زوہیب احمد پیرزادہ 

’پاپولزم‘ یا عوامیت پسندی کا ابھار، اور جس تیزی اور کثرت سے اس اصطلاح  کا استعمال کیا جا رہا ہے، یہ سب مغرب میں اقتصادی اور سیاسی بحران کا باعث ہے. مغرب کے لوگ  قائم کردہ آرڈر سے مطمئن نہیں رہے اور اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہو رہے ہیں، اسی وجہ سے ایلیٹ کلاس یا اشرافیہ فقط اپنے مفادات کی خاطر”ہم اور وہ” کا ایسا بیانیہ تعمیر کر رہی ہے، تاکہ لوگو کے discontents  کوایک الگ رخ دیا جائے اور قائم کردہ آرڈر کو برقرار رکھا جائے۔ Gramsci کے الفاظ میں، یہ ایک ’’passive revolution‘‘ ہے، یہ ہرگز سماجی انقلاب نہیں ہے، اس کے برعکس، یہ ایک ایسا انقلاب ہے جس سے غالب طبقہ اور اشرافیہ اپنی طاقت اور استحصال کو جاری رکھتے ہیں۔

 
عوامیت پسند ٹرمپ کی فتح اور اس کی پروٹیکشنسٹ اور اے لبرل پالیسیز، یورپی یونین سے برطانیہ کا اخراج (بریگزٹ)، فرانس، نیدرلینڈز اور آسٹریا میں پاپولسٹ اور انتہائی دائیں بازو کی تنظیموں کی مقبولیت میں اضافہ، یہ سب سیاسی بحران اورنیو-لبرل  پالیسیز کی ناکامی کی نشانیاں ہیں. یہ صورت حال خطرناک ہے، جیسے Gramsci کہتا ہے، ’’یہ بحران اس حقیقت پر مشتمل ہے کہ پرانا مر رہا ہے اور نیا پیدا نہیں ہو سکتا، اس درمیان (interregnum) میں، بگڑی ہوئی علامات کی ایک بڑی قسم ظاہر ہوتی ہے۔
 
پاپولزم، ایک ایسی اصطلاح ہے، جو مبہم، گُمراہ کُن اور غیر واضح ہے۔ اس کی وضاحت کرنا مشکل ہے،  کیوں کے اس کی درجنوں مختلف تعریفیں ملتی ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاپولزم کو کیوں ایک عام اصطلاح بنایا جا رہا ہے اور اس پہ بحث کی جا رہی ہے، جیسے ماضی میں ’’End of History‘‘ اور ’’Clash of Civilizations‘‘ جیسی اصطلاحات کے چرچے رہے ہیں؟  چوں کے پاپولزم ایک گُمراہ کُن اصطلاح ہے، تبھی اس کو متعارف کیا گیا ہے، تاکہ نیو فاشزم اور فاشزم کو بدلا جا سکے۔ یہی Andrea Mammone نے اپنے کتاب Transnational Neo-fascism in France and Italy میں بتایا ہے کہ کیسے پاپولزم کو جان بوجھ کر متعارف کیا گیا۔ پاپولزم عوام کے لیے ایک نظریاتی جال ہے اور لوگ اس جال میں جکڑے ہوئے ہیں۔ تبھی بہت سے لوگ ٹرمپ کو پاپولسٹ کہتے ہیں نیو فاشسٹ نہیں۔
 
پلوٹوکریٹ ٹرمپ کی فتح نے بہت سے لوگوں کو الجھن میں ڈال دیا ہے۔ اس الجھن سے نکلنے کے لیے بیسویں صدی کے معروف سیاسی دانشور Gramsci  کو پڑھنا ضروری ہے۔ اس کے لیے Hegemony کا تصّور انتہائی اہمیت رکھتا ہے کہ کیسے اقتصادی اور سماجی دشواریوں کو جذباتی اور نفسیاتی مسائل میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ بڑے پیمانے پر ’ماس کلچر‘ کو استعمال کرنے سے عام لوگ اسی کو حقیقت ماننے لگتے ہیں جو ایک  عوامیت پسند رہنما انہیں بتاتا ہے۔ اس کو Gramsci ‘کامن سینس’ کہتا ہے جو کہ کریٹیکل تھنکنگ یا ناقدانہ سوچ کے بالکل خلاف ہے۔ ٹرمپ جیسے رہنما اپنے بیانیے اور تقریروں سے لوگوں کے دماغوں کو اپنی طرف مائل کرتے ہیں، اور لوگ اسی کو ایک حقیقت ماننے لگتے ہیں۔ وہ رومانٹک اور جذباتی بیانات کا استعمال کرتے ہیں اور عوام کو بتاتے ہیں کہ جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں وہی سچ ہے۔ جیسے ٹرمپ کا مشہور نعرہ ’’میک امیرکا گریٹ آگین‘‘ جیسے امریکا پہلے بھی عظیم تھا۔ نسل پرستانہ جملے، جارحانہ بیان بازی، اسلامو فوبیا، قوم پرستی، مہاجرین مخالفت، ماحول مخالفت، ہومو فوبیا، میڈیا کی مخالفت، پولیس اسٹیٹ اور یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنا۔ یہ سب اور بہت کچھ، ٹرمپ سے وابستہ ہے، یہی نیو فاشزم ہے۔    
 
اقتصادی بحران کے دوران لوئر مڈل کلاس فاشسٹس کے لیے ’ریزرو آرمی‘ بن جاتی ہے اور فاشسٹس اس کلاس میں اپنی بنیاد بناتے ہیں۔ Walter laquer اپنی کتاب Fascism : Past, Present and  Future میں بتاتے ہیں کہ کیسے انتہائی شدید قوم پرست رجحانات بنیادی طور پر لوئر مڈل کلاس کی نسوں میں بسے ہوئے ہوتے ہیں، اور وہ مونو پولسٹک کپیٹل کےاتحاد میں شامل ہوتے ہیں۔ امریکا میں، لوئر مڈل کلاس آبادی کا ایک تہائی کے قریب ہے اور یہی سے ٹرمپ نےاپنی سپورٹ حاصل کی۔
 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here