ناصر سرور

ریاست جموں کشمیر کی تاریخ کا ایک سیاہ باب یہ ہے کہ انھیں آقا درآمد کرنے کی عادت رہی اور ہر نئے آقا کو بھرپور انداز میں خوش آمدید کہا گیا تاریخی پس منظر کے بجائے آج زاتی تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں بات کو آگے بڑھائیں گے، جب ہم میٹرک کے طالبعلم تھے تو ہمسایہ ملک پاکستان میں محمد نواز شریف حکمران تھے.اس وقت انھیں امیر المومنین کا خطاب دیا گیا اور تقریباً خدا کا اوتار ثابت کیا گیا اس عمل میں عبدالقیوم خان مرحوم اور انکی جماعت مسلم کانفرنس پیش پیش رہی۔ حد تو یہ ہے کہ جب امریکی مداخلت اور فوج کے کہنے پر کارگل سے افواج کا انخلا ہوا تو اس عمل کو صلع حدبیہ سے تعبیر کیا گیا مشرف کے کو کے بعد امیر المؤمنین نواز شریف غدار ٹھہرے اور جو کشمیری انھیں خدا کا اوتار سمجھتے تھے انھی نے پھانسی دینے اور نشان عبرت بنانے کا مطالبہ کیا اس عمل میں سنیر آزادی پسند بھی شامل ہوہے، جنہوں نے اپنی خودنوشت میں لکھا کہ جب وہ نواز شریف کے پاس مالی مدد کے لیے پہنچے تو نواز شریف نے انھیں بتایا کہ تھوڑی دیر پہلے قاضی حسین احمد کروڑوں روپے لے گے ہیں۔

بہرحال مشرف کی آمد ظل الٰہی کی حیثیت اختیار کر گئی کشمیریوں نے انکے نام کے شادیانے بجائے تعریف و توصیف میں اس حد تک گئے کہ انھیں بانی پاکستان محمد علی جناح سے بڑا لیڈر قرار دیا گیا افغانستان میں امریکن مدد کے فیصلے کے حق میں زمین آسمان کے قلابے ملائے گے کنٹرول لائن پر باڑ لگانے کے لئے ہندوستان کو موقع دینے کے اقدامات پر بھی انکی حب الوطنی پہ کوہی حرف نہ آیا لال مسجد میں آپریشن کے بعد مشرف کی چمک دمک ماند پڑنے لگی تو نیا در ڈھونڈھنے کی سعی کی جانے لگی زرداری اقتدار کی مسند پہ فائز ہوہے تو مفاہمت کا بادشاہ اور جمہوریت کا پشتی بان قرار دیا گیا کشمیر میں چوہدری مجید جیسا نمونہ بھی راہنما ٹھہرا لیکن جب پنڈی والوں نے عدلیہ کو متحرک اور میڈیا کو جمہوریت کی خامیاں گنوانے پہ لگایا تو منظر بدلنے لگا اب ننانوے کا غدار نواز شریف پھر سے ہیرو بنا اور پنڈی والوں کے حکم پر کالا کوٹ پہنے میمو گیٹ میں سپریم کورٹ پہنچ گے۔

ججوں کی بحالی کے بعد جیسے کایا ہی پلٹ گئ مسلم کانفرنس تحلیل ہو کر نون لیگ بن گئی نواز شریف کو ایک مرتبہ پھر نجات دہندہ قرار دیتے ہوئے مسند اقتدار پر بیٹھایا گیا تو لاڑکانہ طواف کرنے والے جاتی امرا کی راہ تکنے لگے نواز شریف بادشاہ سلامت بنے تو فاروق حیدر کی آنکھوں میں آنسو آ گے ڈھول کی تھاپ رقص کیا گیا۔ گلگت بلتستان کو صوبہ بنائے جانے اور ہندوستان سے قربت بھی کشمیریوں کے لئے قابل اعتراض نہ ٹھہرے۔

عالم یہ تھا کہ گلگت بلتستان کو صوبے بنائے جانے کے عمل پر بھی ایک لیڈر نے کہا بادشاہ سلامت نے مجھے تحریری لکھ کر دیا ہے گلگت صوبہ نہیں بنے گا اس لئے احتجاج کی ضرورت نہیں کشمیریوں کی بادشاہ سلامت سے محبت کا نتیجہ تیرہویں ترمیم اور گلگت بلتستان آرڈر 2018کی صورت میں نکلا تاہم اس بار صورتحال کچھ یوں مختلف تھی کہ مشرف کے مواخذے کی کاروائی پہ پنڈی والوں نے کنٹینر ڈی چوک پہنچا دیا اور یوں کشمیر میں ایک نئے ہیرو کو پروموٹ کیا جانے لگا ہیرو کیا تھا ہابیل ہی سمجھیں اس بت کی کرامات کو آشکار کرنے کے لیے پورے کے پورے میڈیا ہاوسسز خریدے گے مخالفت کرنے والوں پہ عرصہ حیات تنگ کیا گیا اور یوں بھکاو میڈیا اور بندوق کے بل بوتے پر عمران خان مسند اقتدار فائز ہوئے اقتدار میں آنے میں چند دن کے بعد قتل کے مقدمات میں دیت ادا کرنے والے کو پنجاب کا وزیر اعلی بنائے جانے اور کابینہ میں مشرف کی باقیات اور کرپٹ وزرا کی شمولیت بھی لائق تحسین ٹھہرے۔

انکی اہلیہ کے سابق شوہر کو ناکے پہ روکے جانے پر ڈی پی او کو معطل کرنا بھی احسن اقدام ٹھہرا۔ ریلوے کے کرایوں، بجلی اور کھاد کی قیمت میں نمایاں اضافہ بھی قابل قبول۔ اب صورتحال یہ ہے کہ عمران پہ کسی قسم کی تنقید غداری کے زمرے میں آتی ہے اور بندہ نون لیگ کا ایجنٹ قرار دیا جاتا ہے۔ ان کے قرار میں آتے ہی مظفرآباد میں بھی ہلچل ہے اور فاروڈ بلاک بننے اور حکومت کی تبدیلی کے اشارے ہیں یعنی کہ ماضی کے مقابلے میں اب کہ چراغ بیگ اسلام آباد میں بیٹھ کر اپنی کٹھ پتلی کو مظفر آباد میں بٹھاتا ہے اور پنڈی سے اسلام آباد میں بٹھائے گے کشمیریوں کے چراغ بیگ کی تعظیم کشمیریوں پہ لازم ٹھہری ہے اب آتے ہیں ریاست جموں کشمیر میں انقلاب اور آزادی کے دعویداروں کے طرز عمل پر ان میں اکثریت میں غیر ریاستی تنظیموں کے خلاف ہیں لیکن جب ان غیر ریاستی جماعتوں کو کشمیر میں مسلط کیا جا رہا ہوتا ہے تو یہ اس کے مضر اثرات کو قوم اور نوجوانوں کو آگاہ کرنے کے بجائے غیر جانبدار رہ کر اس عمل کی تائید کر رہے ہوتے ہیں۔

پیپلز پارٹی، ن لیگ کے بعد اب پی ٹی آئی کو کشمیریوں پہ مسلط کیا جا رہا ہے لیکن اگر کوئی اس عمل کے مخالف ہو اور نہی مسلط کردہ پارٹی سے نوجوانوں کو دور رکھنے کے لئے حقائق سے باخبر کرنے کی کوشش کرے تو انکا استدلال ہوتا ہے تمھیں پاکستان کے سیاسی معاملات میں دخل دینے کی کیا ضرورت ہے تم فلاں پارٹی میں شامل ہو جاو بہرحال جب پی ٹی آئی ان لوگوں کی خاموش تائید سے اقتدار کے مسند پہ فائز ہو گی تو کچھ عرصہ بعد نجی محفلوں میں کچھ یوں گفتگو ہو رہی ہو گی غیر ریاستی جماعتوں نے بڑی تباہی مچائی ہے رہی سہی کسر پی ٹی آئی نے نکال دے گی مزید کچھ عرصہ بعد لیڈر صاحب تقریر کر رہے ہوں گے۔

ریاست جموں کشمیر ہماری ماں ہے اور ہم پی ٹی آئی کو اسے تقسیم کرنے گلگت بلتستان اور کشمیر کو صوبہ بنانے کی اجازت نہیں دیں گے الحاق کی بات کرنے والے دہلی اور اسلام آباد میں اپنی قبروں کی جگہ ڈھونڈیں اور نیچے سے تالیوں کی گونج اور مقرر کی تعریف اور حب الوطنی کی پذیرائی کی جائے گی ٹھیک اسی وقت کچھ دانشور نو عمر طلبا کو لیکچر دے رہے ہوں گے ہماری ناکامی کی وجہ یہ ہے کہ ہم ساری عمر الحاق نواز تنظیموں کے خلاف کام کرنے کے بجائے آزادی پسند پارٹیز کے خلاف کام کرتے رہے ساتھ بیٹھا دانشور کا ساتھی تحسین آمیز نگاہوں سے طلبا کی طرف دیکھا کر دل ہی دل میں کہے گا دیکھا کتنا قابل آدمی ہے مگر شاہد قلم کی حرمت کی پاس کرنے والا ان سے اتفاق نہ کرے اور چراغ بیگوں کا پجاری کہتے ہوئے لکھے سانپ نکلنے کے بعد لیکر پیٹنے والی قوم سچ ہے غلامی جسمانی نہیں زہینی معذوری ہوتی ہے