حمزہ سلیم

’پھرکیوں نکالا‘ بیانیہ بہت جلد عوامی مارکیٹ میں آنے کو ہے،اب ہر گلی کوچے میں یہ سوال اٹھے گا کہ نواز شریف کو پھر کیوں نکالا؟اس کی وجہ گزشتہ روز کا فیصلہ ہے ۔گزشتہ روز سپریم کورٹ کے ایک بینچ نے جس کی سربراہی چیف جسٹس ثاقب نثار کررہے تھے ، نے اس الیکشن ایکٹ کی اس ترمیم کو کالعدم قرار دیا ہے، جو پارلیمنٹ نے منظور کی تھی ۔ پارلیمنٹ میں جو ترمیم منظور کی گئی تھی اس میں یہ کہا گیا تھا کہ کوئی ایسا شخص بھی پارٹی کا سربراہ بن سکتا ہے، چاہے وہ نااہل ہی کیوں نہ ہوا  ہو۔یہ ترمیم جب منظور کی گئی تھی تو پاکستان کی سیاست میں بہت شور شرابہ برپا کیا گیا تھا ۔جب ترمیم منظور کی گئی تھی تو بہت متنازعہ تھی ۔گزشتہ روز چیف جسٹس نے جو فیصلہ صادر کیا ہے ،اس فیصلے کو انہوں نے خود ہی تحریر کیا ہے ۔

فیصلے کی کچھ وضاحت دی گئی ،کچھ سوالات کے جواب، کہا گیا ہے کہ بعد میں تحریری شکل میں تفصیلی فیصلے میں دیئے جائیں گے ۔کہا گیا ہے کہ فیصلے میں الیکشن ایکٹ 2017 کی شقوں 203 اور 232 کی تشریح اور ان کو پڑھنے کے لیے آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کو مدنظر رکھا جانا چاہیئے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی شخص جو آئین کے آرٹیکل باسٹھ پر پورا نہیں اترتا، یا آرٹیکل ترسٹھ کے تحت نااہل ہے ، وہ سیاسی جماعت کا سربراہ نہیں بن سکتا ۔یہ پابندی اس وقت سے ہوگی ،جب سے اس شخص کو نااہل قرار دیا گیا ہے اور پابندی اس وقت تک رہے گی، جب تک وہ ناااہل شخص باسٹھ ترسٹھ کے تحت اہل نہیں ہوجاتا ۔فیصلے کے مطابق نواز شریف 28جولائی کو نااہل کیے گے تھے ،اس کے بعد سے گزشتہ روز تک نواز شریف نے بطور پارٹی صدر جو بھی ایکشن لیے ہیں وہ سب کالعدم تصور ہوں گے ۔یہ ایک مختصر فیصلہ ہے ۔

اب زیادہ تر سوالات کے جواب کے بارے میں تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد ہی معلوم ہوگا۔وکلا اور تعلیم یافتہ طبقے کا کہنا ہے کہ آرٹیکل سترہ ہر شخص کو اجازت دیتا ہے کہ وہ اپنی سیاسی جماعت بناسکتا ہے ۔اس آرٹیکل میں نااہلی کی قدغن کاذکر بھی نہیں ہے ،اس کا مطلب ہے کہ نااہل شخص بھی پارٹی بنا سکتا ہے اور اس کا صدر بھی بن سکتا ہے ۔لیکن فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل سترہ ہر شخص کو سیاسی جماعت تشکیل کرنے کی اجازت دیتا ہے لیکن اس کی حدود و قیود میں پبلک موریلیٹی کا عمل دخل ہوگا ۔آئینی و قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ یہ درست ہے کہ آرٹیکل باسٹھ ترسٹھ ہر ارکان پارلیمنٹ پر اپلائی ہوتا ہے ،لیکن نواز شریف تو رکن پارلیمان نہیں ہیں ،تو پھر کیسے انہیں پارٹی صدر کے عہدے سے ہٹایا جاسکتا ہے؟کچھ ماہرین یہ کہتے ہیں کہ کیونکہ پارٹی سربراہ پارلیمانی عمل سے جڑا ہوا ہوتا ہے اس لئے اسے نااہل بھی کیا جاسکتا ہے ۔

سوال یہ ہے کہ نواز شریف نے سینیٹ الیکشن کے لئے جو افراد نامزد کیے تھے ،کیا اب ان کی  نامزدگی ختم ہو گئی ہے ،اس حوالے سے بھی تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد ہی واضح ہوگا ۔یہ ایک سوال ہے کہ جو شخص خود پارلیمنٹ کا رکن نہیں بن سکتا ،وہ کیسے کسی اور کو پارلیمنٹ کا رکن بننے کے لئے نامزد کرسکتا ہے ؟یہ بھی ایک لاجک دی گئی ہے؟ایک تھے یا ایک ہیں پرویز مشرف ،جو زندگی میں خوش قسمتی سے کبھی بھی پارلیمنٹ کے رکن نہیں رہے ،ان پر باسٹھ ترسٹھ کا کیس نہیں کیا گیا ؟سوال یہ ہے کہ کیا وہ باسٹھ ترسٹھ پر پورا اترتے ہیں،انہوں نے پارلیمنٹ کو تحلیل کیا تھا، مارشل لا لگایا تھا ،ججوں کونظر بند کیا تھا،آئین کو تباہ کیا تھا ،کیا وہ صادق ا ور امین ہیں یا نہیں ؟ سنا ہے وہ تو پارٹی کے صدر بھی ہیں ؟اگر ایسا شخص پارٹی کا صدر ہے تو پھر نواز شریف پارٹی کے صدر کیوں نہیں رہ سکتے ؟یہ بھی وہ سوال ہیں جو آئینی ماہرین اور عوام کا پڑھا لکھا طبقہ اٹھا رہا ہے۔علامہ طاہر القادری صاحب دہری شہریت رکھتے ہیں ،وہ کینیڈا کے بھی شہری ہیں اور پاکستان کے بھی شہری ہیں ،کیا ان پر باسٹھ ترسٹھ کا نفاذ نہیں ہوتا ؟وہ پھر پارٹی صدر کیوں ہیں ؟پبلک موریلیٹی کی بات اگر سامنے آتی ہے تو پھر اپنے خان صاحب بھی پارٹی صدر کے عہدے سے فارغ ہو سکتے ہیں ؟لگتا ایسے ہے کہ سپریم کورٹ کا جو موڈ بن جاتا ہے ،وہیں پر باسٹھ ترسٹھ نافذ ہو جاتا ہے۔ فیصلہ قانونی تقاضوں پر نہیں دیا گیا ،بلکہ فیصلہ تشریحی تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے دیا گیا ہے۔ سینیٹ کے الیکشن کا معاملہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد گھمبیر ہوگیا ہے ۔مسلم لیگ ن سینیٹ میں اکثریتی جماعت ہے ،زیادہ تر سنیٹرز ن کے ہی منتخب ہونے ہیں ،اب وہ پارٹی صدر نہیں رہے،لیکن نامزدگی انہوں نے کی ،اب ان نامزدگیوں کا کیا ہوگا ؟کیا الیکشن کمیشن اس حوالے سے کوئی راستہ دے سکتا ہے ،کہہ سکتا ہے کہ سینیٹ کے الیکشن کا عمل شروع ہو چکا ہے ،اسی وجہ سے معاملات کو نہ روکا جائے ،اور الیکشن پرانی نامزدگیوں پر ہونے دیئے جائیں ۔

سوال یہ ہے کہ کیا سینیٹ کا الیکشن ری شیڈول ہوگا ؟1994 میں جب غلا م مصطفی جتوئی نگران وزیر اعظم تھے تو ان کے خلاف ڈیفالٹ کا کیس سپریم کورٹ میں گیا ،،کیس کو چیلنج کیا گیا اور کہا گیا کہ الیکشن کا عمل شروع ہو چکا ہے ،نواز شریف کی طرف سے پٹیشن کی جاسکتی ہے کہ یہ فیصلہ آرٹیکل بارہ کی خلاف ورزی ہے ؟غلام مصطفی جتوئی کا کیس بھی آرٹیکل بارہ کی روشنی میں سامنے آیا اور فیصلہ کیا گیا ؟1990 میں پاکستان کی جمہوری حکومت برطرف کی گئی تھی ،اس کے بعد انتخابی شیڈول کا اعلان ہو گیا تھا۔عدالت میں یہ حکومت کی برطرفی چیلنج کی گی ،فیصلہ یہ تھا کہ برطرفی غلط اقدام ہے ،لیکن کیونکہ الیکشن کا اعلان ہو چکا ہے ،اور الیکشن عمل شروع ہو چکا ہے، لہذا انتخابات کو نہیں روکا جاسکتا ۔سینیٹ کے الیکشن کے علاوہ بہت سارے ضمنی انتخاب ہوئے ہیں ،جن میں مسلم لیگ ن جیتی ہے ،جیسے NA 120،چکوال ضمنی الیکشن ،لودھراںوغیرہ ان تمام جیتنے والے امیدواروں کو نواز شریف نے ٹکٹ دیئے تھے ،ان کا کیا بنے گا ،کیا الیکشن دوبارہ ہوں گے ؟اس لئے جب تک تفصیلی فیصلہ نہیں آتا معاملات گھمبیر رہیں گے ؟کیا پاکستان کے تمام غلط کام نواز شریف نے کئے ہیں کہ جو بار بار زد میں آرہے ہیں ؟اس پر بھی مختلف حلقوں میں سوالات اٹھائے جارہے ہیں ؟مسلم لیگ ن کا بیان تو واضح طور پر سامنے آگیا ہے کہ نواز شریف کو پارٹی سے تو نکال دیا گیا ،لیکن دلوں سے کیسے نکا لا جائے گا ؟

پی ٹی آئی اور پی پی پی جیسی جمہوری پارٹیوں نے تو کہا کہ فیصلہ انصاف کی جیت ہے ۔نواز شریف صاحب نے نااہلی کے بعد جو بیانیہ کوریو گراف کیا تھا ،یا تعمیر کیا تھا ،وہ سوچ سمجھ کر کیا گیا ،لگتا ہے سپریم کورٹ بھرپور انداز میں نواز شریف بیانیہ کو سپورٹ کررہی ہے۔ن لیگ کی پچ پر جب عدالت عظمیٰ کھیلے گی تو سیاسی فائدے نواز شریف اور ن لیگ کو ہی ہوں گے ۔پانامہ کا فیصلہ آیا، زیادہ تر قانونی ماہرین نے کہا یہ کمزور فیصلہ ہے ،پانامہ فیصلے میں نواز کو اقامہ پر نکالا گیا ،عوام نے کہا یہ زیادتی ہے ،حتیٰ کہ عمران نے خود کہا عدالت کا پانامہ کا فیصلہ کمزور تھا جس کا فائدہ نواز شریف نے اٹھایا ؟

اب گزشتہ روز کے فیصلے کا فائدہ بھی نواز شریف کو ہوگا ۔یہ کہنا ہے سیاسی اور آئینی مبصرین کا۔ایک ہیں مولوی صاحب جن کا نام خادم رضوی ہے جو بہت توہین عدالت فرماتے رہے ہیں، معلوم نہیں وہ کیسے محفوظ ہیں ؟نواز شریف بیانیہ طاقتور ہورہا ہے ،یہ فیصلہ اس میں مزید مدد دے گا ۔سنا ہے فیصلے کے بعد ن لیگ والے مٹھائیاں تقسیم کرتے نظر آئے ہیں ؟ایسا کیوں ؟یہ سوچنے کی بات ہے ؟مجھے پھر کیوں نکالا سے جو بیانیہ مستحکم ہوگا ،اس کا فائدہ بھی نواز شریف ہی اٹھائیں گے ۔اب تھوڑا سا عدالتی تاریخ پر بھی بات کر لی جائے تو کوئی حرج نہیں ،سنا تھا افتخار چوہدری نے نظریہ ضرورت کو دفن کردیا تھا ،معلوم نہیں نظریہ ضرورت کی لاش کیوں بار بار باہر نکالی جاتی ہے ؟بھٹو کا عدالتی قتل نظریہ ضرورت کے لباس میں دفن کیا گیا ، ضیا کا مارشل لا، جنرل مشرف کا مارشل لا اور پھر نظریہ ضرورت ، یہ ہے ہماری عدالتی تاریخ ؟اب یہ سوال بھی زور و شور سے اٹھے گا کہ آئین بالادست ہے یا پھر پارلیمنٹ بالا دست ہے ؟ہم ستر سال میں یہ فیصلہ نہیں کر پائے کہ وہ کونسا ادارہ ہے جو بالادست ہے ؟ہمارے چیف جسٹس تو فرما چکے ہیں کہ پارلیمنٹ بالادست ہے مگر آئین پارلیمنٹ سے بھی بالا دست ہے ۔گزشتہ روز کا فیصلہ تو کم از کم چیف جسٹس کے بیان کی تصدیق کرتا ہے ۔پارلیمنٹ آئین بناتی ہے ،ایک دفعہ آئین بن گیا تو وہ پوری ریاست میں نافذ ہو جاتا ہے ۔آئین میں ترمیم لانے کا حق بھی پارلیمنٹ کا ہے۔

سپریم کورٹ کا صرف یہ حق ہے کہ وہ ترمیم کی تشریح کرے ۔دو ہزار پندرہ میں تیرہ ججوں کا ایک فیصلہ آیا تھا ،ان میں سے نو ججوں نے فرمایا تھا کہ پاکستان کی پارلیمنٹ برطانیہ کی پارلیمنٹ کی طرح بالادست نہیں ہے یا خودمختار نہیں ہے ۔پاکستانی پارلیمنٹ کے پاس ترمیم کرنے کے اختیارات محدود ہیں ۔ان میں سے چار ججز ایسے تھے جنہوں نے نو ججوں سے اتفاق نہیں کیا تھا ۔ان چار ججوں نے کہا تھا کہ وہ اتفاق نہیں کرتے کہ پارلیمنٹ کی ترمیم کی طاقت محدود ہے ۔ان میں سے ایک جج نے فیصلے میں تحریری شکل میں لکھا تھا کہ ترمیم کا حق منتخب نمائندوں کا ہے۔پارلیمنٹ کے فیصلے تباہ کن ہوسکتے ہیں ،لیکن سوال یہ کہ کیا عدالت کا ریکارڈ بہت اچھا ہے؟ منتخب نمائندے پانچ سال بعد مینڈیٹ لینے جاتے ہیں ،لیکن جو ججز ہیں ،وہ کم جواب دہ ہیں ۔یہ ریمارکس تھے ایک جج کے جن کا نام ہے جسٹس ثاقب نثار ،جو تحریری شکل میں ہیں، اس کے بعد میں اور کیا تبصرہ اور تجزیہ کروں ؟جب آئین پارلیمنٹ بناتی ہے تو ترمیم بھی پارلیمنٹ ہی کرے گی ۔اب تک جو بھی عدالتی و سیاسی دنگل ہورہا ہے ،وہ سسٹم کے اندر ہو رہا ہے ،اب اگر سیاست اور عدالت کا تصادم ہو گیا ،تو پھر معاملات تیسرے ایمپائر کے پاس بھی جائیں گے ۔اس لئے میری اپیل نواز شریف اینڈ کمپنی سے ہے کہ وہ تصادم سے گریز کریں ،جمہوری سسٹم کو بچانا بہت ضروری ہے۔ورنہ امپائر کی ایک نہیں اب تمام انگلیاں ،ہاتھ ،پیڑ سب سرگرم ہو جائیں گے ۔یہ بھی سوال اٹھایا جارہا ہے کہ نواز شریف کیونکہ اب پارٹی صدارت سے فارغ ہو چکے ہیں ،اس لئے پارٹی بکھرنا شروع ہوجائے گی ؟میرا ایسا خیال نہیں ہے ،پارٹی کے لوگوں کو بھی معلوم ہے کہ اس سے مومینٹم بڑھے گا ،ان کی مقبولیت بڑھے گی ،اس لئے یہ متحد ہی رہیں گے۔کیونکہ ہمدردی کے ووٹ کو کیش کرنے کا یہ بہترین وقت ہے ۔مسلم لیگ ن نے اگر بکھرنا تھا تو اس وقت اس کا شیرازہ بکھرتا جب نواز شریف نااہل ہوئے تھے ۔مریم اور حمزہ کا پھڈا بھی اگر پڑا تو الیکشن کے بعد ۔

یہ بھی سوال اب اٹھایا جائے گا کہ ستر سالوں میں کیا صرف سیاستدان ہی غلط کام کرتے رہے ہیں؟ وہ جو آمر تھے ،وہ جو ایوب ،مشرف ،یحیی تھے ،وہ کیا کرتے رہے ہیں ؟یہ بھی اب سوال اٹھیں گے کہ یہ آئین کے محافظ کیا کام کرتے رہے ہیں ؟نظریہ ضرورت انیس سو پچپن میں مولوی تمیز الدین کیس کے بعد پیدا ہوا،جن 1955میں گورنر جنرل غلام محمد نے اسمبلی تحلیل کردی ،مولوی تمیزالدین کیس سامنے آیا ۔اس پر جسٹس منیر نے کہا تھا کہ ضرورت کوئی قانون نہیں دیکھتی ،اسی ایک فقرے سے نظریہ ضرورت ایجاد ہوا،جسے ایک معزز جج نے اپنے ریمارکس سے جنم دیا ۔جسٹس منیر نے ایوب مارشل لا پر یہ بھی کہا تھا کہ تختہ الٹنے کی کامیاب کوشش ایک قانونی طریقہ ہے ۔اب آگے کچھ نہیں کہہ سکتا کیونکہ میری بھی کچھ حدود و قیود ہیں،جن کو میں احترام دیتا ہوں ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here