شیر افضل

وانا جنوبی وزیرستان کا صدر مقام ہے۔ جنوبی وزیرستان میں وانا کو جتنی اہمیت حاصل ہے، بدقسمتی سے وانا اتنا ہی دہشت گردی کا شکار رہا ہے۔ حالیہ واقع اس کی تازہ مثال ہے۔ اطلاعات کے مطابق کم و بیش 10 لوگ شہید جب کہ اس سے کہیں زیادہ زخمی ہیں۔

اس واقعے پر آئی ایس پی آر کے مطابق جب پی ٹی ایم کے کارکنوں نے ریاست اور ریاستی پشت پناہی کے نیچے پنپنے والے طالبان کے خلاف نعرے بازی کی، اس پر مشتعل افراد نے فائرنگ کی، جو کہ آی ایس پی آر کے بقول امن کمیٹی کے لوگ تھے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ آئی ایس پی آر کے بقول امن کمیٹی کا امن قائم کرنے میں اہم کردار رہا ہے۔ لیکن یہ سوال نہایت اہم ہے کہ پاکستان کا کون سا قانون کسی بھی کمیٹی یا افراد کے گروپ کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ نہتے لوگوں کو فائرنگ سے بھون ڈالیں؟

اس کا پھر سادہ سا مطلب یہ ہے کہ عدالتوں کو تالا لگایا جائے۔ مقامی ذرائع کے مطابق اس امن کمیٹی میں بیشتر ملکی و غیر ملکی طالبان ہیں، جن کو ریاست نے کھلی چھوٹ دی ہوئی ہے، وہ جب چاہیں کسی کوبھی پوچھ گچھ کے لئے اغواء کرلیں اور مقامی لوگ ان کے خلاف آواز اٹھائیں تو غداری کے مترادف ہے ٹھہریں۔

فوج کو چاہیے تھا کہ پریس کانفرنس سے پہلے ان مجرموں کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا جاتا اور پھر پی ٹی ایم پر تنقید کی جاتی، مگر ریاستی ادارے کی جانب سے وہی کچھ کیا گیا، جو برسوں سے اب ایک روایت بن چکا ہے۔