تسنیم عابدی

کیا لکھوں، کیوں لکھوں اور کیسے لکھوں؟ طبیعت عجیب شش و پنج میں طبیعت مبتلا ہے، سماجی ناہمواری پر لکھتے لکھتے روشنائی اب سیاہی بکھیرنے لگی ہے۔ سیاست کے شعبے کی تنزلی کا یہ عالم ہے کہ لغت میں اس کا مترادف اب منافقت کو شامل کر دینا چاہیے۔ اخلاقیات کا جنازہ روز انہ ہی اپنی اپنی مقررہ عبادت گاہوں سے شہر کے گلی کوچوں تک نکلتا ہے اور پھر بے ضمیری کے قبرستان میں دفن کر دیا جاتا ہے۔ روشن خیالی کا سورج سائنسی صحراؤں میں گہنا چکا ہے۔ اگر شام کے خونی مناظر کو لکھنا چاہا تو یمن کے تباہ شدہ کھنڈرات نے بھی اپنی زبوں حالی کا مرثیہ با زبانِ بے زبانی بیان کیا۔ اپنے ملک کی سوندھی مٹی سے خون کی خوشبو نے بےقرار کیا تو دل چاہا کہ بس جھنڈے کے سفید حصے کو اقلیتوں کے سرخ رنگ سے رنگ دوں اور باقی حصے کو سیاہ کیونکہ ہمارے بزرگوں نے جس شادابی کے خیال کے تحت اسے سبز رنگ عطا کیا تھا وہ خواب وہ خیال تو کوئلے کی طرح سیاہ ہو چکے ہیں۔

بزرگوں کے خوابوں کو کون روئے اب تو ہماری نسل بھی اپنے خواب ہارتی نظر آرہی ہے۔کب تک ان جلے ہوئے خوابوں کی سیاہی کاغذ پر بکھیرتی رہوں لکھنے کے لئے کچھ بھی نیا نہیں سارے غم پرانے ہیں سارے درد میرے ساتھ ساتھ بوڑھے ہو چلے ہیں۔

میرے پاس کیا کا جواب نہیں اور کیوں کا تو بالکل بھی نہیں۔ قلم کی مشقت کی انگلیاں عادی ہو چلی ہیں۔ حسن اور عشق کے قصّے اب نصیب میں کہاں نہ جمالِ ظاہری میں کشش ہے نہ کمالِ باطنی اپنے جانب کھینچتا ہے۔ محبت کی کوئی داستان نوکِ قلم تک نہیں آتی، بس وحشتوں، محرومیوں اور مایوسیوں کے مناظر ہیں اور اس میں تازہ ہوا کی تلاش میں چند ہم عصر بھٹکتے نظر آتے ہیں، تو میں بھی ان کے پیچھے پیچھے چل دیتی ہوں کہ شاید احساسِ تنہائی مٹ جائے۔

غزل میرے اگے ہاتھ جوڑنے لگتی ہے کہ اس پر مرثیے کا رنگ چڑھنے لگتا ہے نظم پہلی لائن سے ہی زخموں پر نمک پاشی کرنے لگتی ہے اور افسانہ حقیقت میں گم ہونے لگتا ہے۔

گوتم بدھ نے دنیا کو دکھوں کا گھر کہا تھا اور پھر ساری دنیا کو تج دیا تھا۔ نجانے اسے کیسے دنیا سے الگ ایک ٹھکانہ مل گیا تھا، مگر میرا دکھ اس سے بہت بڑا ہے کہ میں اس دکھوں کی دنیا سے خود کو الگ بھی نہیں کر سکتی۔ مجھے روز و شب اس خونی دنیا کو دیکھنا ہے حالانکہ میری آنکھ زخمیوں کو دیکھتے دیکھتےخود زخم بن چکی ہے۔

پاکستان کی مٹی جسم و جان سے وابستہ ہے۔ الیکشن کا سال ہے،دیکھیں مذہب، مسلک، قومیت کے نام پر اس وابستگی کے نام پر کیا کیا دکھ اٹھانے ہیں۔ مجھے اس نام نہاد ترقی یافتہ دنیا کے معصوم بچوں سے ہمدردی ہے، جو مجھ سے ترقی یافتہ کے معانی پوچھتے ہیں تو میں اکثر جواب گول کر جاتی ہوں کیونکہ یہ سوال تو مجھے عرصہ ہوئے لاجواب کر چکا ہے اور جب کسی بات کا علم نہ ہو تو خاموش ہو جانا ہی بہتر ہے۔ ویسے بھی ہمارے معاشرے نے یہی سکھایا کہ لاعلمی نعمت ہے اور خود آگہی ایک مصیبت۔ اب مجھ میں جو سادہ لوح بچہ چھپا ہے وہ اصرار کر رہا ہے کہ پاکستان  میں سرخ کو سفید کہا جاتا ہے اور اس گلوبل ولیج کا ایک جھنڈا سیاہ رنگ کا ہونا چاہئے تاکہ خون کے چھینٹے نمایاں نہ ہوں  میں اس بچے کے معصومانہ سوالات اور فرمائشوں سے پریشان ہو چکی ہوں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here