مہناز اختر

گزشتہ برس اسی دن  یعنی 4 جنوری کے روز قصور کی آٹھ سالہ زینب انصاری لاپتہ ہوئی تھی اور پانچویں دن کچرے کے ڈھیر سے اسکی تشدد زدہ لاش برآمد ہوئیں۔ زینب کا کیس پاکستان میں ماڈل کیس کی طرح لیا گیا اور ریکارڈ مدت میں اسکی تفتیش کرکے زینب کے مجرم کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ زینب زیادتی قتل کیس نے پاکستان سمیت پوری دنیا میں تہلکہ مچادیا تھا۔ زینب واقعے نے عوام کے ساتھ ساتھ پاکستانی میڈیا اور شوبزکی شخصیات کو بھی کچھ وقت کے لیۓ  خوابِ غفلت سے بیدار کردیا۔ ایک خاتون اینکر اپنی چھوٹی سی بچی کو اٹھاۓ جذباتی انداز میں ہنگامی نیوز ٹرانسمیشن کرتی رہیں اور شوبز سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون  نے پوری  دنیا کو بچپن میں اپنے ساتھ ہونیوالی زیادتی کی داستان سنا ڈالی۔ ہر طرف سے بچوں کو ”سیکس ایجوکیشن“  دیئے جانے کا مطالبہ ہونے لگا اور اسی پس منظر میں پاکستان میں ”می ٹو“ کی مہم بھی نمایاں ہوکر منظرعام پر آئی۔ اس شورشرابے سے قطع نظر یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا زینب پاکستان میں ظلم کا شکار ہونیوالی آخری بچی ثابت ہوئی اور کیا ہم نے سنجیدگی سے ان عوامل کا جائزہ لینے کی کوشش کی جو اس قسم کے سانحات کی وجہ بنتے ہیں؟

پورے سال ہم بچوں کے قتل اور زیادتی کے واقعات کی خبریں سنتے رہے پر دسمبر میں بچوں کے ساتھ زیادتی اور قتل کے مسلسل واقعات نے میری روح اور قلم  دونوں کو جھنجھوڑ کر مجھے اس موضوع پر لکھنے پر مجبور کردیا۔ دسمبر کے آخری ہفتے میں نوشہرہ میں  کھیتوں سے آٹھ سالہ مناہل کی لاش ملی جسے زیادتی کے بعد سر کچل کر ہلاک کردیا گیا تھا۔ دوسرا واقعہ حویلیاں میں پیش آیا جہاں تین سالہ فریال کو زیادتی کے بعد سخت سردی میں برہنہ حالت میں کھلے آسمان تلے مرنے کو پھینک دیا گیا جسکے نتیجے میں اسکی موت واقع ہوگئ۔ دسمبر ہی کے مہینے میں  بھکّر کے علاقے کوٹلہ جام میں سات سالہ حبیب کی گمشدگی کی رپورٹ درج کروائی گئی بعد ازاں کھیتوں میں حبیب  کا نچلا دھڑ پایا گیا، بالائی حصّے کی تلاش  اب تک جاری ہے۔ پوسٹمارٹم کی رپورٹ کے مطابق بچے کو قتل سے پہلے کئ بار زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ بچوں سے زیادتی کے ان پے در پے واقعات کے باوجود بھی اس بار میڈیا اور سوشل میڈیا پر کوئی طوفان نہیں آیا اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ہمارے شوبز ستارے نیو ائیر اور ”انبانی تھیم پارٹی“ کی تصاویر پوسٹ کرتے رہے۔ ستم ظریفی یہ کہ ہمارے وزیراعظم اور انسانی حقوق کی وزیر محترمہ شیریں مزاری بھی اپنے ملک کے بچوں پر ہونیوالے ظلم سے انجان رہے۔ کیا ہم بحیثیت معاشرہ بے حس اور مفلوج ہوچکے ہیں جو اس بار اس قسم کے واقعات پر ”چیخ“  بھی نہیں پائے؟

بھوک کاروبارِحیات کا ایسا قوی محرک ہے جو انسان کو عمل اور ردِعمل پر اکساتا ہے. پاکستان بحیثیت مجموعی بھوکوں کا معاشرہ ہے۔ ہم نفسیاتی طور پر بھوکے اور اخلاقی سطح پر قلّاش قوم ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ غذائی قلت اور غربت کے  موضوع پر تو ہمارے یہاں بہت بات ہوتی ہے لیکن بھوک کی دوسری اہم ترین قسم یعنی جنسی خواہشات یا جنسیات پر معاشرے میں سنجیدہ تحقیق اور علمی مکالمہ ناپید ہے۔ اس طرح کے مکالموں سے ہمیں انسانی جنسی رویوں، رجحانات اور گھٹن کو سمجھنے  میں مدد ملتی ہے اور کسی حد تک اس گھٹن کے شکار افراد کو اخلاقی اور نفسیاتی مدد بھی فراہم کی جاسکتی ہے۔ غیر معمولی جنسی گھٹن یا فینٹسی کے شکار افراد میں کہیں نہ کہیں ایک جنسی شکاری چھپا ہوتا ہے جو کبھی بھی شکار پر آمادہ ہو سکتا ہے۔ چند سال قبل ایک پاکستانی فلم  ڈائریکٹر محمد نقوی نے اپنے دو برطانوی ساتھیوں کی مدد سے   Pakistan’s Hidden Shame  نامی ایک انتہائی چشم کشا ڈاکیومینٹری فلم بنائی تھی۔ یہ فلم خیبر پختونخواہ  میں ”بچہ بازی“ کا شکار ہونیوالے بچوں پر بنائی گئی ہے۔ اس فلم کا مرکزی کردار گھر سے بھاگا ہوا ایک نوعمر لڑکا نعیم ہے جس نے کئی بار صرف ایک وقت کے اچھے کھانے کے عوض اپنے جسم کا سودا کیا اور کئی بار نعیم کو زبردستی جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ جنسی زیادتی نے نعیم کی شخصیت کو بری طرح کچل کر اسے  بے بسی ، خود نفرتی اور احساس ندامت میں مبتلا کردیا ہے۔ نعیم نشے کا عادی ہے اور نعیم نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ اسنے خود کئی بار جنسی لذت کے حصول کی خاطر کم عمر بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا ہے۔ یہ جاننے کے باوجود بھی کہ یہ عمل غلط ہے وہ اس فعلِ  بد کا عادی ہوچکا ہے۔ ماہرینِ جرمیات اور نفسیات کا ماننا ہے کہ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والوں کی اکثریت ایسے افراد پر مشتمل ہوتی ہے جو خود بچپن میں بدترین جنسی زیادتی کا شکار ہو چکے ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق مجرمانہ ذہنیت رکھنے والا شخص عام طور تین وجوہات کی بناء پر بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بناتا ہے ١- انتقام یا ردِعمل کے طور پر   ٢- کسی غیرمعمولی جنسی رجحان یا پیڈوفیلیا کی وجہ سے  ٣- کیونکہ بچے آسان شکار ہوتے ہیں۔

پیرافیلیا یا غیر معمولی جنسی رجحانات کی کئی جہتیں ہیں۔ اس میں سے ایک جہت کسی مخصوص عمر کے انسانوں میں جنسی کشش محسوس کرنا ہے۔ عمر کی درجہ بندی کے حوالے سے  پیرافیلیا کی چھ  بنیادی اقسام  ہیں۔

١- انفینٹوفیلیا Infantophilia یا نیپیوفیلیا، اس رجحان کا حامل شخص پانچ سال سے کم عمر بچوں میں جنسی کشش اور ان سے جنسی عمل کی خواہش محسوس کرتا ہے۔

٢- پیڈوفیلیا Pedophilia میں مبتلا شخص دس سے سولہ برس کی عمر کے بچوں میں جنسی کشش اور ان سے جنسی عمل کی خواہش محسوس کرتا ہے۔

٣- ہیبی فیلیا Hebephilia  میں مبتلا شخص گیارہ سے چودہ برس کی عمر کے بچوں میں جنسی کشش اور ان سے جنسی عمل کی خواہش محسوس کرتا ہے۔

٤- ایفیبوفیلیا ephebophilia  میں مبتلا شخص پندرہ سے انیس برس کے افراد میں جنسی کشش اور ان سے جنسی عمل کی خواہش محسوس کرتا ہے۔

(پیرافیلیا کی مذکورہ بالا تمام اقسام پیڈوفیلیا کے زمرے میں ہی آتی ہیں)

٥- میسو فیلیا Mesophilia  میں مبتلا شخص درمیانی عمر کے افراد میں جنسی کشش اور ان سے جنسی عمل کی خواہش محسوس کرتا ہے۔

٦- جیرانٹو فیلیا Gerontophilia میں مبتلا شخص عمر رسیدہ افراد میں جنسی کشش اور ان سے جنسی عمل کی خواہش محسوس کرتا ہے۔

پیڈوفیلیا ایک بیمار جنسی رویہ ہے اس لیۓ اسکا بروقت علاج یا تشخیص ضروری ہے۔ دنیا بھر میں اٹھارہ سال سے کم عمر افراد کو قانونی طور پر نابالغ تسلیم کیا جاتا ہے اور اس عمر کے کسی بھی فرد سے جنسی تعلق یا شادی قانوناً جرم ہے۔ پاکستان میں جب کبھی  بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کا کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے تو روایتی اور مذہبی طبقہ ایسے واقعات کو دین سے دوری کا نتیجہ بتا کر معاشرے اور مظلوم کو ہی قصوروار ٹہرانے لگتے ہیں۔ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ ہم پاکستان میں اب تک اس بات کی وضاحت نہیں کرپاۓ ہیں کہ درحقیقت ہم کسی کو ”بچہ/بچی“  قرار دینے کے لیۓ عمر کی کس حد کا تعین کرتے ہیں۔ ایک طرف قانونی طور پر اٹھارہ سال سے کم عمر افراد کو نابالغ، کم سن اور بچہ تصور کیا جاتا ہے دوسری طرف ہمارے علماۓ کرام آۓ روز کم عمری کی شادی پر زور ڈالتے ہیں اور جسمانی بلوغت کو پہنچنے والے افراد کو مکمل طور پر عاقل و بالغ تصور کرتے ہیں پھر چاہے اس بچے یا بچی کی عمر نو سے گیارہ سال کے درمیان ہی کیوں نہ ہو۔ ایسا مذہبی رجحان رکھنے والے افراد بلوغت کو پہنچ جانے والے بچوں کو جنسی عمل کے لیۓ تیار اور مناسب تصور کرتے ہیں۔

زینب زیادتی قتل کیس پر خوب شور شرابہ کرنے کے بعد ہمارا دل احتجاج سے بھر چکا ہے۔ میں اس مسئلے کے دیرپا حل کے لیۓ سماج کے بااثر افراد کی جانب ہی دیکھتی ہوں۔ مجھے پاکستان کی مذہبی،سماجی اور سیاسی طبقہ اشرافیہ سے صرف اتنا کہنا ہے کہ آپ کا حلقہ اثر بے انتہا وسیع ہے۔ اب وقت آچکا ہے کہ آپ حضرات سنجیدہ  اور متحد ہوکر سماجی تزکیہ پر کام کریں ورنہ یقین مانیے آپ کتنا بھی مشک و زعفران سے نہا کر آجائیں یا کتنا بھی ماڈرن لباس زیب تن کرکے بین الاقوامی ایوارڈ شوز میں شرکت کرلیں، مکہ مدینہ کے دورے کریں یا مغربی ممالک میں ہنی مون منائیں بہرحال آپکا حوالہ پاکستان ہے اور بدقسمتی سے باہر کی دنیا میں پاکستان کا تعارف بھوک، مفلسی، گندگی اور بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات ہی ہیں۔ ثابت ہوچکا ہے کہ عمران جیسے مجرمان کو سخت سزائیں دینے کے باوجود بھی ہم اس مسئلے کو حل نہیں کرسکتے۔  ہمیں یہ بات سمجھنی ہوگی کے ہمارا مسئلہ ”سیکس“ کی تعلیم یا نالج دینا نہیں ہے بلکہ ہمارا مسئلہ پاکستانی بالغان کی جنسیاتی اور اخلاقی تربیت کرنا ہے۔