عاطف توقیر

وزیرستان کا خان احمد کہنے لگا، عاطف بھائی ہمارا ایک کھیت تھا، گھر تھا، خاندان تھا۔ ہم ہر چودہ اگست کو جھنڈا بھی خریدتے تھے۔ کراچی میں مالی کا کام کرنے والا خان احمد کھر پی سے ایک پودے کے لیے زمین نرم کرتے ہوئے بولا تو جیسے زمیں ایک دم ریت بن گئی اور ہر طرف بارود کی بو آنے لگی۔ احمد خان کی آنکھوں میں اچانک ستارے تیرنے لگے۔ احمد خان انیس سو اٹھاسی میں پیدا ہوا اور یہ قریب وہی وقت تھا جن سوویت یونین ٹوٹ چکا تھا۔

دتہ خیل میں احمد خان کے گھر سے کچھ فاصلے پر وہ تربیتی مرکز تھا، جہاں اس وقت فوج کی نگرانی میں“مجاہدین” تیار کیے جاتے تھے۔ دنیا بھر سے شدت پسندوں کو وہاں لایا جاتا تھا۔ پھر احمد خان اپنی جیب ٹٹولنے لگا۔ لمبی قمیض کی جیب میں پلاسٹ کی جھنجھلاہٹ کے ساتھ ہیں، ایک تھیلی نکالی، جس میں اس کے شناختی کاغذات تھے اور پھر اس نے اس تھیلی میں سے بہت سے مڑے تڑے کاغذات میں سے دس ڈالر کا ایک نے حد بوسیدہ نوٹ نکالا۔ کہنے لگا، سر یہ مجھے اپنے گاؤں سے ملا تھا، میں نے سنبھال کر رکھ لیا تھا۔ میں نے کہا استعمال کیوں نہیں کر لیا، تو اس کی آنکھوں میں سیلاب امڈ آیا۔ اس نے نوٹ کھولا تو اس کا کچھ حصہ غائب تھا اور غور کرنے پر بالکل واضح تھا کہ شاید جل کر خاکستر ہوا ہے۔

خان احمد کے والد اور والدہ ایک بم دھماکے میں مارے گئے۔ خان ابھی بہ مشکل تیس برس کا ہے مگر اس کی روح پر لگے زخم اور چہرے کی جھریاں کہتی ہیں جیسے اپنی عمر جی بھی چکا ہو۔ “سر پھر دتہ خیل میں فوج طالبان لے آئی۔ وہاں فوج اور طالبان کا حکم چلتا تھا، وہ جس گھر کو چاہتے اسے چھین لیتے، جس زمیں کو چاہتے وہ ان کی ہوتی، اگر کوئی زندگی کی بھیک مانگتا، اسے دھمکایا جاتا یا مار دیا جاتا۔ سر ہم نے بہت لاشیں دیکھی ہیں”۔

احمد خان یہ سب کہہ رہا تھا اور اس کے گھر کی بربادی، اس کے ماں باپ کی موت، اس کے بچے کی معذوری، اس کے کھیت کی ویرانی، اس کے چہرے کی جھریاں اور اس کی بے گھری، میرے اندر غصے کا ابال پیدا کر رہی تھیں۔

میں ایک لمحے کو یہ سوچ رہا تھا کہ اگر اس کی جگہ میں ہوتا تو اس وقت کہاں ہوتا؟ کیا کر رہا ہوتا؟ اس کی زندگی کو عمومی راہ اور امید کے راستے سے ہٹانے، اس کا گھر اجاڑنے، اسے اس طرح دربہ در کرنے کے پیچھے ریاست کی وہ پالیسیاں تھیں، جو ہم نے اپنے دیس کو ہر دور میں دوسرے ملکوں کے لیے کرائے کے قاتل کے طور پر پیش کرنے کی صورت میں اپنائیں، ہماری ریاست نے کبھی اپنی قوم، اپنے لوگوں اور اپنے بچوں کے مستقبل کا خیال نہ کیا۔ امریکا کے لیے ہم نے اس پرامن ملک میں رحمت کے مذہب کو دہشت گردی کے معنی پہنائے، اپنی سرزمین کو ہم نے ڈالروں کے لئے شدت پسندی کی آگ میں جھونک دیا۔

میں سوچ رہا تھا اور میرے اندر ہی اندر غصہ پک رہا تھا۔ اپنی بے بسی پر غصہ اور ان گندی غلیظ پالیسیوں پر غصہ۔ صرف ایک لمحے کو یہ سوچنا کہ اگر میں خان احمد کی جگہ ہوتا تو کیا کرتا؟ اور پھر سوچ یہی تک نہیں تھی۔ وہ ستر ہزار لوگ بہ شمول دس ہزار سے زائد فوجی جوان لاشوں کی صورت میں میرے سامنے تھے اور مجھ سے پوچھ رہے تھے کہ وہ کیوں ایک ایسی آگ کا نشانہ بنے، جس آگ کا ان سے کوئی تعلق بھی نہیں تھا؟ یہ کون سی پالیسیاں تھیں جو ان ہزار ہا لوگوں کی جان نگل گئی اور ہزارہ انسانوں کو اپاہج بنا دیا؟

اگر باجوڑ میں مرنے والوں میں میرے گھر کا کوئی فرد ہوتا؟ اگر آرمی پبلک اسکول میں میرا بچہ جان سے جاتا؟ اگر کسی درگاہ میں میری ماں ماری جاتی؟ اگر کسی بازار میں کوئی بم دھماکا میری بہن کو کھا جاتا؟ اگر کسی مسجد میں کوئی خودکش بمبار میرے باپ کی موت کا باعث بنتا؟ میں اپنی تمام تر تعلیم اور مطالعے کے باوجود یہ بات یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ مجھے میں ایسے کسی واقعے میں کسی بہت اپنے کے کھو جانے کے بعد نفرت یا غصہ پیدا نہ ہوتا۔ مجھے اچانک ان بمباروں پر غصہ آنے لگا اور ٹھیک ایسے لمحے میں ٹی وی پر چلنے والی ایک رپورٹ کی فوٹیج میری نگاہوں کے سامنے گھومنے لگی جس میں خودکش بمبار ایک آٹھ سالہ بچہ تھا۔ میں اس بچے کے حملے سے قبل اس کے آتے قدموں کے نشانات دیکھنے لگا۔ یہ بچہ کیسے قصوروار ہو سکتا ہے؟ اس بچے کو تو اس وقت اسکول میں ہونا چاہیے تھا؟ اسے تو زندگی کے سبق پڑھنے تھے، اس موت کی پٹی کس نے پڑھائی۔ میں اس بچے کے پیروں کے نشانات پر الٹے قدموں چلتے چلتے دتہ خیل کے اسی تربیتی مرکز پہنچ گیا، جہاں فوج عسکریت پسند بنا رہی تھی اور بارود میں سے یہ آٹھ سالہ بمبار اور اس جیسے بہت سے بچے اُگ رہے تھے۔

اس دیس کی بدقسمتی یہ رہی ہے کہ یہاں ان پالیسی سازوں سے جواب مانگنے والا کبھی کوئی سامنے نہیں آیا۔ سیاست دان وہ آئے جو انہیں جرنیلیوں کی گودوں سے نکلے تھے اور جنہیں اس لیے پیدا کیا گیا تھا کہ وہ عوام کو یہ بتاتے رہیں کہ ملک میں جمہوریت ہے اور عوام کی نمائندہ حکومت موجود ہے، جہاں پالیسی پر گالی کھانا ہو، وہ کھائیں مگر جہاں کوئی داد طلب کام ہو جائے اس کا کریڈٹ جی ایچ کیو پہنچ جائے۔ اگر اس ملک کے چہرے کو زخمی اور جسم پر خراشیں لگانے والے ان جرنیلوں اور اصل پالیسی سازوں کو ان کے جرائم پر پکڑا جاتا تو آج شاید خان احمد کراچی میں مالی نہ ہوتا، اس کے ماں باپ ہلاک اور اس کا بیٹا معذور نہ ہوتے۔

انیس سو اٹھاون سے انیس سو اکہتر تک مارشل لا نافذ کیا گیا، تو پھر ملک ٹوٹنے کی ذمہ داری کس پر ہو گی؟ یہ سوال آپ کسی سے بھی پوچھیے جواب ملے گا، “بھٹو پر”۔ اس بدترین سانحے، ملکی فوج کے ہتھیار ڈالنے اور لاکھوں افراد کی ہلاکت کا کوئی تو ذمہ دار ہو گا؟ کسی کی تو کوتاہی ہو گی؟ کیا کسی کو سزا ملی؟ جواب ہے نہیں۔

بھٹو کو پھانسی دینے کے واقعے کو آج خود عدلیہ کے جج عدالتی قتل قرار دیتے ہیں جو ایک آمر کے کہنے پر کیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس قتل میں ملوث کسی کو سزا ملی؟ جواب ہے نہیں۔

امریکا کے لیے پاکستان کو دہشت گردی کی آگ میں جھونکنے پر ضیاءالحق کو سزا دی گئی؟ جواب ہے نہیں۔

اوجھڑی کیمپ سانحہ، جس میں عسکری ہتھیاروں کے گودام میں تباہی کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک اور معذور ہوئے، کیا اس واقعے کے کسی ذمہ دار کو سزا ملی؟ جواب ہے نہیں۔

اپنے ملک کے ہزاروں لوگ ڈالر لے کر اور ملکی قانون اور دستور کا مزاق اڑاتے ہوئے دوسرے کے حوالے کیے گئے، کوئی سزا؟ جواب ہے نہیں۔
اپنی سرزمین پر امریکا کو اڈے دینے جیسا گھناؤنا کام، کوئی سزا؟ جواب ہے نہیں۔

اپنے ملک میں ڈرون حملوں کی اجازت، اس میں سینکڑوں بے گناہ انسانوں کی موت، کسی ذمہ دار کو کوئی سزا؟ جواب ہے نہیں۔

احمد خان کہنے لگا، “سر پہلے ہمیں مجاہدین نے مارا، پھر ہمیں افغان عسکریت پسندوں نے مارا، پھر ہمیں امریکا نے مارا، پھر ہمیں طالبان نے مارا اور پھر ہمیں ہماری فوج نے مارا۔ ہماری مٹی سے اب یا تو بارود کی مہک آتی ہے یا خون کی۔”

سوال پھر گونجا، “کسی ذمہ دار کو کوئی سزا”، جواب ہے نہیں۔

آرمی پبلک اسکول میں ہمارے درجنوں بچے قتل کرنے والے کسی دہشت گرد کو سزا؟ اس واقعے میں کسی کوتاہی، کسی غفلت پر کسی کو سزا؟ جواب ہے نہیں

سوال یہ ہے کہ ملک میں ہلاک ہونے والے ساٹھ ہزار انسانوں کی موت کی ذمہ دار، اس ملک کی اقتصادیات کی تباہی، تعلیمی ڈھانچے کی بربادی، صحت کے شعبے کی زبوں حالی، نصابی کتب کی خون ریزی اور ہزاروں انسانوں سے زندگی اور امید چھیننے والی ان بھیانک کارروائیوں کا کوئی تو ذمہ دار ہو گا؟ کوئی تو منصوبہ ساز ہو گا؟ کوئی تو پالیسی ساز ہو گا؟ کوئی سزا؟ جواب ہے نہیں۔

ریاست کی جانب سے غلط پالیسیوں اور ان کے نتیجے میں انسانی زندگیوں کی تباہی کی فہرست اتنی لمبی ہے کہ شاید سال میں اتنے دن نہ ہوں، جتنے سانحے اس ملک کے سینے پر داغے گئے ہیں۔

اب پھر وزیرستان میں “گڈ طالبان” کو بسانے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے، اب پھر وہی تباہ کن پالیسی دہرا کر موت کا ایک نیا کھیل شروع ہونے کو ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس پر کسی کو سزا ملے گی؟ جواب ہے کہ پہلے نہیں ملی تو اب کیسے ملے گی؟

لوگ اپنے دکھ اور درد لیے ایک تحریک کی شکل اختیار کر چکے ہیں، ریاست سے امن کی بھیک مانگ رہے ہیں، ریاست سے کہہ رہے ہیں کہ خدا کا واسطہ ہمیں جینے دو، خدا کا واسطہ ان تمام لوگوں کو سزا دو جو اس قتل عام کے ذمہ دار ہیں، خدا کا واسطہ لوگوں کو لاپتا کرنا بند کرو، ماورائے عدالت قتل روکو، اب اس ملک کے لوگوں کا خیال رکھو، اپنی تجوریاں بھرنے اور ڈالر لینے کے لیے اس قوم پر ظلم بند کرو، مگر جواب میں ان بے بس اور مظلوم لوگوں کی آواز سننے کی بجائے ان پر کریک ڈاؤن شروع کیا جا چکا ہے۔ مزید لوگ لاپتا ہو رہے ہیں، نامعلوم افراد لوگوں کو قتل کر رہے ہیں، احتجاج سے باز رہنے کے لیے دھمکا رہے ہیں۔ اور ایسے میں آوازیں اور سخت ہو رہی ہیں اور ہر طرف پھیلتی جا رہی ہیں۔

ستر سال سے اس ملک کے جرنیلوں اور آمروں سے پوچھنے والا کوئی نہیں تھا اور قوم فکری، ذہنی اور جسمانی طور پر خوف سمیت بہت سی باتوں کی وجہ سے بے بس تھی۔ لیکن خدا نے ظلم کی ایک حد اور ایک مدت متعین کر رکھی ہے۔ یہ ممکن نہیں کہ ظلم جاری رہے اور پکڑ نہ ہو۔ اگر معاشرہ خود ظلم روک لے تو اچھی بات ہے ورنہ خدا کا قانون خود حرکت میں آ جاتا ہے اور اس کی پکڑ بے حد سخت ہے۔

ان جرنیلوں پر بات کرنے سے کبھی لوگ ڈرتے تھے۔ کچھ سال پہلے جب میں اپنی قوم کو ان کے کارنامے بتاتا تھا، تو انہیں لگتا تھا کوئی فرضی کہانی گھڑی جا رہی ہے، مگر آج نوجوان دھیرے دھیرے اس اندھیرے سے نکل کر اپنی قوم کو نقصان پہنچانے والی ان خون آشام عفریتوں پر بات کر رہے ہیں۔

اب یہ وردی پوش یہی چاہیں گے کہ لوگ تشدد کی جانب مبذول ہوں، اب تک انہیں کبھی ایجنٹ، کبھی غدار، کبھی ان کے خلاف ریاستی طاقت کا استعمال، جبری گمشدگیوں، میڈیا مہم، پروپیگنڈا اور ہر آلے کا استعمال کر کے یہ اس دھن میں ہیں کہ پشتونوں کو کسی طرح تشدد پر مجبور کیا جائے، کسی طرح وہ پرامن نہ رہیں، تاکہ ان کے خلاف طاقت کے بے دریغ استعمال کی کوئی وجہ مل جائے مگر تمام تر کوشش کے باوجود پشتونوں نے اپنی اصل روایت جو امن تھی اور جست ریاست نے کلاشنکوف بنا دیا تھا سامنے لا کر اس ریاستی طریقے اور منصوبے کو رد کر دیا ہے۔

پاکستان کے دیگر علاقوں کے نوجوان بھی اب پرامن انداز سے باہر نکلتے جا رہے ہیں اور اپنے جمہوری اور دستوری حق کے لیے کھل کر بات کر رہے ہیں۔ اب مزید جنگ نہیں، اب مزید خون نہیں۔

خان احمد اب اس باغ میں پھول دیکھنا چاہتا ہے، تتلیاں دیکھنا چاہتا ہے اور چاہتا ہے کہ اس کا معذور بیٹا تعلیم حاصل کرے اور پرامن زندگی گزارے۔
یہ سوچ پیدا ہوتے ہی میرے اندر غصے کا ابال ایک امید اور ایک خوشی میں تبدیل ہو گیا۔ پرامن اور دستوری جدوجہد سے طاقت ور کوئی شے نہیں اور پشتونوں نے اس چالیس سال کی جنگ اور اپنی دو نسلیں قربان کرنے کے بعد اب یہ سیکھ لیا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here