سنگر خان

منظور پشتین کی پختون تحفظ مومنٹ , نقیب اللہ معسود کے ماورائے عدالت قتل کے بعد پختون عوام میں کافی مقبولیت حاصل کر چکا ہے ۔اس کے ذریعے منظور پشتین اور ان کے ساتھیوں نے ریاست پاکستان کے آگے پختون عوام کے جانب سے بنیادی مطالبات رکھے ہیں جوکہ درجہ ذیل ہیں۔

ماورائے عدالت گرفتار لوگوں کی عدالت میں پیشی۔
لینڈ مائنز کا خاتمہ۔
چیک پوسٹوں پر پشتون عوام کی تذلیل کا روک تھام۔
وہ عمارتیں جن پر آرمی کا قبضہ ہے وہ عوام کو واپس کرنا۔

ان مطالبات پر اگر ایک نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ تمام مطالبات ریاست میں رہنے والے شہریوں کے بنیادی حقوق کے عین مطابق ہے اور کوئی بھی عاقل انسان ان کو تسلیم کرنے کے لئے تیار ہوگا ۔ دستور پاکستان بھی اپنے شہریوں کو یہ بنیادی حقوق دینے کا ضامن ہے اور ان کے نہ ملنے کی صورت میں عوام کو پر امن احتجاج کی اجازت بھی دیتا ہے ۔اسی اجازت کے تحت منظور پشتین اور ان کے ساتھی پختون تحفظ تحریک کے ذریعے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کر رہے ہیں ۔

اس تحریک کے بارے میں عوام میں 3 رائے موجود ہیں جوکہ درجہ ذیل ہیں

کچھ لوگ پختون تحفظ تحریک کو بیرونی سازش سمجھتے ہوئے اس کی مخالفت کر رہے ان لوگوں کا ماننا ہے کہ بیرونی قوتیں پاکستان کی ساخت کو نقصان پہنچانے کے لیے اس تحریک کو چلانے میں مدد کر رہے ہیں ۔یہ لوگ اپنی رائے کے حق میں دلائل پیش کرتے ہیں کہ منظور پشتین کے پاس تحریک چلانے کے لیے پیسا کہا سے آرہا ہے،ان لوگوں کا کہنا ہے کہ کہ اگر واقعی میں پختون تحفظ تحریک کو بیرونی سپورٹ حاصل نہیں تو پھر افغان صدر کیوں اپنے ٹویٹس کے ذریعے اس تحریک کی حمایت کر رہے ہیں ۔منظور پشتین نے اپنے انٹرویوز میں ان دلائل کے جوابات دینے کی کوشش کی ہے اور کافی حد تک کامیاب بھی ہو چکے ہے ۔

اس تحریک کے بارے میں بارے میں دوسری رائے اس کے سپورٹرز کی ہے جو کہ اکثریت میں ہیں ،ان کا ماننا ہے کہ یہ تحریک صرف اور صرف پختون عوام کا ان کے بنیادی حقوق کے لیے ہے جن سے وہ کئی برسوں سے محروم رہ چکے ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پختون تحفظ تحریک کے تمام مطالبات دستور پاکستان کے عین مطابق ہے لہذا کوئی بھی بیرونی قوت ان جائز مطالبات کے حصول کے لیے اپنا کردار کیو ادا کریگا؟۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے منظور پشتین کے بارے میں مصبت ریمارکس بھی یہ لوگ بطور دلیل پیش کرتے ہیں ۔

اس تحریک کے بارے میں تیسری رائے جو بہت کم لوگوں کی ہے وہ یہ ہے کے پختون تحفظ تحریک اصل میں سیاسی چال ہے، اس کو ریاستی ادارے پختون نیشنلسٹ سیاسی پارٹیوں کے لیے بطور توڑ استعمال کر رہے ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو اس تحریک کی مقبولیت کے بعد سے عوام کا رخ نیشنلسٹ پارٹیوں جیسے کہ عوامی نیشنل پارٹی اور پختونخواہ ملئ عوامی پارٹی سے مڑ کر منظور پشتین کے طرف ہوگیا ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے کارکنان پارٹی کے طرف سے منع کرنے کے باوجود بھی اس تحریک میں حصہ لے رہے ہیں۔

اس بات میں شک نہیں کہ پختون تحفظ تحریک کے کارکنان میں اکثریت کا تعلق تعلیم یافتہ طبقے سے ہے، اگر اتنے تعداد میں تعلیم یافتہ لوگ ایک تحریک کو جنم دیتے ہیں اور اس کے ذریعے ریاست سے اپنے مطالبات منوانے کے لئے پر امن جدوجہد کرتے ہیں تو یقینن ان کے مطالبات حقیقت اور ان کی بنیادی ضروریات پر مبنی ہوگی۔ لہذا ریاست کو چاہیے کے تحریک کے عمائدین کے ساتھ بیٹھ کر ان کے مطالبات سنے اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان مطالبات کو پورا کرنے کے لیے کوئی لائحہ عمل تیار کرے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here