وقاص احمد

ایک ذاتی واقعہ سناتا ہوں۔ ابھی دو تین ہفتہ پہلے دائیں ہاتھ کی ایک انگلی پر والی بال کھیلتے ہوئے مجھے چوٹ لگ گئی جس کی وجہ سے میں کافی عرصہ سے کچھ لکھ بھی نا پایا۔ لیکن میرے والی بال کھیلنے کی وجہ بہت ہی مذیدار ہے۔ ہماری کمپنی میں سالانہ کھیلوں کے موقع پر مختلف ڈیپارٹمنٹس کے درمیان مختلف کھیلوں کے مقابلے منعقد ہوتے ہیں۔ میرے مینیجر کو اطلاع دی گئی کہ آپ کا ڈیپارٹمنٹ اگر والی بال ٹورنامنٹ میں حصہ لینا چاہتا ہے تو آپ اپنے ڈیپارٹمنٹ سے کسی کو رابطہ کار مقرر کردیں جو ٹیم بھی بنائے۔
مینیجر نے نیچے اپنے سیکشن ہیڈز کو کہا اور ان سیکشن ہیڈز میں کسی ایک نے والی بال کو فٹ بال ٹورنامنٹ سمجھتے ہوئے مجھے ای میل کر دی کہ میں ٹیم بناؤں۔ اب مزاحیہ صورتحال یہ تھی کہ میں نے کبھی والی بال کو دیکھا تک نہیں تھا لیکن ضد لگا لی کہ کوئی بات نہیں، والی بال بھی تو بیڈمنٹن کی طرح ہوتا ہے، جس میں ہم ماہر ہیں۔ صرف شٹل کی جگہ گیند اور ریکٹ کی جگہ ہاتھ استعمال کرنا ہے۔ کھینچ تان کر ٹیم بنائی اور پریکٹس میچ کا اعلان کر دیا۔۔۔پہلے ہی دن ایک ہی انگلی پر تین دفعہ چوٹ لگی، دوسرے دن تو انگلی ہی فریکچر ہو گئی کیونکہ نا تکنیک آتی تھی نا کبھی سیکھنے کی زحمت کی تھی۔
تو اس واقعے سے چند سبق ملے۔

1- ہم دنیا میں ہر کام کرنے کے لیے نہیں بنے۔
2- والی بال کو بیڈمنٹن جیسا کھیل سمجھ کر کھیلنا ایک بیوقوفی ہے۔
3- ہو سکتا ہے کہ آپ کسی ایک کھیل کے چیمپئن ہوں، لیکن اس چیمپئن ہونے کے زعم میں وہ کھیل کھیلنا جو آپ کو کھیلنا نہیں آتا ہمیشہ نقصان کا سبب بنتا ہے۔
4- میرے سیکشن ہیڈ کی طرح دنیا میں اور لوگ بھی ہیں جو والی بال کو فٹ بال سمجھنے کی غلطی کرکے آپ کو وہ کام کرنے پر اکسائیں گے جو آپ کو کرنا نہیں آتا۔ یاد رکھیں ایسی ہر حرکت کا انجام تکلیف کی صورت میں ہی نکلتا ہے۔
5- والی بال کھیلتے ہوئے چوٹ لگوانے کے بعد میں وہ کھیل بھی نہیں کھیل پایا جس میں میں اپنے آپ کو بہترین سمجھتا تھا اور یہ میرا دگنا نقصان تھا۔

اگر آپ کو اپنے آس پاس، اپنے محلے، علاقے، شہر یا ملک میں ایسے لوگ یا ایسے ادارے ملتے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ اگر وہ اگر ایک کام کرسکتے ہیں تو اس سے بالکل مختلف کوئی دوسرا کام بھی کرنے کے اہل ہیں تو ان سے ہوشیار رہیں، ان کا اپنا انجام تو تکلیف پر ہونا ہی ہے لیکن ساتھ میں آپ کو بھی بلاوجہ تکلیف سے گزاریں گے۔ اگر آپ کو ایسے اشخاص یا ادارے ملیں جو ان کاموں کو چھوڑ کر جن کے وہ ایکسپرٹ ہیں، دوسرے کاموں میں ٹانگ پھنسائیں تو ان پر تو بالکل تین حرف بھیج کر دور رہیں کیونکہ تباہی ان سے اور یہ تباہی سے زیادہ دور نہیں ہوتے۔ اپنے ساتھ کئی دوسروں کو بھی لے ڈوبتے ہیں۔

خیر بات کہیں کی کہیں نکل گئی۔ شغل اعظم کا دور ہے، ہر روز، ہر سمت نئے سے نئے لطیفے پھوٹتے ہیں اور ان لطیفوں کو چار، آٹھ اور بارہ چاند اس وقت لگتے ہیں جب ان لطیفوں کو حق، سچ، علم و دانش کے موتی ثابت کرنے کے لیے درباری قسم کے حواریوں کے بیانات اور سوشل میڈیا پر عجیب و غریب، بے سروپا پوسٹس کا انبار لگ جاتا ہے۔ چوٹ لگنے کی وجہ سے میں پچھلے دو تین ہفتوں سے ان لطیفہ نما موضوعات پر لکھنے سے محروم رہا جس کا مجھے چنداں افسوس نہیں کہ اول تو منگو اعظم کی بابرکت موجودگی میں موضوعات کی کمی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا دوم یہ کہ شغل اعظم کے روشنی کی رفتار پر ٹرین چلانے جیسے دیگر فرمودات پر لکھنے سے کیا یہ بہتر نہیں کہ میں اپنے لان کی کرسی پر بیٹھ کر آسمان کو تکتا رہوں؟ یا پھر کبوتروں کو دانا ڈال کر ان کو کھاتے ہوئے دیکھوں یا اپنی گاڑی کے ٹائر میں سے ہوا نکال کر پھر دوبارہ بھر لوں یا پھر کچھ بھی نا کروں اور بستر پر لیٹ کر چلتے پنکھے کے پر گننے کی کوشش کروں؟
چلیں ایک لطیفہ نما واقعہ سناتا ہوں، فرضی واقعہ ہے مگر حقائق کے بالکل قریب۔

انگریزوں کے دور کی فوج کی کسی بٹالین کا کہیں کوئی دفتر تھا۔ بٹالین کی کسی یونٹ میں کوئی حوالدار صاحب تھے جو گزشتہ چار سال سے گھر چھٹی پر نہیں گئے تھے۔ سب لوگ ان کے اس رویے سے حیران تھے مگر حوالدار صاحب کا استدلال تھا کہ اگر میں چلا گیا تو بٹالین کا کیا بنے گا۔ ایک دن ایک نئے گورا کرنل صاحب بٹالین کمانڈر کے طور پر تعینات ہوئے، چند دن بعد اس حوالدار کی کہانی ان کے کانوں تک پہنچی تو ملنے کا اشتیاق ہوا۔ حوالدار کو بلوایا اور سوال کیا کہ صاب تم چھٹی پر کیوں نہیں جاتے؟ حوالدار نے جواب دیا کہ سر اگر میں چلا گیا تو یونٹ کے تمام کام بند ہوجائیں گے۔ کرنل صاحب نے پوچھا تم کام کیا کرتے ہو تو حوالدار نے بتایا کہ میں صبح سات بجے اپنی ٹیبل کرسی لیکر گراؤنڈ میں بیٹھ جاتا ہوں، میری ٹیبل پر میجر صاحب کی لکھی ہوئی اس دن کی سب کی ڈیوٹیاں پڑی ہوتی ہیں، تمام سپاہی آتے ہیں اور میں سب کو وہ کاغذات تقسیم کر دیتا ہوں۔

کرنل صاحب نے کہا کہ تم ایسا کرو کہ تین ماہ کی چھٹی پر چلے جاؤ میں تمہارے معاملات خود دیکھ لوں گا۔ تین ماہ بعد جب حوالدار واپس آیا تو دیکھا کہ کرنل صاحب نے اس کی ٹیبل کے سامنے ایک بکرا کھڑا کیا ہوا ہے جس کے گلے میں حوالدار کے رینک کی تختی لٹکائی گئی ہے، تمام سپاہی حسب معمول خاموشی سے اس ٹیبل پر جا رہے ہیں اور اپنی اپنی ڈیوٹی کے کاغذ اٹھا کر چلتے جارہے تھے۔ بالفاظ دیگر، کرنل صاحب نے حوالدار کو بتایا کہ جو کام تم کر رہے تھے وہ کام میں ایک بکرے سے بھی لے سکتا ہوں۔ (اصل لطیفے میں بکرے کی جگہ کتے کا ذکر ہے مگر کسی متوقع دل آزاری سے احتیاط اور مضمون کی لطافت برقرار رکھنے کے لیے کتے کو بکرے سے تبدیل کر دیا ہے)۔

خواتین و حضرات، یہ محض ایک لطیفہ تھا، مگر بدقسمتی سے ہمارے اصلی کرتا دھرتاؤں نے شاید اسے حقیقت سمجھ لیا۔ تو ان سے گزارش ہے کہ حضور! لطیفے کو لطیفہ ہی سمجھا کریں اور اس کی بنیاد پر ملک میں تجربے نا کریں۔ عین ممکن ہے کہ آپ کے ادارے میں کام ایسے بھی چل جاتا ہو جیسے اس لطیفے میں گورا صاحب نے چلایا مگر حکومت چلانا، پالیسی بنانا، ڈائریکشن دینا اور عوامی مسائل حل کرنا ایک سنجیدہ بزنس ہے، یہاں انسان کی جگہ حیوان کھڑا کر کے کام نہیں چلتے۔ تو دو مہربانیاں کریں اس ملک پر۔ ایک تو والی بال کو بیڈمنٹن سمجھ کر ہر اس کھیل میں ٹانگ مت پھنسائیں جو آپ کے بس کا روگ نہیں اور دوسرا یہ کہ حقیقی دنیا میں بکرے کے گلے میں حوالدار کی تختی لٹکانے سے وہ حوالدار نہیں بن جاتا بلکہ بکرا ہی رہتا ہے۔