کو ہم نے ستر سال میں اتنا آزاد تو کروا لیا ہے، کہ جس کو چاہیں اپنی گردن پیش کر دیں، دوسرے سے ہماری جان چھوٹ جائے گی۔‘‘

کہا، ہمارے اسکولوں کا نصاب کتنا آزاد ہے؟

بولے، ’’دیکھیے علم حاصل کر کے لوگ خواہ مہ خواہ کے سوالات میں پڑ جاتے ہیں۔ آپ نے دیکھا نہیں پی ایچ ڈی لوگوں کے تو بال تک نہیں سنورے ہوتے۔ کپڑے بھی گندے گندے ہی پہن لیتے ہیں۔ پڑھ لکھ کر لوگوں کا مزاج ہی نہیں ملتا۔ خواہ مہ خواہ بر بات میں بحث شروع کر دیتے ہیں۔ اس لیے ہم نے پوری محنت سے فکشن پر مبنی تعلیمی نصاب مرتب کیا ہے، جس میں ہم اپنے بچوں کو ماضی کے قصے سناتے ہیں۔ دیومالائی کہانیوں کی طرح یہ بتاتے ہیں کہ وہ سہانا دور ہوا کرتا تھا، جب جابر بن حیان، الخوازمی، بوعلی سینا، الزہروی، ابن الہیثم جیسے مسلمان ہونے کے باوجود سائنسدانی کیا کرتے تھے۔ انہوں نے چوں کے اپنے دور میں قلم توڑ کام کیا تھا، اس لیے ہم نے اپنا قلم توڑ دیا ہے۔ اب ہم ایسی فضولیات پر توجہ نہیں دیتے۔ ہمیں بچوں کو بتانا ہے کہ جنگ کیسے ہوتی ہے، ہم نے کتنی جنگوں میں دشمنوں کے دانت کھٹے کیے ہیں، کس طرح دس دس لوگ دس دس ہزار لوگوں کو شکست دے دیتے تھے، جس طرح چاقو سے تلواروں کا کاٹا جاتا تھا۔ ویسے اب ہمیں چاقو کی بھی ضرورت نہیں۔ جذبہ کافی ہوتا ہے۔ جس دن دشمن نے ہم پر حملہ کیا، ہم مشین گن بردار لوگوں پر جذبے کی گولیاں فائر کریں گے اور ٹینک آئیں گے، تو جذبے کے ساتھ ٹینکوں کے نیچے لیٹ جائیں گے۔ بھائی جی، جنگ جذبے سے جیتی جاتی ہے۔ اور ویسے بھی ہمارے پاس ایٹم بم جو ہے۔ کوئی ایک قدم بھی ہماری طرف بڑھا، تو ہم ایٹم بم مار دیں گے۔ ہم نے تو اب دس کلومیٹر والا ایٹم بم بھی تیار کر لیا ہے، جو توپ میں ڈال کر چلا سکتے ہیں۔ ارے ہاں نصاب کی بات ہو رہی تھی، خیر یہ بات نصاب کی ہی ہے۔ ویسے آپ ہی بتائیں، کیا تاریخ آزاد ہوتی ہے؟ نہیں نا؟ تو نصاب کیسے آزاد ہو سکتا ہے؟‘‘

کہا، ’’ہماری خارجہ پالیسی کتنی آزاد ہے؟

بولے، ’’خارجہ پالیسی دوسرے ملکوں کے ساتھ تعلقات کو ہی کہتے ہیں نا؟ وہ تو بہت زبردست ہیں۔ ہمارے برادر اسلامی ممالک ہماری فوج پر ناز کرتے ہیں۔ ہم بھی انہیں بتا چکے ہیں کہ جب بھی کوئی ان کی جانب بڑھے گا، ہم ایٹم بم چلا دیں گے۔ افغانستان سے ہمارے تعلقات خراب ہیں، مگر افغان تو آپ کو پتا ہے، احسان فراموش لوگ ہیں۔ ہم نے تو ان کے ملک کو ترقی دی۔ ہم نے امریکا کے ساتھ ملک کر، امریکی ڈالر اور امریکی ہتھیاروں سے، ان کی کمیونسٹ حکومت ختم کرنے اور وہاں سوویت یونین کو شکست دے کر عین اسلامی حکومت قائم کرنے میں اپنا خون پسینہ بہایا۔ ان کے ملک میں تباہی مچی، تو ہم نے لاکھوں لوگوں کو اپنے ہاں رکھ دیا۔ ظاہر ہے چالیس سال ہو چکے ہیں، ہماری بنائی ہوئی عین اسلامی حکومت ختم ہو چکی ہے، تو اب ہم انہیں کیوں رکھیں۔ وہ بچے جو ہماری سرزمین پر پیدا ہوئے ہیں، ہیں تو وہ افغان ہی نا، وہ پاکستانی کیسے ہو سکتے ہیں؟ ان کی شادیاں ہو چکی ہیں یا انہوں نے کبھی اپنا ملک نہیں دیکھا، تو بھی یہ ہمارا مسئلہ تھوڑی ہے۔ یہ ان کا مسئلہ ہے۔ ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات اچھے نہیں ہو سکتے۔ اسے لگتا ہے کہ اس کی فوج ہم سے زیادہ اچھی ہے۔ وہ امریکا کو آنکھیں تو دکھاتا ہے، مگر جس روز امریکا نے ہمیں کہا تو ہم اس کی آنکھیں نکال دیں گے۔ اور بھارت سے تو ہمارے تعلقات اچھے ہو ہی نہیں سکتے۔ میں نے خود آٹھویں میں پڑھا تھا، وہ ہمارا وجود تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے۔ ہم بھی اس کا وجود تسلیم نہیں کریں گے۔ چین ہمارا دوست ہے، ہم اکیلے تھوڑی ہیں۔ اب تو ہم نے پورا پاکستان چین کو پٹے پر دے دیا ہے۔ ہم چینیوں کو شناختی کارڈ بھی دیں گے، زمین بھی، بندرگاہ بھی، سونے اور تابنے کی کانیں بھی، جو چاہیں لے لیں۔ انہوں نے پیار سے مانگا ہے، ہم اپنی جان دینے کا تیار ہیں۔ چین اپنا یار ہے۔ اس پہ جاں نثار ہے۔ اب تو ہم اپنی ٹیم بھی چین بھیجیں گے، جو سیکھ کر آئے گی کہ چین کیسے ترقی کر گیا۔ ہم بھی ایک دن چین بنیں گے۔ ویسے جو باتیں میں نے کی ہیں، یہ خارجہ پالیسی والی ہی ہیں نا؟‘‘

کہا، ’’الیکشن، حکومت اور عدلیہ آزاد ہے؟‘‘

بولے، ’’ارے کہا تو ہے، ملک ہو گا، تو الیکشن، حکومت اور عدلیہ بھی ہوں گے نا۔ ملک حالت جنگ میں ہے۔ ہر جانب سے دشمن نے ہمیں گھیر رکھا ہے۔ پوری دنیا کی کوشش ہے کہ ہمارا ایٹم بم چھین لے۔ بھارت ہم پر حملہ کرنے والا ہے۔ اسرائیل نے ہماری طرف میزائل سیٹ کر لیے ہیں۔ افغانستان میں امریکا ہم پر بم پھینکے کی منصوبہ بندی کر چکا ہے۔ ایسے میں ہم یہاں انسانوں والا کوئی معاشرہ قائم تو کر دیں، مگر جنگ میں جنگلی درکار ہوتے ہیں۔ یہاں سارے لوگوں نے سوٹ پہن لیے، تو امریکا کے جہازوں پر کون تھوک فائر کرے گا؟ الیکشن، حکومت اور عدلیہ وغیرہ کی آزادی کیا کرنی ہے ہم نے؟ ہم ان کے بغیر بھی چل سکتے ہیں۔ یہ سیاست دان کرپٹ، عوام بریانی کی پلیٹ پر ووٹ فروخت کر دیتے ہیں، عدالتوں میں جج کرپٹ اور چور ہیں۔ الیکشن خانہ پوری ہیں۔ یہ پارلیمان، دستور، قانون، عدالتیں، حکومت یہ نہ بھی ہوئیں، تو آپ کو لگتا ہے کہ ہمارے ملک کو کچھ ہو جائے گا؟ اوہ بھائی یہ ملک خدا نے ہمیں دیا ہے۔ یہ قیامت تک قائم رہنے کے لیے بنا ہے۔ دنیا کی کوئی طاقت پاکستان نہیں توڑ سکتی۔ کچھ غدار ہیں، جو ملک میں دستور، قانون، حکومت، جمہوریت، سائنس، ٹیکنالوجی، قانون کی حکم رانی اور میڈیا کی آزادی جیسے نعرے لگاتے ہیں، یہ سارے نعرے امریکا اور اسرائیل کے پیسے لے کر لگائے جاتے ہیں۔ سب غدار لوگ ہیں، کرپشن کا ساتھ دیتے ہیں۔ خود بھی کرپٹ ہیں۔ پاکستان ترقی کرے گا۔ ہماری سلامتی اور دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے۔ آپ فکر نہ کریں۔‘‘

کہا، ’’جی بہت شکریہ۔ آزادی مبارک ہو۔‘‘