طفیل علی

مئی 2013 کہ انتخابات میں کس نے سوچا تھا کہ تین سال بعد دورانِ حکومت نواز شریف نظریاتی ہوجائیں گےاور ووٹ کو عزت دو جیسے نعرے لگانا شروع کردیں گے۔ ہم تو مفاہمتی سیاست کے چیمپئن آصف علی زرداری کو جمہوریت کا بادشاہ مانتے تھے۔ چاہے حسین حقانی والا میموگیٹ ہو یا کوئی اور معاملہ میں زرداری صاحب نے جمہوری حکومت کو سنبھالا۔ لیکن دوسری طرف میاں صاحب آج جو ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگارے ہیں وہ کل کالا کوٹ پہن کر یوسف رضا گیلانی کے خلاف کورٹ جا کر کسی نہ کسی طرح زرداری حکومت کے خلاف دانستہ یا غیردانستہ طور پہ سازش کا حصہ بنے ہوئے تھے۔۔ مئی 2013 کے الیکشن کے بعد طاہرالقادری کا منظرِعام پہ آنا اور عمران خان کے ساتھ پارلیمنٹ ہاؤس کی طرف مارچ ایک تبدیل ہوتی ہوئی صورتحال تھی۔ عمران قادری دھرنے کے دوران روز خبر آتی تھی کہ آج حکومت چلی جائے گی۔ یہ صورتحال نوازشریف اور زرداری کو قریب لے آئی اور زرداری صاحب نہ صرف پاکستان لائے بلکہ نواز شریف اور پارلیمان کا ساتھ دینے کا واضع اعلان بھی کیا۔ لاہور ائیرپورٹ سے رائیونڈ تک شہبازشریف نے سابق صدر آصف زرداری کےڈرئیور کی ڈیوٹی انجام دی جو کبھی کہتے تھے کہ زرداری کو لاہور کی سڑکوں پہ گھسیٹوں گا۔

لیکن میاں صاحب نے محکمہء زراعت کہ سامنے سر تسلیم خم کردیا اور اس طرح دھرنوں سے حکومت جانے سے بچ گئی۔ چوہدری نثار کی ناراضگی بھی ختم ہو گئی اور متحرک ہوتے ہی محکمہ زراعت کا رخ سندھ کی طرف ہو گیا۔ ایک ایک کرکے زرداری صاحب کے فرنٹ مین کی گرفتاریاں شروع ہوگئیں یہاں تک کہ زرداری حکومت میں منسٹر رہنے والے ڈاکٹر عاصم حسین کو بھی گرفتارکرلیا گیا۔ سندھ حکومت کی طرف سے آواز اٹھنا شروع ہوئی کہ یہ گرفتاریاں اٹھارویں ترمیم پر حملہ ہیں، صوبہ کی خودمختاری پرحملہ ہے۔ وفاقی حکومت سمیت میاں صاحب نے بھی سندھ کی طرف سے منہ موڑ لیا یہاں تک کہ سابق صدر آصف علی زرداری کی میاں نواز شریف صاحب سے طے شدہ ملاقات بھی نہ ہوسکی۔ زرداری صاحب پر دباو بڑھا تو انہوں نے اینٹ سے اینٹ بجانے والا بیان دیا جس کی وجہ سے انکو ملک چھوڑ نا پڑا۔ محکمہ زراعت کے سربراہ کی تبدیلی کہ بعد حالات کچھ بہتر ہوئے تو زرداری صاحب کی پھر سے پاکستانی سیاست میں واپسی ہوئی۔

مئی 2016 میں صحافیوں کی عالمی تنظیم آئی سی آئی جے پاناما سکینڈل منظرِعام پر لے آئی جس میں میاں نواز شریف کے بچوں کہ بھی آفشور کمپنیوں کا بھی ذکر تھا۔ کبھی مریم نواز تو کبھی حسن اور حسین نواز پاکستانی نیوز چینل پر بیٹھ کر انکار کرتے رہے۔ یہاں تک کہ میاں صاحب کو تو پارلیمنٹ سے خطاب میں بھی صفائیاں دینی پڑیں۔ اس بار پھر عمران خان نے دھرنے کے لئے سیٹ بیلٹ کس لی اور ملک بھر میں احتجاج کی کال دے دی۔ پیپلزپارٹی کے رہنما اور اس وقت کے اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کہتے رہے کہ پاناما پیپز کے حوالے سے پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے کہ یہ مسئلہ پارلیمان میں حل ہونا چاہے لیکن میاں صاحب نے کہاں کسی کی سنی ہے۔

سپریم کورٹ کو خط لکھ کے کمیشن بنوایا۔ خیر جے آئی ٹی بنی اور پھر ہوا یوں کہ مدعہ پاناما کا فیصلہ اقامہ کا۔ میاں صاحب نااہل ہوئے لندن فلیٹس اور دیگر کیس مزید تحقیق کہ لئے نیب کو بھیج دیے گئے۔ اس مرحلہ پر66 سال کی عمر میں میاں صاحب تین بار وزیرِعظم بننے کہ بعد نظریاتی ہوئے۔ اسلام آباد سے بہ راستہ جی ٹی روڈ نظریاتی نعروں {ووٹ کو عزت دو} اور ہزاروں کارکنان کہ ساتھ تین گھنٹے کا سفر دو دن میں طے کیا۔ پھر پنجاب کے پی کے ملک بھر میں جمہوریت بچاؤ، ووٹ کو عزت دو کے جلسے کئے۔ یہ سب دیکھتے کچھ پرانے کامریڈوں کے اندر بھی نظریات جاگ گئی اور ان لوگوں نے نواز شریف سے آس لگالی اور سوشل میڈیا ہو نجی بھیٹک نواز شریف کو جمہویت کانجات دھندا کہنے لگے۔ ناہلی کہ بعد نواز شریف نے شاہد خاقان عباسی صاحب کو اپنی جگہ پرائم منسٹر بنایا۔ نظریاتی لیڈر کے سابق وزیرِعظم شاہدخاقاں عباسی آج کل مذہبی دہشتگرد جماعت کے لوگوں سے الیکشن میں ووٹ کی غرض سے ملاقات کرتے پھر رہے ہیں۔ شاید میاں نواز شریف صاحب نظریاتی ہوئے ہیں ابھی پارٹی کا نظریاتی ہونا باقی ہے۔