محمد احسن قریشی

 

میں یہاں گھٹن محسوس کرتا ہوں فضا میں خوف کی بدبو ہے۔

آسمان پر ظلم کے بادل ہیں، دیواریں کفر کے فتوں سے رنگین ہیں۔

نوجوان مزید بولا

یہاں قلم کار قید، درندے آزاد ہیں، معاشرہ پستی کا شکار ہے۔

میں اپنے مستقبل کا سوچ کے پریشان ہو جاتا ہوں۔

نوجوان کی بات سن کر  بزرگ نے صبر کی تلقین کی۔

ملاوٹ، نفرت،جھوٹ اور فریب سے دور،

باعزت حلال روزگار حاصل اور پرسکون زندگی گزارنا چاہتا ہوں۔

اس کے لیے میں کیا کروں؟

نوجوان نے بزرگ سے سوال کیا۔

بزرگ نے نظر جھکا کے افسردہ آواز کے  ساتھ جواب دیا

’’ہجرت‘‘۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here