نظم “توہینِ رسالت”

0
231

عاطف توقیر کی نظم توہینِ رسالت
نبی آخر الزماں رحمت۔ عالم کا نام استعمال کر کے زمین پر لہو بہانے والوں اور اسلام کے اولین پیامِ امن کو مسخ کرنے والوں کے نام۔ یہ ضروری ہے کہ ہم ملک میں قانون کی بالادستی کے لیے کام کریں اور اسلام کے تشخص کو مسخ کرنے والے ہر شخص کی حوصلہ شکنی کریں۔ اسلام دین امن ہے اور دین امن و رحمت کے ماننے والوں کو اس کی اصل تعلیمات ہی کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا چاہیے۔ اس موضوع کا احاطہ کرتی، یہ نظم ہم سب کو فکر کی دعوت بھی دیتی ہے۔

نظم ’’توہین رسالت‘‘
مِرے پیمبر نے کب کہا تھا کہ خوں بہاؤ؟ یہ کس حدیثِ پیمبری میں لکھا ہوا تھا کہ اختلافات پر گلوں پر چھری چلاؤ۔
وجودِ رحمت کے نامِ اقدس پر اپنے اعمال رکھنے والو۔ کتاب اقدس کے کس ورق پر لکھا ہوا تھا۔ کہ تم خدا ہو؟ کہاں پڑھا ہے؟ کہ دینِ رحمت لہو بہانے کا رہ نما ہے؟ رحیم مولا کے کلمہ گو ہو تو کس کی سنت پہ چل رہے ہو؟ شجر کی شاخوں سے پیار کرنا، دعائیں دینا میرا نبی ہے۔ وجودِ معصوم چیتھڑوں میں بدلنے والو لباسِ اطہر کے چیتھڑوں سے۔ چھِلے وجودوں کو، رِستے زخموں کو پاک کرنا مرا نبی ہے۔ شعورِ انساں پہ نکتہ چینو، امامِ علم و شعور کا علم میں اضافے کو ہر دعا کا وجود کرنا مرا نبی ہے۔ مُنار و مسجد سے، منبروں سے بیانِ نفرت گرانے والو مقامِ افضل سے امن و الفت کا درس دینا میرا نبی ہے۔ وجود طفلاں کو راہِ خودکش بنانے والو نمازِ اطہر کی سجدہ ریزی کی ہر طوالت کا درس دیکھو۔ مساجد و عَبد گاہ و بازار خوف و دہشت بنانے والو شہر کو ہر خوف سے بچانے، سکون دینے کا رب سے کہنا، میرا نبی ہے۔ اذان اجرت پہ دینے والو،  بیانِ نفرت معاوضے پر اگانے والو مرے پیمبر کی جیب دیکھو، مرے پیمبر کا ظرف دیکھو۔ مرے پیمبر نے کب کہا تھاکہ رحمتِ لامحیطِ ادارک کسی کے جملوں کی دسترس ہے؟
کہاں لکھا تھا، کہ جھنڈ بنا کر، رحیم مولا کے نامِ نامی پہ خون پھینکو؟ کہاں لکھا تھا کہ مشتعل لوگ جمع ہو کر کریم مولا کا نام لے کر زمینِ مولا پہ خوں گرائیں؟ یہ کیسی توہین کر رہے ہو شعورِ انساں پہ نکتہ چینو دیے بجھانے کے دعوے دارو۔ مِرا پیمبر تو روشنی تھا میرے پیمبر نے کب کہا تھا کہ خوں بہاؤ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here