زوہیب احمد پیرزادہ

بیسویں صدی میں فاشزم معاشی بحران کے سبب ابھرا تھا اور فاشسٹس نے بڑے پیمانے پر لوگوں سے حمایت حاصل کی۔ اسی طرح اکیسویں صدی میں فاشزم معاشی بحران کا جواب ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں، فاشزم، اکیسویں صدی میں مختلف ہے، جیسا کہ اعجاز احمد لکھتے ہیں، “ہر ملک کو ویسا ہی فاشزم ملتا ہے جس کا وہ مستحق ہوتا ہے “۔ اس کا مطلب ہے، “اگرچہ، پوری دنیا میں، ایک صدی یا اس سے بھی زیادہ، فاشزم ہر ملک میں ایک مخصوص صورت اختیار کرتا ہے جو اس ملک کے تاریخی قیام کے مطابق ہوتا ہے ،” فاشزم خلا میں سے نہیں ابھرتا، یہ اقتصادی، تاریخی، سیاسی، مقامی اور بین الاقوامی ترتیبات کی وجہ سے ہوتا ہے۔ آج کی اقتصادی اور سیاسی ترتیبات مختلف ہیں، لہذا، فاشزم مختلف ہے اور سب سے اہم بات یہ کے USSR نہیں رہا۔

اس سے ایک کہانی یاد آتی ہے، جب روم میں لوگ اقتصادی حالات کے وجہ سے بغاوت کے لئے تیار تھے، تو وہاں، روم کے حکمران نے لوگوں کوبیوقوف بنایا، ان میں دولت تقسیم کی اور وقت گزرنے کے ساتھ، آہستہ آہستہ، اپنی حکمت عملی اور ٹیکس کے ذریعے لوگو سے ساری دولت واپس لے لی۔ اس کہانی کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کے جس کے پاس دولت اور طاقت ہوتی ہے وہ کیسے لوگوں کو بیوقوف بناتے ہیں۔ اگرچہ، یہ کہانی اپنے تناظر میں مختلف ہے، مگر یہ بہت کچھ بتاتی ہے کہ کیسے اشرافیہ سماجی انقلاب کی آگ کو بجا دیتی ہے۔

نیو لبرل ازم ایک نامعقول نظریہ ہے۔ معیشت کچھ ہاتھوں میں ہے، ورکنگ کلاس کے حالات بدتر ہو چکے ہیں، امیروں اور غریبوں میں فرق ڈرامائی انداز میں بڑھ چکا ہے، بنیادی سہولیات تشویش ناک ہیں، لوگ دو سے تین ملازمتیں کرنے پر مجبور ہیں، خودکشی کر رہے ہیں، اربنائزاشن کی وجہ سےمضافاتی غریب بستیوں کے حالات بدترین ہیں، ملٹری-انڈسٹریل-کامپلکس چوٹی پہ ہے، تشدد اور دہشت گردی دنیا بھر میں پھیل چکے ہیں، گلوبل کلائمیٹ بدترین ہوتی جا رہی ہے اور اس افسوسناک حالت میں، پلوٹوکریٹس اور نیو فاشسٹس بدتر صورتحال کو اور بھی بدترین بنا رہے ہیں اور دنیا کو مزید بحران کی جانب دھکیل رہے ہیں۔

وائٹ ہاؤس میں نیو-فاشسٹ کا ابھرنا، یورپ میں پاپولسٹ شدت پسند دائیں بازو کی جماعتیں، بھارت میں الٹرا-نیشنلسٹ بی جے پی اور یہاں پاکستان بھی خوفناک سیاسی صورتحال سے گزر رہا ہے۔ یہ ایک صورتحال ہے جہاں سے خوفناک شکلیں جنم لیتی ہیں۔ پاکستان میں سویلین گورنمنٹ کی ناکامی، شدت پسند دائیں بازو کا ابھرنا، سیاسی اور اقتصادی بحران فاشزم کی طرف لے جا سکتا ہے۔ سماج میں پری-کنڈیشنس تیار اور موجود ہیں، فیض آباد کے درنے کے بعد فاشسٹس رجحانات کی نشاندہی کی جا سکتی ہے۔ پاکستان میں ہمیں پروٹو-فاشزم نظر آتا ہے یعنی ایسے نظریات جو فاشزم کی بنیاد رکھتے ہیں۔ ماضی میں ہمیں پروٹو-فاشسٹ کی ایک مثال ملتی ہے جس کا نام تھا Gabriele DAnnunzio ، وہ ایک اطالوی قوم پرست تھا جس نے فاشزم کی بنیاد بنائی اور Mossolini اس سے، اوراس کی سیاست سے متاثرتھا۔

پاکستان میں پروٹو-فاشزم اقتصادی، سیاسی اور سماجی بحران کی وجہ سے پیدا ہو رہا ہے، اور اس vaccum کو بھرنے کی کوشش کر رہا ہے جو سویلین گورنمنٹ نے چھوڑا ہے۔ مختصر یہ کہ فاشزم کے بیج بوئے جا رہے ہیں اور انھیں پانی دیا جا رہا ہے، یہ کب بڑھ کے ایک بڑا پیڑ بنے گا، معلوم نہیں۔ اس پیچیدہ سیاسی صورتحال میں، ایک متبادل کی اشد ضرورت ہے؛ اس سے قبل کہ بہت دیر ہوجائے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here