وقاص احمد

اردو کا ایک محاورہ ہے “ہم بھی ہیں پانچ سواروں میں”. وجہ تسمیہ اس نعرے کی کچھ یوں بتائی جاتی ہے کہ ایک دفعہ چار خوبرو اور وجیہہ شہزادے شکار کی غرض سے اپنے سفید ترکی نسل گھوڑوں پر سوار کہیں رواں دواں تھے۔ جو بھی ان کو راستے میں دیکھتا ان کی شان وشوکت کو دیکھ کر دم بخود رہ جاتا اور پوچھتا کہ یہ عظیم الشان چار شہزادے کہاں جا رہے ہیں؟ راستے میں ایک کمہار اپنی گدھی پر کہیں جارہا تھا، ان شہزادوں سے اتنا متاثر ہوا کہ شہزادوں سے اجازت لے کر ان کے گھوڑوں کے پیچھے اپنی گدھی پر سوار چل پڑا۔ شہزادوں کی معیت میں کمہار کا دماغ بھی اونچی اڑانیں بھرنے لگا۔ راستے میں پھر کسی نے وہی سوال کیا کہ یہ چار سوار کدھر جا رہے ہیں تو کمہار پیچھے سے بولا “ہم بھی ہیں پانچ سواروں میں”۔

موجودہ سیاسی منظر نامے میں بہرحال اس محاورے سے مماثلت اس لیے کم ہے کیونکہ یہاں “کمہاروں” کی تعداد کچھ زیادہ ہے۔

پاکستان میں سڑک پر جھاڑو دینے والے خاکروب سے لیکر یونیورسٹی میں پڑھنے والے پڑھے لکھے نوجوان تک سب جانتے ہیں کہ اس وقت جو کچھ بھی چل رہا ہے وہ طاقت کے دو مراکز کے درمیان ایک ازلی جنگ ہے۔ ان میں سے ایک مرکز کی نمائندگی آج کل نواز شریف کے پاس ہے (کبھی بھٹو کے پاس تھی) اور دوسرا مرکز پچھلے 70 سال سے مستقل فوجی اسٹیبلشمنٹ کے پاس ہی رہا ہے۔ اب یہ اکھاڑیاں، پچھاڑیاں، مقدمے، گرفتاریاں، پریس کانفرنسیں، انٹرویو، جلسے جلوس سب دونوں فریقین کے وہ پہلوانی داؤ پیچ ہیں جس کی مدد سے یہ ایک دوسرے کو پچھاڑنا چاہتے ہیں یا کم از کم اپنی شرائط پر مذاکرات کی میز پر بٹھانا چاہتے ہیں۔

لیکن جب ان دو شہسواروں کے درمیان مجھے کوئی غیر معزز جج سیاسی اور جذباتی بڑھکیں لگاتا نظر آتا ہے تو بے اختیار ہنسی آجاتی ہے۔ جب اس نیب کا چئیرمن جس کو زرداری نے یہ کہا تھا کہ “نیب کی اوقات کیا ہے…”، یہ بڑھکیں لگاتا نظر آئے کہ ہم آذاد ہیں اور “کرپشن” کے خلاف بلا امتیاز جہاد کر رہے ہیں تو میرے پیٹ میں بل پڑ جاتے ہیں۔ جب مجھے چابی پر چلنے والے نام نہاد “سینئر تجزیہ نگار” چابی والے تجزیے کرتے نظر آتے ہیں تو مجھے ترس آتا ہے ان کی لگی مشکل ڈیوٹی پر۔ لیکن جب مجھے سوشل میڈیا پر بیٹھی “انقلابی مخلوق” اپنے مقدس و مہان لیڈر کی وہ دھمکیاں نما بڑھکیں ٹیگ کرتی نظر آتی ہے جو اس نے 2014 کے ناکام دھرنے کے دوران نواز شریف یا ن لیگ کو دیں تو مجھے بے اختیار گدھی پر سوار وہ کمہار یاد آجاتا ہے جو واقعتاً یہ سمجھتا ہے کہ ملک میں چھڑی عوامی بمقابلہ اسٹیبلشمنٹی جنگ میں جو کچھ ہو رہا ہے اس میں اس کا بھی کوئی کردار ہے۔

آج مورخہ 6 جولائی 2018 کو آنے والے ایک فیصلے کی حیثیت اتنی ہی ہے جتنی 2000 کے اوئل میں ایک ڈکٹیٹر کی براہ راست حکومت کے دور میں نوازشریف کو ملنے والی 14 سال کی قید اور 21 سال نااہلی کی سزا ہے۔ مگر حیرت اور افسوس ہے کہ اسٹیٹس-کو کی ازلی طاقت کا ساتھ دینے والے اپنے اس کیے پر شرمندہ ہونے کی بجائے اس میں اپنے کمہاری کردار کی تشہیر کر رہے ہیں۔ شنید ہے کہ 4 دفعہ فیصلہ سنانے میں تاخیر کا سبب وہ “بیک ڈور ڈپلومیسی” تھی جس میں “غیر مشروط ہتھیار ڈالنے” کے عوض مقدمات سے باعزت بریت کی پیشکش تھی۔

مگر تف ہے اس نیب پراسیکیوٹر پر جو مفتی منیب الرحمن اور انضمام الحق کی طرح لمبی تقریر میں اپنی ٹیم کا تعارف و تعریف ایسے کر رہا تھا جیسے جناب اکیلے ہی کوئی ملک فتح کر کے آئے ہیں۔ زرا سوچیے, تصور میں تو لائیے کہ آج بھرپور دباؤ کے اس لمحے میں، جب نواز شریف کے پاس بدنامی بھری باعزت بریت اور عزت و وقار سے چھلکتی سزا اپنانے کی کھلی آپشنز موجود تھیں، اگر نوازشریف کوئی کمزور فیصلہ کرلیتا تو یہ فنٹاسٹک فائیو جج، یہ سپر سکس جے آئی ٹی، یہ آگ اگلتے 30 سے زیادہ ٹی وی چینل، یہ رویت ہلال کمیٹی مارکہ نیب پراسیکیوٹر اور مہان کپتان خان نیازی بمعہ پیر و مرشد اور مریدین کدھر پڑے ہوتے؟ اس انصاف انصاف کے پتلی تماشہ کا بنتا کیا؟

میرے ذاتی خیال میں آج نواز شریف سارے پاکستان کے شکریے کا مستحق ہے۔ اپنے ان حامیوں کا، جنہوں نے سول سپرمیسی کا وہ خواب دیکھا ہے جسے ان کے خیال میں نوازشریف کا بیانیہ تعبیر دے گا۔

اپنے ان مخالفین کا، جن کی الف سے لیکر ے تک ساری سیاست اس بیانیے کی مخالفت میں ہے کیونکہ اگر نوازشریف کوئی ڈیل کرلیتا تو تاریخ سے واضع رہے کہ ایک سے زیادہ آپشنز کی موجودگی میں اسٹیبلشمنٹ گھڑ سوار شہزادے کو اپنا نمائندہ بناتی ہے نا کہ گدھی پر سوار کمہار کو۔ تھینک یو نواز شریف۔