عابد حسین

کہتے ہیں کہ عام فرد سے لے کر قوموں کے معاملات تک میں ماضی کے فیصلے ہی اثر انداز ہوتے ہیں حال (موجودہ زمانہ) ماضی کی پالیسیوں کا ہی حاصل ہوتا ہے اور موجودہ حال کے فیصلوں کے نتائج بھی مستقبل میں اچھی یا بری صورتحال میں واضح ہوں گے ـ۔

مملکت پاکستان کا موجودہ منظر نامہ ماضی ہی کی پالیسیوں کا ثمر ہے سیاستدانوں کی سیاسی بصیرت ہو یا ریاستی اداروں کے وطن خیرخواہی کے اقدامات عوام اب انہی کو بھگت رہے ہیں۔

وہ چاٹ لیتا ہے دیمک کی طرح مستقبل
تمہیں پتہ نہیں ماضی جو حال کرتا ہے ـ

اسی طرح موجودہ صورتحال میں لیے گئے فیصلے اور کیے گئے اقدام بھی ضرور ہمارے مستقبل اور آنے والی نسلوں کے حالات پر اثر انداز ہوں گے ۔

یہ بات بہرحال مزاجوں پر ناگوار سہی مگر حقیقت ہے کہ آزادی کے وقت ہی سے جمہوری اقدار کو نادیدہ قوتوں کی طرف سے سازشوں اور مزاحمتوں کا سامنا کرنا پڑا جن کا بانیِ پاکستان محمد علی جناح خود بھی شکار رہے ۔

گیارہ اگست کی جناح کی تقریر کا مواد فقط حذف نہ ہوا بلکہ اس خطاب کے مواد کو سِرے سے غائب کر دیا گیا ۔

جناح کا کشمیر میں فوج بھیجنے کا حکم نامہ رد کر دیا گیا۔ علاج اور دیکھ بھال کیلئے ایسے علاقہ کو منتخب کرنا جہاں آج بھی اس بیماری کےلیے شاید ضروری دیکھ بھال میسر نہ ہو،
ایمبولینس کے خراب ہونے کا معمہ آج بھی کئی پس پردہ واقعات اور معاملات اپنے دامن میں چھپائے ہوئے ہےـ
محترمہ فاطمہ جناح کی ریڈیو پاکستان پہ خطاب پر پابندی لگنا ہو یا محمد علی جناح کی تیسری برسی پر خطاب کی اجازت ملنا ہو اور دوران خطاب پورے ملک میں ریڈیو پاکستان کا بند کر دیا جانا ہو ـ یہ تلخ تاریخی باتیں رد کرنے کی نہیں ہیں بلکہ ان سے ذہنوں میں بڑے اہم سوال جنم لیتے ہیں ۔

سلسلہ یہاں آ کر تھما نہیں بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ مزید بڑھتا چلا آیا ہے ذرا آگے چل کر دیکھتے ہیں ۔

1951 میں جنرل اکبر کی طرف سے ملک کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی جاتی ہے جو کہ ناکام ہوجاتی ہے مگر بعد میں انہیں دن دیہاڑے مجمعہء عام میں گولی مار کر قتل کر دیا جاتا ہے ۔

لیاقت علی خان کے بعد خواجہ ناطم الدین جو کہ اچھے سیاستدان گورنرجنرل تھے انہیں ملک کا وزیراعظم بنایا گیاـ ان کی جگہ گورنر جنرل کے عہدے پر ایک بیورو کریٹ غلام محمد کو نامزد کیا گیا کیونکہ اختیارات کا سرچشمہ ابھی گورنر جنرل کی ذات تھی تو گورنر جنرل غلام محمد نے ملک کے دوسرے وزیراعظم خواجہ ناظم الدین کو دو سال بعد ہی برطرف کر دیا اور ان کی جگہ امریکہ میں قائم پاکستانی سفیر محمد علی بوگرہ کو وزیراعظم بنا دیا ۔

تحّیر مزید بڑھتا ہے کہ گورنر جنرل غلام محمد فالج کے علیل ہو جاتے ہیں وہیل چئیر پر بیٹھے رہتے ہیں ـ بولنے سے قاصر ہیں اُن کی گفتگو کسی کی سمجھ میں آنا ممکن نہیں رہتی مگر حکومت میں اب بھی اصل اختیارات کا سرچشمہ وہی ہیں ۔

گورنر غلام محمد کو ایک دوسرے بیورو کریٹ سکندر مرزا نے آکر ری پلیس کیا یہ صاحب میر جعفر کے پڑپوتے تھے جنہیں تاریخ میں کن الفاظ سےیاد کیا جاتا ہے سب بہتر جانتے ہیں یہی سکندر مرزا بعد میں صدر بھی بنے ـ انہوں نے اپنے عہد میں چار وزرائے اعظم چودھری محمد علی ـ حسین شہید سہروردی ـ اسماعیل چندریگر اور ملک فیروز نون خان تبدیل کئے گئے ـ
اِن میں سے دو سے زبردستی استعفیٰ لیا گیا ایک نے خود استعفیٰ پیش کیا جبکہ ملک فیروز خان نون جنہوں نے گوادر کو پاکستان کا حصہ بنایا اُن کی حکومت کا تختہ جنرل ایوب خان صاحب نے 1958 الٹ دیا اور ملک میں پہلا مارشل لا اس بیانئیے پر لگا دیا کہ عوام جمہوریت کے قابل ہی نہیں ہیں ـ اسی صورتحال کے پیشِ نظر رکھتے ہوئے ہندوستان کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو یہ فقرہ دہراتے تھے کہ نہرو اتنی جلدی نئی دھوتی نہیں لیتا جتنی جلدی پاکستان میں نیا وزیر اعظم لایا جاتا ہےـ۔

جنرل ایوب خان نے مملکت پاکستان پر 1958 تا 1969 گیارہ برس حکومت کی۔

اقتدار سنبھالتے ہی تمام سیاسی جماعتوں کو کالعدم قرار دے دیا جس وجہ سے مشرقی پاکستان موجودہ بنگلہ دیش میں عدم اعتماد اور حقوق کی تحریکیں پیدا ہوئیں ـ پشاور کے قریبی علاقے بڈا بیر کا فوجی اڈا کرایہ پر امریکہ کے حوالے کردیا ـ
1962 میں بھارت چین لڑ پڑتے ہیں پاکستان کے پاس کشمیر آزاد کرانے کا ایک آسان موقع میسر آ جاتا ہے مگر امریکی صدر کی ایک فون کال کہ آپ کشمیر میں کچھ نہ کریں کا مطالبہ مان لیا جاتا ہےـ۔

1964 میں جنرل ایوب خان کے مد مقابل محترمہ فاطمہ جناح الیکشن لڑنے کا اعلان کرتی ہیں تو آج کی مادرِ محترمہ فاطمہ جناح کو اس وقت بھارتی ایجنٹ قرار دے دیا جاتا ہے ـ
اگست 1965 کشمیر آزاد کرانے کی خاطرایک خفیہ مشن آپریشن جبرالٹر کے نام سے ناکام کوشش کی جاتی ہے اور نتائج ستمبر میں ایک خوفناک جنگ کی صورت بھگتنے پڑتے ہیں ـ
اسی دور میں سندھ طاس معاہدے بھی طے پاتا ہے جس میں پاکستان کے تین دریاؤں کا پانی صرف آٹھ کروڑ کے عوض بیچ دیا جاتا ہے۔
جنرل ایوب خان سے 1969مین جنرل ایوب خان استعفیٰ لیتے ہیں اور دوسال تک ملک کے اختیارات کو بلا شرکتِ غیرے سنھال لیتے ہیں ـ انکی شخصیت اور قابلیت واضح کرنے کیلئے یہی اشارہ کافی ہے کہ مذکور بالا جنرل اسمبلی اجلاس میں شرکت کے دوران بھی خوبرو خواتین کو ساتھ لے کر آتے تھے۔

غیر ملکی سفیروں سے ملاقات میں گھنٹوں تاخیر ہونا معول کی بات تھی کیونکہ جنرل صاحب کا ہیلی کاپٹر فضا میں اس وجہ سے چکر لگاتا رہتا تھا کہ پہلے جنرل صاحب کم از کم ہوش میں آ جائیں اور کسی سے کچھ بات کرنے کے قابل ہوسکیں ـ
سقوطِ ڈھاکہ جیسا تاریخی المیہ جنرل یحییٰ خان کے دور حکومت میں پیش آیا لاکھوں انسانوں کی قربانیاں پیش کرنے بعد حاصل کیا جانیوالا پاکستان دو لخت ہوگیا اور ہم سے پاکستان کا سرزمینِ الماس جیسا حصہ جدا ہوگیا کہ جہاں سے قیامِ پاکستان کے نظریے کا آغاز ہوا تھا ـ اس دن بھی جب ہتھیار شانوں سے اتار اتار کر آگے پھینکے جارہے تھے اور ارضِ وطن کی سرزمین کے بڑے حصے پر دشمن قابض ہوچکا تھا تب بھی مغربی پاکستان کی عوام سے غلط بیانی کی جاری تھی اور اخبار اپنے ماتھے پر فتح کی خبر کا جھوٹا جھومر پہنے ہوئے تھا اور جنرل یحییٰ خان کی میز کچھ خالی اور کچھ ادھ خالی بوتلوں سے مزین تھی اور وہ آنکھیں سرخ کیے لیٹے پڑے تھے ـ
1971تا 1977 ذوالفقار علی بھٹو کو اقتدار اس وقت تھما دیا جاتا ہے جب ہم دنیا بھر میں ایک ناکام ریاست تسلیم کیے جا چکے تھے اور ملک کے وجود کو قائم رکھنا ناممکن نظر آرہا تھا ـ بھٹو صاحب نے آتے ہیں بھارت میں قید پچاس ہزار فوجی جوانوں کو رہائی دلوائی اور پانچ ہزار مربع کلومیٹر اراضی جس پر بھارت قابض ہوچکا تھا بغیر کسی جنگ لڑے واپس لی ـ
ایٹمی پروگرام کا آغاز کیاـ۔

ملک کو پچیس برس بعد دستور پاکستان سے نوازا ـ پاکستان میں اسلامی سربراہی کانفرنس منعقد کرائی اور سابقہ امریکی غلامی اور پا بوسی کی روش سے نکلنے کا نہ فقط پاکستان کو بلکہ تمام اسلامی ممالک میں یہ جذبہ ابھارا۔

وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو سے 1977 میں جنرل ضیا الحق نے اقتدار چھین لیا جو کہ گیارہ سال یعنی 1988 آخری سانس تک سربراہِ مملکت رہے ۔

جنرل ضیا الحق نے 1980 کی سوویت یونین جنگ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اس جنگ میں صفِ اول کے سپاہی کے طور پر کردار ادا کیا ان اس جنگ میں امریکہ سے ڈالر کماؤ ڈیل چالیس لاکھ ڈالر سے بات شروع ہوئی اور پھر تین ارب بیس لاکھ ڈالر پر جنگی امداد کے نام پر بالاآخر طے پاگئی ۔

ملک میں ہر طرح سے جہادی چورن بیچا گیا اسی دور میں افغانستان سے تیس لاکھ افغانی غیر قانونی طور سے باقاعدہ جہازوں پر پاکستان آئے ـ ہیرؤئن اور چرس ساتھ تحفتاً آئی کلاشنکوف گھروں کی زینت بنی ـ شدت پسندی کی خوب آبیاری کی گئی اور ایسے گروہوں کو پالا گیا جنہوں نے ملک میں شدت پسندی کو ہوا دی ـ روس کے افغانستان پر اس حملے کو اسلام پر حملے قرار دیا گیا اور روس سے چھٹکارے پانے گئے اور اس سے بڑی آفت امریکہ گلے پڑ گیا پھر بھی جیت کا جشن مناتے ہوئے ظاہراً تو اس وقت واپس آگئے ـ مگر غور کریں تو ہمارے پاؤں آج بھی اسی دلدل میں پھنسے ہیں اور اس زمانے کی کاشتہ فصل اس طرح رنگ لائی کہ پیداوار ختم ہونے کے دور دور تک امکان نظر نہیں آتےـ۔

بھارت نے سیاہ چین کی چوٹیوں پر بھی اسی زمانے میں قبضہ کیا۔

جنرل ضیاالحق 1988میں ایک طیارہ حادثہ میں جابحق ہوئے ـ
1988 تا 1990 اقتدار نہ چاہتے ہوئے بھی مجبوراً محترمہ بینظیر بھٹو صاحبہ کو دینا پڑا مگر شرائط اس قدر پیچیدہ تھیں کہ انہیں پیپلز پارٹی کے عہدیدران نے ایسا صرف دکھاوے کا اقتدار ٹھکرا دینے کا کہا مگر ان کی مصلحت فقط شاید عرصہء دراز سے قید کارکنوں کو قید سے نکلوانا تھی جس وجہ انہوں نے اسے قبول کر لیاـ مگر بعد میں صدر غلام اسحاق خان نے اسمبلی تحلیل کردی۔

جنرل حمید گل اور جنرل اسلم بیگ کی مشاورت سے 9 جماعتی اسلامی جمہوری اتحاد تشکیل دیا گیا اور 1990 تا 1993 وزیراعظم محترم نواز شریف رہے افغانستان میں وزیراعظم نواز شریف کی باز رہنے کی پالیسی سے اندرونی اختلافات بڑھ گئے صدر غلام اسحاق خان نے اسمبلی توڑ دی وزیراعظم نواز شریف سپریم کورٹ سے پھر بحال ہوگئے مگر بیس دن بعد جنرل وحید کاکڑ نے ان سے زبردستی استعفیٰ لے لیاـ۔

1993 تا 1996 محترمہ بےنظیر بھٹو صاحبہ وزیراعظم منتخب ہوئیں محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ کو فاروق خان لغاری پر اپنے بھائی کے قتل کی سازش میں ملوث یا راز دار ہونے پر شک ہوتا ہے تو اس اختلاف پر صدر فاروق خان لغاری نے اسمبلی توڑ دی۔

1997 تا 1999 میں وزیراعظم نواز شریف منتخب ہوتے ہیں ـ ایٹمی دھماکوں کا کامیاب تجربہ اسی دور میں کیا جاتا ہےـ
بھارت سے کارگل کی جنگ ہوتی ہے اس جنگ کی خفیہ منصوبہ بندی جو کہ وزیراعظم نواز شریف سے سب چھپا کر کی گئی ناراضگی اور اختلاف کا سبب بنتی ہے وزیراعظم نواز شریف نے جنرل مشرف کو ہٹانے کا فیصلہ کرلیا اور جنرل مشرف نے ملک کی باگ ڈور سنمبھالنے کی منصوبہ بندی کر لی ـ
اور یوں جنرل پرویز مشرف اکتوبر 1999 کو اقتدار پر قبضہ کر لیتے ہیں ـ جو کہ 2008 تک قائم رہتا ہےـ۔

‘سب سے پہلے پاکستان’کا نعرہ متعارف کرایا جاتا ہے ـ
پاکستان کی سرزمین ایک بار پھر امریکہ کو باقاعدہ کرائے پر دے دی جاتی ہے۔

جیکب آباد ـ پسنی ـاور شمسی ائیر بیس پر تو امریکی فوجی اپنا پڑاؤ ڈال لیتے ہیں وطن کی محافظ افواج کو ان اڈوں کے اندر کی معلومات کی رسائی حاصل کرنا منع ہوتی ہے ـ ڈرون حملوں کی اجازت دے کر ملکی خود مختاری کے بدلے امریکہ سے ڈالر کماؤ ڈیل ایک بار پھر طے پا جاتی ہے یوں کوئلوں کی دلالی کا ٹھیکے میں پھر منہ کالا کر لیا جاتا ہے پچھلی بار جس افغانستان پر حملے کو اسلام پر حملہ قرار دے کر ڈالر خوری ہورہی تھی اس دفعہ پوری دنیا کا امن عامہ اور سلامتی خطرے میں ہے کا نعرہ لگا ہمسائے ملک میں لگی آگ دامن سے بجھانے نکل پڑے تھے ـ اپنے وطن کے لوگوں سمیت ڈالر لینے کی خاطر سفارتی استثناء میں شامل سفیروں تک کو امریکہ کے حوالے کر دیا لگ بھگ ہزار افراد میں سے 370 پاکستانی خواتین شامل ہیں۔

محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے اعترافی بیان کا تقاضا کیا گیا نہیں تو دوسرا آپشن جہاز تیار کھڑا ہے امریکہ جاؤ ـ قوم سے معافی منگوائی گئی اور حفاظت کے نام پر نظر بند کر دیا گیا۔

2008میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور 2013 میں نواز شریف منتخب ہوئے دونوں کو عدالتوں کی طرف سے برطرف کیا گیا اور اب محترم عمران خان صاحب مملکت پاکستان کے وزیراعظم کے طور پر باگ ڈور سنبھالے ہوئے ہیں ـ کوئی بھی اختلاف رکھا جائے مگر اس بات سے انکار نہیں کہ ملکی تاریخ کے جتنے بھی الیکشن جس دور میں بھی منعقد ہوئے ہیں وہ آج غیر شفاف الیکشن سمجھے جاتے ہیں ان میں مداخلت تسلیم کی جاتی ہے انہیں غیر شفاف سمجھا جاتا ہے اور ہر ہارنے والی جماعت نے انہیں ہر دور میں مسترد کردیا جبکہ صرف جیتنے والی جماعت نے نتائج قبول کرلیےـ اس دوران برسراقتدار جماعتوں کو بھی بہت سے فیصلے کرنے میں آزاد نہیں رکھا گیا بلکہ فیصلے اور پالیسیاں منوائی جاتی رہی ہیں۔

یعنی یہاں پارلیمانی نظام حکومت ضرور نظر آتا ہے صدر آئینی سربراہ اور وزیراعظم حکومتی سربراہ سمجھا جاتا ہے مگر حقیقت کچھ اور ہے جو آج بھی دستک دے رہی ہے کہ ماضی کی غلط فہمیوں کی طرح یہ بھی ایک غلط فہمی ہی ثابت ہوگی ۔