عبدالصمد

نہ جانا کہ دنیا سے جاتا ہے کوئی، بڑی دیر کی مہرباں آتے آتے۔ بے ساختہ یہ شعر زبان پر آیا، جب یہ خبر نظروں سے گزری کہ علما کی بڑی تعداد نے ایک متفقہ فتویٰ دیا ہے، جس کے مطابق پاکستان میں خودکش حملے ناجائز اور حرام ہیں۔ خبر کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے اٹھارہ سو انتیس علمائے کرام نے ایک فتویٰ دیا ہے، جس کے مطابق خود کش حملے حرام اور ایسا کرنے والے باغی ہیں۔ ریاست شرعی طور پر یہ اختیار رکھتی کہ ایسے لوگوں کے خلاف کاروائی کرے۔ مزید یہ بھی کہا گیا کہ جہاد کا وہ پہلو  جس میں قتال اور جنگ شامل ہیں، صرف ریاست ہی کر سکتی ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان میں خودکش حملوں کا نا ختم ہونے والا سلسلہ 2001  میں شروع ہوا، جس میں اندازوں کے مطابق اب تک قریب ستر ہزار افراد جاں بہ حق ہو چکے ہیں۔ ہرحملے میں زخمی افراد کی تعداد بھی شامل کی جائے تو بات  لاکھوں میں جا  پہنچتی ہے، جس میں بڑی تعداد ایسے لوگوں کی بھی ہے، جو حملوں کے نتیجے میں ہمیشہ کے لیے اپاہج ہو گئے۔گزشتہ سولہ سترہ سالوں میں گویا لاکھوں خاندان ان حملوں سے براہ راست متاثر ہوئے۔

اس پورے عرصے میں سوائے چند اکا دکا آوازوں کے، مذہبی حلقے کان لپیٹ کر سوۓ رہے۔ خود کش بمبار مسجدوں، امام بارگاہوں، مزاروں، گرجا گھروں اور اسکولں میں جا کر پھٹے، نہ تہواروں کو چھوڑا، نہ بازاروں کو۔ یہ قوم کی خوشیوں کو بھی خون میں نہلاتے رہے۔ ان کا نشانہ فوجی اور پولیس ہی نہیں نہتے عوام بھی بنے۔ ان کی وحشت اور درندگی کا شکار  صرف مرد ہی نہیں بلکہ بوڑھے، عورتیں اور بچے بھی ہوئے،  مگر کسی کے کان پر جوں نہ رینگی۔

الٹا یہ بات سننے کو ملتی رہی کہ طالبان ہمارے بھائی ہیں۔ وہ بیچارے تو خود ظلم کا شکار ہیں اور ڈرونز حملوں کے رد عمل میں دھماکے کرتے ہیں۔

دہشت گردی کا یہ عفریت صرف زندگیاں  ہی نہیں نگلتا رہا بلکہ ملک کی معیشت بھی تباہ ہوتی رہی۔ کتنے گھروں کے چولہے بجھے شاید اس کا حساب بھی نہ لگایا جا سکے۔ ملک کئی دہائی پیچھے چلا گیا۔ سری لنکن کرکٹ ٹیم پر بھی حملہ  ہوا اور یوں پاکستان باقی اقوام کے لیے ’’نو گو ایریا‘‘ بن گیا اور لوگ  چھوٹی چھوٹی خوشیوں کے لیے بھی ترس گئے۔ ہم پھر بھی یہ سنتے رہے کہ حملے کرنے والے ہرگز ’’مسلمان‘‘ نہیں ہو سکتے ، یہ را کے ایجنٹ ہیں۔

یہ اور بات ہے کہ یہی را ایجنٹس اپنے اعترافی بیانات میں بڑے فخر سے حملوں کی ذمہ داری قبولتے اور پھر ان کے یہ حمایتی نظر نہ آتے۔ مگر اگلے حملے اور اس کی ذمے داری قبول کرنے تک پھر ڈھٹائی سے یہ راگ الاپ رہے ہوتے۔ ٹی وی پر وہ سیاسی ملا بھی دیکھے، جو طالبان کو شہید قرار دیتے رہے مگر  پاکستانی فوجیوں کو شہید ماننے پر تیار نہ ہوئے۔

ایک ’عظیم لیڈر‘ طالبان کے وکیل بن کر ان کے دفاتر ملک بھر میں کھولنے کی باتیں کرتے رہے۔ یہ طالبان حامی، قوم کی سوچ کو تقسیم کرتے رہے، پر اپنے وحشی لاڈلوں کو درندگی کا راستہ ترک کرنے پر آمادہ نہ کر سکے۔ وہ آرمی پبلک اسکول پر حملہ کر بیٹھے۔ اس دکھ اور المناک سانحے نے بکھری ہوئی سوچ کو ایک بنانے اور اپنے دشمن کو پہچاننے میں مدد دی۔ اس دردناک واقعے کے بعد بھی سوشل میڈیا پر ایسے لوگ دیکھے گئے، جو اسلام کی اولین تاریخ سے ایسے واقات ڈھونڈھ کر لاتے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے کہ ایسے بچے جن کے ناف کے نیچے بال آ چکے ہوں، بچے نہیں ہوتے سو ان  کا قتل ناجائز نہیں۔

ریاست نے بالاخر کچھ ہمّت دکھائی اور آپریشن کا   آغاز کیا۔ لاکھوں قبائلی اپنے ہی علاقے سے در بدر ہوئے۔ سینکڑوں فوجی شہید اور زخمی ہوئے۔ قوم کے اربوں روپے اس جنگ میں صرف ہوئے۔ بالاخر کافی حد تک کامیابی ملی اور خودکش حملے جو کبھی روز کا معمول ہوتے تھے ان کی تعداد کئی گنا کم ہو چکی۔

اب لوگوں کا اعتماد رفتہ رفتہ بحال ہو رہا ہے۔ خوف اور غیر یقینی کے بادل چھٹ رہے ہیں اور معیشت پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ شاید ہم امن کی طرف پھر سے لوٹ رہے ہیں۔

ہونا تویہ چاہیے کہ یہاں آپ لوگوں سے سوال کیا جائے کہ اتنے عرصے تک انتہا پسندانہ نظریات کی پشت پناہی کیوں کی؟ یہ فتویٰ اس وقت کیوں نہ آیا جب اس کی سب سے زیادہ ضرورت تھی؟ فتنہ کمزور پڑنے کے بعد اس فتوے کا آنا چہ معنی  دارد ؟ پر آپ لوگوں سے سوال کی جرأت کون کرسکتا ہے؟ آپ نے جہاد کے نام پر جوانوں کو کشمیر بھیجا ہو یا افغانستان اور اس کے نتیجے میں جوان لاشیں گرتی اور خاندان اجڑتے رہے پر آپ سے سوال کون کر سکتا ہے؟ یہ سلسلہ پہلے بھی جاری رہا اور بعد میں بھی جاری رہے گا۔ قوم صرف خراج تحسین ہی پیش کر سکتی ہے آپ کو اس جرأت و بہادری کے اظہار کی زبردست ٹائمنگ پر۔

پیارے علمائے کرام آپ کا بہت بہت شکریہ یہ قوم آپ کی ہمیشہ احسان  مند رہے گی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here