وقاص احمد

“کیا کوئی انہونی ہوئی؟

نہیں۔

کیا کچھ غیر متوقع تھا؟

نہیں

کیا کوئی ایسی خاص واردات ہوئی جس کی چیخ و پکار آپ پچھلے ایک سال سے نہیں کر رہے؟

نہیں

کیا آپ کو لگتا تھا کہ جن کے ساتھ آپ نے پنگا لیا ہے وہ خاموشی سے آپ کو جیتنے دیں گے؟

نہیں۔۔

تو بھائی پھر رولا کیا ہے؟ غصہ کس بات پر ہے؟ اتنا تپ کیوں رہے ہو؟”

یہ ہے وہ سیدھی سادھی سی بات جو اس وقت کسی جذباتی ن لیگیے کو سمجھ نہیں لگ رہی۔

ماسوائے ان خواہشات، ان خوابوں، ان جذبات کے اگر کوئی کھلے دل سے پچھلے دو سال کی پراگرس کا جائزہ لے تو یہ بات اظہر من التمش ہے کہ ووٹ کی عزت کے دشمن، ووٹ کو بے توقیر کرنے کے لئے آخری حد تک جائیں گے۔ دنیا جہاں کے اخبارات، ملکی جرائد، پڑھا لکھا طبقہ اور یہاں تک کہ اب جج بھی بول پڑے تھے کہ “سب کچھ ٹھیک نہیں ہے”. ہاں مگر تجزیہ نگاریاں اس بات پر ضرور ہو رہی تھیں کہ جیتنے کے بعد وزیراعظم عمران ہوگا، اسد عمر، شاہ قریشی، چوہدری نثار، کوئی سنجرانی، کوئی ذید، بکر یا کوئی اور للو پنجو پھتو۔ اس پر تو شک نہیں تھا کہ فوج یہ الیکشن کسی بھی صورت، کسی بھی صورت ن لیگ کو جیتنے نہیں دے گی۔
اسکی بے شمار وجوہات ہیں، لیکن ہم اگر سب سے اہم ترین وجہ کی بات کریں تو وہ فوج کے ادارے کی “عزت” کا سوال تھا۔ ہر چند حلقہ دانشوران سے بار بار صدا دی جاتی رہی کہ حضور جو گل آپ کھلا رہے ہیں اس میں ن لیگ کا اتنا کچھ نہیں جائے گا جتنا پاکستان کا جائے گا۔ لیکن یک رخی، جذباتی اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے عاری عسکری دماغ میں صرف اور صرف ایک ہی بات تھی کہ اگر آج ہم بیک آؤٹ کر جاتے ہیں تو یہ ٹکے ٹکے کے لوگ جو ووٹ کی عزت مانگتے ہیں یہ سمجھ بیٹھیں گے کہ شاید انہوں نے پہاڑ سر کر لیا۔ سو یہ “بندوبست” ناگزیر تھا۔

ن لیگی عزیزان، برادران۔۔۔مجھے نہیں معلوم کہ آپ لوگوں کی ن لیگ سے وابستگی کس نوعیت کی ہے، میرا ان سے واسطہ صرف اس حد تک ہے کہ نوازشریف، بھٹو کے بعد، اتنے عرصے بعد وہ شخصیت ہے جس نے پاکستان کے ازلی سٹیٹس-کو کو چیلنج کیا ہے اور بار بار کیا ہے۔ تو اگر آپ بھی اس بات پر یقین رکھتے ہیں تو بنا جذباتی ہوئے مان لیجئے کہ پہاڑ ایک دن میں سر نہیں ہوتے۔ ترک عوام فوجی غلامی میں ہم سے بہت پرانے تھے، جب ان کو اس سے چھٹکارا میں اتنا وقت لگا تو یہ وقت ہمیں بھی لگے گا۔

باقی رہی عمران نیازی صاحب کی وزارت عظمیٰ۔ بلاشبہ وہ اب اس منصب پر بیٹھنے جارہے ہیں۔ ان کا ایک خواب پورا ہوا اور امید کی جانی چاہیے کہ چاہے وہ یہاں تک پہنچے نہیں بلکہ پہنچائے گئے ہیں، وہ پھر بھی پاکستان کی ترقی میں اپنا حصہ بقدر جثہ ڈالیں گے۔ امید مجھے ن لیگ اور پی پی پی سے بھی ہے کہ وہ عمران کے اس جمہوری جرم کو اپنے پرانے جمہوری جرائم کا ہرجانہ سمجھیں لیکن ساتھ میں یہ عہد کر لیں کہ اب کی بار کسی ایمپائر، کسی خلائی مخلوق، کسی محکمہ زراعت کو حکومتی معاملات میں مداخلت کی نا دعوت دینی ہے اور نا ہی اسکی راہ ہموار کرنی ہے۔ کسی کو تو اس شیطانی چکر کو روکنا ہوگا ناں؟ انا کی قربانی ہے، دے دیں۔ مگر ووٹ کی عزت کی قربانی نا دیں۔ وہ تمام سوراخ سیمنٹ لگا کر بند کر دیں جہاں سے غیر جمہوری سانپ اس سسٹم کو ڈستے ہیں۔

آج سے حلف برداری کے دن اور اس کے 6 مہینے تک عمران کا ہنی مون پیریڈ ہے۔ اس دوران آپ کو غلامانہ عقیدت سے بھرے ہوئے انصافیہ میسج سوشل میڈیا پر چھائے ہوئے ملیں گے۔ ایسا لگے گا کہ شاید “تھا جس کا انتظار وہ مسیحا آگیا۔” ابھی آپ کو وہی اہل یوتھ جو 11000 میگاواٹ بجلی ن لیگ سے 2013 کے الیکشن کے اگلے دن مانگ رہے تھے، یہ آپ کو انتہائی دانشورانہ طریقے سے سمجھائیں گے کہ 70 سال کا گند ہے اور خان اکیلا ہے اس لیے اگلے پندرہ سال تو صرف صفائی میں لگ جائیں اس کے بعد کام کے بارے میں سوچیں گے۔ یہ آپ سے “انسانوں پر انوسٹمنٹ” کی مجہول اور غیر مرئی سے باتیں بھی کریں گے (آپ اس انسانوں پر انوسٹمنٹ کا مطلب مت پوچھیے گا کیونکہ پچھلے 5 سال میں کوئی مجھے بتا نہیں سکا کہ اس کا مطلب کیا ہے). یہ آپ کو جھوٹی سچی کہانیاں بھی سنائیں گے کہ خاں صاحب کے وزیراعظم بننے کے بعد پاکستان کے پاسپورٹ کی عزت میں کتنے پوائنٹس کا یک مشت اضافہ ہوا ہے۔ یہ آپ کو سمجھائیں گے کہ پاکستانیوں پر فرض ہے دن کی ہر نماز میں دو نفل شکرانے کے ہر روز باقاعدگی سے پڑھنے چاہیں کہ اللہ نے ہمیں عمران خاں کی نعمت سے نوازا۔ یہ آپ کو قائل کریں گے کہ ہم تو نیازی صاحب کے پاؤں دھو دھو کر پی رہے ہیں کہ انہوں نے اپنی آکسفورڈ کی ڈگری اور بریڈ فورڈ کی چانسلری کے باوجود اس جاہل، گنوار، گندی غلیظ قوم کا وزیراعظم بننا قبول کرکے ہم پر احسان عظیم کیا ہے۔

لیکن پھر۔۔ تقریباً چھ ماہ بعد، زبانی جمع خرچ ختم ہو جائے گا۔ کہانیاں بکنا بند ہوجائیں گی، اندھی عقیدت اب ان معجزوں کی متلاشی ہوگی جن کا وعدہ کیا گیا۔ ماضی کے جذباتی سستے انتخابی نعرے پیروں کی بیڑیاں بننے لگیں گے۔ داخلی و خارجی مسائل منہ پھاڑے سامنے کھڑے ہوں گے۔ درمیان میں بااختیار وزیراعظم بننے کی کوئی کوشش خاں صاحب کا انکے اصل آقاؤں سے پھڈا بھی کروا سکتی ہے۔ 24 گھنٹے 7 دن خاں صاحب کی جھولی اٹھا کر پھرنے والے بھانت بھانت کے مادر پدر آزاد چینلز، خاں صاحب ہی کی جان کو آجائیں گے۔ پھر آئے گا امتحان پرفارمینس کا۔ آٹے دال کا بھاؤ تب ہی معلوم ہوگا۔ بین الاقوامی تعلقات کی مجبوریاں بھی تب ہی سمجھ آئیں گی، قرضے کیوں لئے جاتے ہیں اور کیسے خرچ ہوتے ہیں یہ بھی تب ہی پتہ چلے گا۔ کے پی کے میں 5 سال حکومت کرنے کے بعد یہ دعویٰ بھی مشکل ہوگا کہ ہم تو ابھی سیکھ رہے ہیں۔ جس بلند آہنگ طریقے سے اسد عمر صاحب اپنی ذہانت و فطانت کے دریا بہاتے ہوئے ن لیگ کے وزیرِ خزانہ کو غلط ثابت کرتے تھے اب ان سے مطالبہ ہوگا کہ اپنی اسی ذہانت و فطانت کو استعمال میں بھی لائیں۔ غرض فیس بک کی بڑھکیں اب حقیقت میں بدلنا پڑیں گی۔

خاں صاحب کی صلاحیتوں پر بے تحاشہ تحفظات کے باوجود میری خواہش ہے کہ وہ کچھ کر کے دکھا دیں کہ اب کوئی بہانہ باقی نہیں بچا۔ صوبے بھی اپنے، بیوروکریسی بھی اپنی، عدالتیں بھی اپنی اور اپوزیشن کے پلے خلائی مخلوق نے کچھ چھوڑا نہیں۔ تو بسم اللہ خاں صاحب۔

Your count down starts…NOW