عاطف توقیر

ہم چھوٹے تھے، تو ہر برس چودھویں اگست ہو یا یوم پاکستان ہم جھنڈیاں خریدتے تھے، آزادی کے نغمے گاتے تھے اور ہمیں بار بار باور کرایا جاتا تھا کہ ہم آزاد ہیں۔ اس دوران کوئی وقت آیا کہ ہم نے بھی مان لیا کہ ہم آزاد ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ آزادی کہتے کسے ہیں؟ یہ کس چڑیا کا نام ہے؟ اگر یہ نعرے کا نام ہے، تو یقیناﹰ ہم آزاد ہیں۔ اگر یہ پاکستان زندہ باد کہنے کا نام ہے، تو ایسی صورت میں بھی ہم آزاد ہیں۔ اگر جھنڈیا ٹانگنے کا نام ہے، تو بھی ہم آزاد ہیں۔ اگر سینے پر بیج لگا کر خوش ہو جانے کا نام ہے، تو بھی ہم آزاد ہیں۔ لیکن کیا آزادی نعرہ اور جھنڈ لگانے یا زندہ باد کہنے کو کہتے ہیں؟

آزادی کا بنیادی مطلب یہ ہے کہ ریاست اور فرد کے درمیان ذمہ داریوں اور حقوق کا ایک دوطرفہ ربط موجود ہیں، جس میں ریاست کے حقوق کوئی فرد اپنی ذمہ داریاں سمجھ کر ادا کرے اور فرد کے حقوق ریاست اپنی ذمہ داری سمجھے۔ جہاں ہر فرد ملک کی سیاست اور اقتدار میں شریک ہو۔ جہاں لوگ مختلف موضوعات پر اپنی رائے دے سکیں، جہاں شہریوں کو ملکی پالیسیوں پر تنقید یا تعریف کا حق حاصل ہو، جہاں افراد کے اجتماع کو کسی ریاستی پالیسی کے خلاف پرامن انداز سے احتجاج کرنے کا حق حاصل ہو۔ جہاں ریاست ملک میں بسنے والوں کو معیاری تعلیم، صحت، تحفظ اور روزگار کی ضمانت دے اور معیار زندگی میں بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

ہم 14ویں اگست 1947 کو برطانوی سامراج کے چنگل سے نکلے تھے۔ سوال یہ ہے کہ کیوں نکلے تھے؟ جواب یہ ہے کہ برطانوی سامراج میں ریاست اپنی ذمہ داریاں تو ادا کرتی نہیں تھی مگر ہم سے حقوق پورے طلب کرتی تھی۔ ہمارے وسائل لوٹتی تھی، ملکی سیاست میں ہماری رائے کو کوئی احترام نہیں تھا۔ قانون سازی ہماری منشا پر استوار نہیں تھی، ہمارے دھرتی سے اگنے والے غلے کا بہترین حصہ لندن روانہ ہو جاتا تھا، معدنی وسائل ٹرینوں پر لاد کر بندرگاہوں اور وہاں سے بحری جہازوں کے ذریعے یورپ منتقل ہو جاتے تھے۔ ہماری دھرتی ہی کے بیٹوں کو بندوق دے کر اور وردی پہنا کر ہمارے ہی لوگوں کو دبانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ کسی کو احتجاج کی اجازت نہیں تھی۔ کرنل ڈائر نے احتجاج کرنے والوں کو جلیانوالہ باغ میں توپوں سے کچل دیا تھا۔ ہر وہ شخص جو حقوق کے لیے آواز اٹھاتا تھا، اسے گرفتار کر لیا جاتا اور غداری کے جرم میں سزا سنا دی جاتی۔

آج برطانوی سامراج کو اپنی دھرتی سے بھگانے کے اکہتر برس ہونے کو ہیں۔ مگر حالات ویسے کے ویسے ہیں بلکہ زیادہ گمبھیر۔ مگر آئیے آج اس یوم پاکستان پر اپنے گریبان میں جھانک کر آزادی کا جائزہ لیں۔

آج بھی ریاست اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی بجائے ہم سے پورے حقوق طلب کرتی ہے۔ ملک میں غربت کی شرح جو برطانوی دور میں تباہ کن تھی، آج اس سے بھی زیادہ خوف ناک ہو چکی ہے۔

تب بھی ایک فیصد سے کم گورے تھے، جو ہمارے سر پر گِدھوں اور خون آشام چمگادڑوں کی طرح منڈلاتے رہتے تھے اور آج بھی ایک فیصد اشرافیہ ہمارا خون چوستی ملتی ہے۔

تب بھی وردی والا جنرل کرنل اور کوٹ والا وائسرائے اپنے مفادات کے لیے ہمیں ذلیل کرتا تھا۔ آج بھی کوٹ اور وردی والے ہمیں انسان نہیں سمجھتے۔ تب بھی کسی کنٹونمنٹ میں داخل ہونے پر کتوں اور ہندوستانیوں کا داخلہ منع ہے کا بورڈ دکھائی دیتا تھا آج بھی ہمیں اپنی ہی سرزمین پر قائم کر دیے جانے والی جگہ پر جاتے ہوئے ’کون ہو، کیوں آئے ہوں‘ سننا پڑتا ہے۔

تب ہم حقوق مانگنے کے لیے آواز اٹھاتے تھے، تو ہمیں غداری کے جرم میں گرفتار کر لیا جاتا تھا، آج ہمیں غائب کر دیا جاتا ہے۔ تب ہمیں پھانسی دی جاتی تھی آج ہماری مسخ شدہ لاشیں ملتی ہیں۔ تب ہم احتجاج کرنے نکلتے تھے، تو ہم پر ڈنڈے برسائے جاتے تھے، آج ہم پرامن طور پر باہر نکلیں تم ہم پر گولیاں داغی جاتی ہیں۔

تب بھی ہم حکومتی پالیسیوں پر بات کرتے تھے، تو غلامی اور خوف میں جکڑے ہوئے ہمارے لوگ ہم سے کہتے تھے، یہ بات گوروں نے سن لی، تو مارے جاؤ گے اور آج بھی کہا جاتا ہے کہ وردی والوں کے بارے میں بات نہ کرو ورنہ پتا بھی نہیں چلے گا کہ کہاں گئے۔

تب گورا ہماری دھرتی کا سینہ چیر کر وسائل لوٹ لیتا تھا اور آج بھی ایک طبقہ اسی بے رحمی سے دھرتی کا سینا نوچ رہا ہے۔ کل بھی ان وسائل پر دھرتی کے باسیوں کا کوئی حصہ نہیں تھا، آج بھی ہمارے وسائل لوٹنے والے بدلے میں ہمیں بھوک، پیاس اور تذلیل سونپ کر جا رہے ہیں۔

تب ہم سر اٹھاتے تھے، تو ہماری موچھیں اور سر کے بال کاٹ کر ہمیں رسوا کیا جاتا تھا کہ ہم ذلت کے ہاتھوں مر جائیں اور اپنی اپنی برادریوں میں کبھی سر اٹھا کر نہ چل سکیں، آج بھی چیک پوسٹوں پر بندوق برداروں سے فقط عزت کی بھیک مانگنے پر ہماری شلوریں کاٹ کر ہم پر ہنسا جاتا ہے اور مرغا بنا کر کان پکڑوائے جاتے ہیں۔

یعنی اقتدار میں شرکت نہ تب تھی نہ اب ہے، حقوق مانگنے کی اجازت نہ تب تھی نہ اب ہے، پالیسی سازیوں پر تنقید کا حق نہ تب تھا نہ اب ہے، وردی والوں پر بات نہ تب ہو سکتی تھی نہ اب، وسائل کی لوٹ مار تب بھی تھی اور اب بھی ہے، ایک فیصد اشرافیہ تب بھی تھی اور آج بھی ہے۔

یعنی اس صورت حال میں آزادی اور غلامی کے درمیان کوئی فرق نہیں پڑا بلکہ صورت حال پہلے سے زیادہ خراب ہوئی ہے۔
اب اگلا سوال خود یہ پوچھنے کی ضرورت ہےکہ تعلیم کا معیار اور تدریسی صورت حال تب بہتر تھی یا آج ہے؟
صحت کی صورت حال تب بہتر تھی یا آج ہے؟ ٹرانس پورٹ کا نظام تب اچھا تھا یا آج ہے؟ روزگار کے مواقع تب ٹھیک تھے یا اب ہیں؟ سلامتی کے حالات تب تسلی بخش تھے یا آج؟ قانون کی بالادستی تب ٹھیک تھی یا آج ہے؟ امن و امان تب تھا یا آج ہے؟

یوم پاکستان کے دن ایک اور سوال ہمیں خود سے کرنے کی ضرورت ہے وہ یہ کہ آزادی کے ستر برس بعد بھی، بیج اور جھنڈے لگا لینے کے بعد بھی، قومی نغمے گانے کے بعد بھی، پاکستان زندہ باد کہہ لینے کے بعد بھی، آزادی لینے کے بعد بھی غلامی کے دور اور آج کے دور میں کیا بدلاؤ آگا ہے؟ اور اگر نہیں آتا ہے، تو کس طرح یہ بدلاؤ آ سکتا ہے؟

جواب یہ ہے کہ اس ایک فیصد کندھوں پر سیاہ ستاروں والے جرنیلوں اور کوٹ پہننے والے سیاست دانوں سے جان چھڑائے بغیر یہ ممکن نہیں ہے۔ پاکستان زندہ باد کرنا ہے، تو پاکستانی قوم کو زندہ باد کرنا ہو گا۔ قوم کو زندہ باد کرنا ہے، تو معیاری تعلیم، صحت اور روزگار کو ترجیح بنانا ہو گا اور اس ایک فیصد سے جان چھڑانے کے لیے ایک پرامن مگر مربوط تحریک شروع کرنا ہو گی۔ جھنڈی نعرے بیچنے والے ہمیں اور ہماری سرزمین کو لوٹتے رہیں گے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here