عاطف توقیر

دنیا ایک عجیب طلسماتی مقام ہے۔ جہاں ایک خاص طبقے نے ایک طرف زمین کے وسائل پر قبضہ کر رکھا ہوتا ہے اور انہیں لوٹے ہوئے وسائل سے انہیں دماغوں سے سوال چھین کر انہیں بنجر بنایا جاتا ہے۔

کہیں مذہب، کہیں ذات، کہیں قومیت، کہیں ثقافت، کہیں رنگ، کہیں نسل، کوئی بھی جذباتی نعرہ، کوئی بھی آسانی سے بک جانے والے نظریہ ایک جال کے طرح بنا جاتا ہے اور لوگ اس جال میں ٹھیک اسی طرح پھنس کر رہ جاتے ہیں کہ جیسے کوئی مکھی کسی مکڑے کے جال میں آ پھنسی ہو۔ وہ اس جال سے نکلے کی کوشش کرتے ہیں، تو جال کے تان بانے اور آن دبوچتے ہیں اور نتیجہ بے بسی اور اپنے ہاتھ پیر مارنے کی سعی چھوڑ دینے کی صورت میں بیدار ہوتا ہے۔

انسانی فکر کی بنجر زمینوں کی سیرابی اور علم کی فصل، سوال کے بیج سے پھوتی ہے اور استحصال کے معاشرے کی پہچان ہی یہ ہے کہ وہ انسانی دماغ سے سوال چھین کر وہاں یقین ڈال دیا جاتا ہے۔ اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ خود استحصال کا شکار لوگ اپنی ہی استحصالی اور ظالمانہ طاقت کے وجود کی ناز برداری بلکہ نجات دہندہ سمجھنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اور وقت گزرتا ہے تو یہی لوگ رنگ، نسل، مذہب اور قومی بلکہ قومی سلامتی جیسے کھوکھلے نعروں پر فخر تک کرنا شروع کر دیتے ہیں، جن کی اساس انہیں محکوموں اور مظلوموں کے خون پر کھڑی ہو۔

زیادہ قابل حیرت اور افسوس بات یہ ہے کہ غلامی کو فخر کی سب سے بڑی دلیل یہ ہوتی ہے کہ دوسرا تو ہم سے بھی زیادہ غلام ہے۔
چند روز ہونے میری ملاقات لندن میں ایک پاکستانی ہندو سے ہوئی۔ میں اس کے ساتھ کچھ دیر بیٹھا رہا۔ میں جاننا چاہتا تھا کہ پاکستان میں مقیم ہندو برادری کو کن کن مسائل کا سامنا ہے۔ اسی گفت گو کو ایک ویڈیو کی صورت میں آپ دوستوں سے بھی بانٹا کہ شاید آپ تک اپنے ملک کی اس اقلیتی آبادی کا دکھ ہم سمجھ پائیں، جو اتنی ہی پاکستانی ہے، جتنے آپ اور میں۔

مگر کچھ دوستوں کا اس پر جواب تھا کہ پاکستان میں اقلیتیں موجیں کر رہی ہیں، بھارت میں اقلیتوں کا حال دیکھیے۔ مزے کی بات ہے کہ گزشتہ روز کسی نے ایک بھارتی ٹی وی چینل کے ایک پروگرام کا ایک ویڈیو کلپ شیئر کیا۔ اس میں بی جے پی کا ایک رہنما ایک کشمیری رہنما کے سامنے اچھل اچھل کر پورے یقین سے بتا رہا تھا کہ بھارت میں مسلمان اور کشمیری موجیں کر رہے ہیں، پاکستان میں اقلیتوں کا حال دیکھو۔

کچھ عرصے قبل ایک اسرائیلی ٹی وی چینل پر ہونے والے مباحثے کا ایک ٹکڑا سوشل میڈیا پر نظر آیا، جس میں ایک تنگ نظر یہودی یہ بیان فرما رہا تھا کہ فلسطین موجیں کر رہے ہیں، شام اور دیگر خطوں میں ان کا حال دیکھو۔

سوال یہ ہے کہ اگر پاکستان میں واقعی ہندو، سکھ، مسیحی یا ہندو موجیں کر رہے ہیں، تو پھر بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں اور کشمیریوں کی تباہ حالی کا ذکر ساتھ ہی کرنا کیوں ضروری ہے؟

اس کو ایک مثال سے سمجھتے ہیں۔ کیا آپ نے اپنے بچے کو گھر میں کھیلتے کودتے یا زندگی جیتے ہوئے اچانک ٹوکتے ہوئے کہا ہے کہ تم پڑوس میں رہنے والے یتیم اور غریب بچے کا حال دیکھو؟ ایسا فقط آپ اسی صورت میں کہتے ہیں جب وہ بچہ آپ سے کوئی شدید نوعیت کی شکایت کرے۔ سوال لیکن پھر یہ ہے کہ اگر یہ ہندو اور سکھ یا دیگر اقلیتیں ’موجیں‘ کر رہی ہیں، تو شکایت کیا ہے؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر انہیں کوئی شکایت ہے، تو ان کے ساتھ بیٹھ کر ان کا دکھ سنجیدگی سے سننے میں کیا مضائقہ ہے؟

جب پاکستان بنا، تو پاکستان کا مغربی حصہ (نصف حصہ)، جسے اب ہم ’خدا نے پاکستان ہمیشہ رہنے کے لیے بنوایا ہے‘‘ اور ’’مملکت خدادادِ پاکستان‘ کے نام سے پورا پاکستان اور پچھلے کچھ عرصے سے نیا پاکستان پکارتے ہیں، یہاں بسنے والی اقلیتوں کی تعداد 23 فیصد تھی۔ سن 1974ء میں احمدیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دینے کے بعد ان کی تعداد میں اضافہ ہونا چاہیے، تھا مگر اس وقت پاکستان میں بسنے والی اقلیتوں کی مجموعی تعداد کل آبادی کا قریب تین فیصد بچی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ غیرمسلم پاکستان میں ’موجیں‘ مار رہے ہیں، تو یہ اپنا دیس چھوڑ کر کہاں جا رہے ہیں اور کیوں جا رہے ہیں؟

کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم بھی ریاستی پروپیگنڈا میں بتائے جانے والے ’سب اچھا ہے‘ کی نذر ہو کر اپنی دھرتی پر صدیوں سے بسنے والے اپنے غیرمسلم بھائیوں اور بہنوں کے دکھ، تکلیفیں یا شکایتیں سننے کی حس ہی کھو چکے ہیں۔ بالکل ویسے جیسے بھارت میں کوئی قوم پرست ہندو یا کوئی بی جے پی کا لیڈر یہ ماننے کو تیار نہیں کہ بھارت میں بسنے والی اقلیتوں کو مسائل کا سامنا ہے یا جیسے کوئی ٹی وی چینلوں کی خبروں کو حقیقت سمجھ بیٹھنے والا ہندوستانی باشندہ جس کی نظر میں کشمیریوں کی آزادی کی جدوجہد صرف ایک ڈرامہ ہے اور وہاں مظاہروں میں شرکت کرنے والے پاکستان سے آتے ہیں؟

ایک اور سوال خود سے کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ یہ کہ اگر کسی دوسرے ملک میں کسی معاملے پر خون ریز قسم کی صورت حال ہو، تو کیا ہم اپنے ہاں وہی تباہی یہ کہہ کر اپنا سکتے ہیں کہ فلاں ملک میں بھی تو یہی ہو رہا ہے؟

صومالیہ میں بھوک سے بچے مر رہے ہیں، تو کیا ہم اپنے ملک میں بھی بچوں کو یہ کہہ کر بھوک کی نذر کر دیں کہ صومالیہ میں بھی یہی جاری ہے؟ جنوبی سوڈان میں نسلی بنیادوں پر ہونے والے تشدد کی وجہ سے لاکھوں انسانوں کی زندگی تباہ ہو چکی ہے، تو کیا ہمارے ہاں ایسے ہی پرتشدد واقعات کو جواز فراہم کرنے کے لیے مثال جنوبی سوڈان کی دی جا سکتی ہے؟

کیا ملک میں بسنے والی قوموں، مذہبوں، رنگوں، نسلوں یا ثقافتوں کی جانب سے کوئی شکایت ہونے پر انہیں یہ کہہ کر خاموش کرایا جانا چاہیے کہ آپ تو ’موجیں کر‘ رہے ہیں، فلاں ملک میں اقلیتوں کے ذبح کیا جاتا ہے؟

یہ وہ بنیادی سوال ہے، جو ہمارے سامنے ہونا چاہیے۔ ملک سے محبت اچھی شے ہے، مگر یہ محبت انسانیت کی قیمت پر کسی صورت قبول نہیں کی جا سکتی۔ انسان ملک کے لیے نہیں بنائے جاتے بلکہ ملک انسانوں کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ پاکستان ہم نے اس پر بسنے والی قوموں، مذہبوں اور ثقافتوں کے لیے بنایا تھا اور ہمارے اپنے ہی ہاتھوں سے یہاں بسنے والے پامال ہوئے، تو نہ اس ملک کی تخلیق کا کوئی مقصد بچے گا اور نہ ہی یہ ملک۔